ایڈز زدہ خون سے میگزین کی چھپائی کیونکہ۔۔

ایڈز زدہ خون سے میگزین کی چھپائی کیونکہ۔۔
ایڈز زدہ خون سے میگزین کی چھپائی کیونکہ۔۔

  


برلن(مانیٹرنگ ڈیسک)اپنے قارئین کو ایچ آئی وی اور ایڈز کے بارے میں آگاہی دینے کے لیے جرمنی کے ایک میگزین نے اپنا تازہ شمارہ ایڈز کے مریضوں کے خون سے پرنٹ کر دیا۔مردوں کے لیے شائع ہونے والے ماہنامہ وین گارڈسٹ نے اپنے میگزین کے لیے ایڈز کے تین مریضوں کو خون کا عطیہ دینے کی درخواست کی جسے مریضوں نے اس شرط پر قبول کر لیا کہ میگزین مرض سے متعلق قائم خوف کی فضاءکو ختم کرنے میں کردار ادا کرے گا۔ میگزین کی ہر کاپی پلاسٹک میں پیک کی گئی ہے جس پر لکھا ہے ”سیل توڑو، خوف کا خاتمہ کرنے میں مدد کرو۔“

جنوبی کوریا کا ایران کے ساتھ تجارت پر عائد پابندی ختم کرنے کا فیصلہ

عملے کے مطابق میگزین کا ہر لفظ، ہر سطر، ہر تصویر اور ہر صفحہ ایڈز کے مریضوں کے خون سے پرنٹ کیا گیا ہے۔ میگزین کے اس ایڈیشن کی تشہیری مہم چلانے والی ایڈورٹائزنگ ایجنسی ساچی اینڈ ساچی سوئٹزرلیند کا کہنا ہے کہ میگزین کی پرنٹنگ میں ایڈز کے وائرس کے متعلق سخت احتیاطی اقدامات اٹھائے گئے اور یہ قارئین کے لیے 100فیصد محفوظ ہے کیونکہ قارئین کو انفکیشن سے بچانے کے لیے ہارورڈ اور انسبرک یونیورسٹی کی ہدایات کے مطابق میگزین کی چھپائی کی گئی ہے۔ میگزین کے نئے ایڈیشن کی 3ہزار کاپیاں چھاپی گئی ہیں جو آئندہ ہفتے اخبارات کے سٹالز پر دستیاب ہوں گی۔میگزین کے سرورق پر لکھا گیا ہے ”یہ میگزین ایڈز کے مریضوں کے خون سے چھاپا گیا، اب معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔“وین گارڈسٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس ایڈیشن سے لوگوں کا ایڈز کے متعلق نظریہ تبدیل ہو گا، پرانی میڈیا رپورٹس کے ذریعے اس مرض کا جو خوف لوگوں کے دلوں میں بیٹھ چکا ہے اس کا خاتمہ ہو گا اور آخر کار اس وائرس کے انسداد میں بھی مدد ملے گی۔ میگزین کی پبلشر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جولین وہیل کا کہنا ہے کہ ہماری ادارتی ٹیم میگزین میں اپنے قارئین کی دلچسپی کے موضوعات زیربحث لانے کے لیے پرعزم ہے، لائف سٹائل میگزین ہونے کے ناطے معاشرے کو درپیش مسائل ضبطِ تحریرمیں لانا ہماری اولین ذمہ داری ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس