جرمنی نے امریکہ کی جانب سے جاسوسی کیلئے دی گئی 12ہزار درخواستیں مسترد کر دیں

جرمنی نے امریکہ کی جانب سے جاسوسی کیلئے دی گئی 12ہزار درخواستیں مسترد کر دیں

 برلن(آن لائن)جرمنی کے مرکزی انٹیلی جنس ادارے نے امریکی نیشنل سیکیورٹی انٹیلی جنس ایجنسی کی درخواست پر جاسوسی کے لیے دی گئی 12 ہزار درخواستیں مسترد کر دیں ۔ جرمن جریدے ’’ڈر اسپیگل‘‘ کے مطابق حذف کی جانے والی درخواستیں یورپی ملکوں کے اہم عہدیداروں کی جاسوسی سے متعلق دی گئی درخواستیں بھی شامل ہیں۔خیال رہے کہ دو سال قبل جرمن انٹیلی جنس پر امریکی خفیہ اداروں کے لیے اہم یورپی شخصیات، کمپنیوں اور اداروں کی جاسوسی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا جرمنی کے خفیہ اداروں نے امریکی خفیہ اداروں کے لیے اپنے ملک میں اہم شخصیات اوراداروں کی جاسوسی کی تھی۔جرمن میڈیا کے مطابق ان کے ملک کے خفیہ ادارے نے فرانسیسی ایوان صدر کے عہدیداروں، وزارت خارجہ، باد ایبلنگ میں یورپی ہائی کمیشن کے ہیڈ کوارٹرز کی جاسوسی کے علاوہ آسٹریا کے حکومتی عہدیداروں کی بھی جاسوسی کی تھی۔’’ڈر اسپیگل‘‘ کے مطابق اگست 2013ء میں جرمن انٹیلی جنس کے ایک عہدیدار نے امریکی خفیہ اداروں کے لیے جاسوسی کا بھانڈہ پھوڑا تھا۔ اس عہدیدار نے انکشاف کیا تھا کہ جرمن خفیہ اداروں اور امریکی خفیہ اداروں کے درمیان سنہ 2002ء کے بعد سے باہمی تعاون کا سلسلہ چل رہا تھا اور انسداد دہشت گردی میں معلومات کے تبادلے کے معاہدے کے تحت جرمن خفیہ ادارے اپنے اور بعض یورپی ملکوں کی ایک شخصیات کی بھی جاسوسی کرتے رہے ہیں۔ جرمن عہدیدار کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے 12 ہزار اہم یورپی شخصیات کی جاسوسی کے لیے درخواستیں دی گئی تھیں۔ ان میں فرانسیسی سفارت کاروں اور یورپی یونین کے اہم عہدیداروں کی جاسوسی سے متعلق درخواستیں بھی شامل تھیں۔رپورٹ کے مطابق 14اگست 2013ء کو جرمن انٹیلی جنس عہدیدار نے اپنے حکام بالا کو ان بارہ ہزار درخواستوں کے بارے میں بتایا اور پوچھا کہ اب ان کا کیا جائے؟ تو اسے جواب دیا گیا کہ انہیں’’حذف ‘‘ کر دیا جائے۔جرمنی کے ایک دوسرے اخبار’’پیلد‘‘ کی رپورٹ کے مطابق جن دستاویزات کو حذف کیا گیا ہے وہ سنہ 2008ء اور2010ء کے عرصے کے درمیان کی ہیں تاہم جرمن انٹیلی جنس ادارے سنہ 2005ء سے جرمن ’’ایئربس‘‘ اور ’’ایئر بس ہیلی کاپٹرز‘‘ کی امریکی خفیہ اداروں کی خاطر جاسوسی کرتے چلے آ رہے ہیں۔

جرمنی خفیہ اداروں پر الزام عائد کیا گیا ہے اس نے امریکی خفیہ اداروں کی درخواست پر فرانسیسی ایوان صدر اور یورپی ہائی کمیشن کے ہیڈ کواٹرز کی بھی جاسوسی کی تھی۔جرمنی کی ایک وفاقی عدالت نے خفیہ اداروں کا ایک دوسرے ملک کے جاسوس ادارے کے ساتھ اہم شخصیات کی جاسوسی کیس تحقیقات شروع کی ہیں۔ عدالت کے پراسیکیوٹرکا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد ہی عدالت فیصلہ کرے گی کہ یہ کیس فوج داری جرم میں میں شامل ہے یا نہیں؟اخبار’’پیلد‘‘ کے مطابق جرمن چانسلر کو سنہ 2008ء میں بتا دیا گیا تھا کہ امریکا، برلن کی اقتصادی جاسوسی کر رہا ہے۔ یہ جاسوسی کسی ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ فضائی کمپنی’’ جرمن ایئر بس‘‘ کی بھی جاسوسی کی جا رہی ہے۔ تاہم انسداد دہشت گردی کے خلاف جنگ متاثر ہونے اور امریکی ناراضی کے خدشے کیپیش نظر انہوں نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔

مزید : عالمی منظر