ریپ کرنے والے کیلئے سزا کی بجائے انعام

ریپ کرنے والے کیلئے سزا کی بجائے انعام
ریپ کرنے والے کیلئے سزا کی بجائے انعام

  



جکارتہ (بیورورپورٹ) یوں تو عورت کے حقوق کی پامالی مغرب کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہوتی ہے لیکن تیسری دنیا کے ممالک میں تو عوتوں پر ظلم کرنا گویا سزا کی بجائے انعام کا باعث بن سکتا ہے۔ ظلم کا شکار ہونے والی عورتوں کی بجائے یہ معاشرے بدکردار مجرموں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور مہذب دنیا کو انڈونیشیا کی ایک عدالت کے شرمناک فیصلے نے دم بخود کردیا ہے۔ بالی نامی جزیرہ کی ایک عدالت نے ایک چودہ سالہ بچی کو متعدد بار زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرم کی سزا میں یہ کہتے ہوئے انتہائی کمی کردی کہ مجرم زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی سے شادی کیلئے تیار ہے۔ گویا کہ عدالت نے بدکردار بدمعاشوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ وہ کسی بھی معصوم بچی یا عورت کو زیادتی کا نشانہ بناسکتے ہیں اور انعام کے طور پر انہیں وہ مظلوم بچی یا عورت ہمیشہ کیلئے سونپ دی جائے گی۔ کومانگ ادنیا نامی مجرم کے لئے رعایت کا اعلان کرتے ہوئے عدالت نے اس شرمناک جرم کیلئے صرف 18 ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ اس کے ظلم کا نشانہ بننے والی بچی اس وقت سات ماہ کی حاملہ ہے۔ متاثرہ لڑکی کے بھائی نے عدالت کے سامنے انصاف کے اس قتلِ عام پر سوال اٹھایا لیکن بے سُود۔ عورتوں اور بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں نے اس فیصلے پر سخت احتجاج کیا ہے اور جج پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے بچوں کے حقوق سے متعلق قوانین کو پامال کیا ہے۔

مزید : انسانی حقوق /اہم خبریں


loading...