روس اور یوکرائن جنگ کے دہانے پر

روس اور یوکرائن جنگ کے دہانے پر
روس اور یوکرائن جنگ کے دہانے پر

  



نیویارک (بیورورپورٹ) یوکرائنی علاقوں پر روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسندوں کے قبضے کے بعد ہرگزرتے دن کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ سے کشیدہ تر ہوتے جارہے ہیں۔ مقبوضہ علاقوں کو روسی علیحدگی پسندوں سے واگزار کروانے کی ایک کاررائی سے متعدد علیحدگی پسندوں کی ہلاکت کے بعد دونوں ممالک اب ایک مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ مشرقی یوکرائن میں ہونے والی اس کارروائی کے بعد روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ اس آپریشن نے امن کی امید کو تباہ کردیا ہے۔ روسی حکومت نے کہا کہ یوکرائن کی اپنے ہی لوگوں کے خلاف فوج کشی تباہ کن ثابت ہوگی اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے فوری اجلاس کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ علیحدگی پسندوں نے دو ہیلی کاپٹروں کو مار گرایا تھا جن کے پائلٹ بھی ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے جواب نے یوکرائن نے کارروائی کی۔ یوکرائن کے عبوری صدر نے ایک بیان میں کہا کہ حملے میں شدت پسندوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ ادھر روسی حکومت کا کہنا ہے کہ یوکرائن نے انگریزی بولنے والے کرائے کے فوجیوں کو روس پسند قوتوں کے خلاف کھڑا کیا ہوا ہے جو کہ اس تنازعے میں امریکہ کے کردار کا واضح ثبوت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر روس اور یوکرین میں کشیدگی بڑھی تو یورپ اور امریکہ بھی اس کشمکش کا حصّہ بن سکتے ہیں اور اس طرح یہ صورتحال عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتی ہے.

مزید : بین الاقوامی


loading...