گہرے سمندروں کا مسافر (3)

گہرے سمندروں کا مسافر (3)
گہرے سمندروں کا مسافر (3)

  


خرم قادر کی علمیت کا ذکر چھیڑتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ ایک تو تاریخ کا یہ استاد پیشہ ور ممتحن ہے ، جو میرا محاسبہ کرنے سے باز نہیں آئے گا ۔ دوسرے سوشل سائنٹسٹ کے طور پر اس شخص کی سوچیں باہم مربوط تو ہیں ہی ، اس کے ورلڈ ویو سے بھی جڑی ہوئی ہیں ۔ بظاہر خرم قادر کی یہ خصلتیں مجھ جیسے ماہر نشریات کے لئے کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئیں کہ مَیں تو محض کتاب کا فلیپ پڑھ کر ریڈیو کے لئے چار پانچ منٹ کا ’بک ریویو‘ لکھ سکتا ہوں ۔ دشواری کا اندازہ ان دوستوں کو ہے، جنہوں نے خرم کو کسی نازک سوال پر منطق کا ڈھانچہ استوار کرتے دیکھا ہو ۔ مکان تعمیر کرنے کی طرح پہلے کھدائی ، پھر ایک ایک اینٹ جوڑ کر چنائی ۔ اس سے آگے لوہا ، لکڑی اور شیشہ جڑنے کے مرحلے ، وہ بھی معمار کی بجائے سنار کی احتیاط کے ساتھ ۔ کئی بار محسوس ہوا ’ایہہ اکلے بندے دا کم نئیں‘ ۔

گو میرے سامنے تو یہ کام ہمیشہ اکیلے آدمی نے انجام دیا ، لیکن مجھ سے بڑی عمر کے بزرگوں کو یاد ہے کہ دلیل کی دیوار اٹھانے کی خاطر ایک ایک اینٹ جوڑنے کے فن میں خرم کے تایا اور ممتاز قانون دان منظور قادر کا بھی اپنا مقام تھا ۔ معروف صحافی خالد حسن نے ایک مضمون میں لاہوری اخبار نویس عبداللہ بٹ کے ساتھ منظور صاحب کی بے تکلفی کا اشارہ یہ کہہ کر دیا کہ عبداللہ بٹ ان کے سامنے ان کی مخصوص آواز میں نقل اتارا کرتے، جس سے وہ لطف لئے بغیر نہ رہ سکتے ۔ میو ہسپتال کے وکٹوریہ البرٹ وارڈ میں منظور قادر کے آخری دنوں میں عیادت کے لئے آئے ہوئے عبداللہ بٹ کو ایک مرتبہ پھر سلسلہ در سلسلہ ان کے دلائل سننے کو ملے تو انہوں نے مریض کو اسی کے لہجے میں پکارا ’شیخ صاحب ، اب جانے بھی دیں ۔ انہی باریک بینیوں نے آپ کو بیمار کر رکھا ہے‘ ۔

مَیں عبداللہ بٹ نہیں ، نہ میرا یہ ماننا ہے کہ خرم قادر کی حالیہ بیماری ان کی ذہنی عادات سے پیدا ہوئی ۔ پھر بھی ان کے طور طریقوں پر انفرادیت کی جو مہر لگی ہوئی ہے اسے سمجھنے کے لئے کچھ لازمی اجزاء کو چھیڑنا تو پڑے گا۔ سب سے پہلے وہ حرکت جو خرم کے اپنے الفاظ میں موقف ساخت کرنے کا عمل کہلائے گی ۔ کلاس روم کی بات اور ہے جہاں لیکچر طے شدہ موضوع پہ ہوا کرتا ہے ۔ عام گفتگو میں خرم اپنا یہ عمل نا محسوس انداز میں شروع کرتے ہیں ، جیسے ایشین سٹائل کی ہاکی میں میچ کی ابتدا زوردار ہٹ کی بجائے چپکے چپکے ’بلی آف‘ سے ہوا کرتی تھی ۔ میچ کا آغاز کر کے بھی ڈاکٹر خرم حریف پر گول کرنے کے لئے روایتی ہاکی ہی کھیلیں گے ، یعنی لمبا اسکوپ نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے پاس ۔ آپ کو لگتا ہے کچھ ہوا ہی نہیں، پھر یکدم چونک اٹھیں گے کہ اونٹ خیمے کے اندر ہے اور بدو باہر ۔

دوستی کے اولین دور میں تو گفتگو کے آغاز پر مجھے پتا ہی نہ چلتا کہ ہوا کیا ہے ۔ ہاں ، آدھ پون گھنٹے کا یک طرفہ مکالمہ سن کر لگتا کہ باتیں ہیں تو ذہانت پہ مبنی ، مگر حقائق کے الگ الگ سائزوں کے ٹوٹے کسی غیر معمولی طریقہ سے آپس میں جوڑے جا رہے ہیں ۔ یہ عمل سامع کے لئے کتنا طویل اور تھکا دینے والا ہوتا ، اگر بولنے والے کو اس پہ کوئی تشویش تھی تو اس کا اظہار کبھی نہ ہوا ۔ اسی لئے تو میں نے ایک دن زچ ہو کر طنز کیا ’آپ کی کوشش ہوتی ہے کہ بات دوسرے کی سمجھ میں نہ آئے اور جب محسوس کرتے ہیں کہ دوسرا اب کچھ کچھ سمجھنے لگا ہے تو آپ دلیل بدل لیتے ہیں‘ ۔ سالہا سال گزر جانے پہ میرا گماں تھا کہ خرم کی چالاکی دلائل میں نہیں،بنیادی مفروضوں میں ہوتی ہے ۔ حضرت نے سن کر تبسم فرمایا اور کہا ’اب یہ نکتہ فاش ہو گیا ہے تو اسے عام نہ کر دینا‘ ۔

تو کیا خرم شناسی کے تینتالیس سالہ مراحل میں چند جگتیں یا لطیفے ہی ہاتھ آئے ۔ جی نہیں ، میرے پاس جزوی اور کلی سچائیوں کا ایک خزینہ ہے ۔ جیسے فوری افادیت کی ایک سچائی یہ کہ ملتان اور اسلام آباد کی یونیورسٹیوں میں کئی سطحات پہ مسلسل تدریس کی بدولت خرم صاحب کے اسلوب میں اتنی لچک آ چکی ہے کہ گفتگو میں ابلاغ کے مسئلہ کی بجائے اب یوں لگتا ہے کہ،وہ کہیں اور سنا کرے کوئی‘ ۔ کہیں یہ نہ فرض کر لیجئے کہ آج کل ان کی توجہ داد بٹورنے پہ ہے یا اب وہ متن کے آدمی نہیں رہے۔ میرے مولا ، اس سے بڑی غلط بیانی ہو نہیں سکتی ۔ نہیں ، انہوں نے ذرا سی ایڈجسٹمنٹ کی ہے کہ چلو ، کیوں نہ سامعین کی سہولت کو بھی پیش نظر رکھا جائے اور اس خاطر لوگ اگر اردو کے جملوں میں انگریزی الفاظ سننا چاہتے ہیں تو ان الفاظ سے بچنے کی ضد ترک کر دینی چاہئے ۔

اس سے زیادہ خوش آئند تبدیلی خرم قادر کی گفتگو سے تحریر کی طرف بتدریج مراجعت ہے،جس کی پہلی شہادت اب سے گیارہ سال پہلے ’تاریخ نگاری ، نظریات و ارتقاء‘ کی شکل میں مل گئی تھی ۔ تحریری میڈیم اظہار کی ایک نسبتاًجمی جمائی اکائی ہے کہ اس کی بدولت مصنف کو مدعا بیان کرتے ہوئے زبان کے زیادہ محتاط اور خوشگوار چناؤ کی سہولت رہتی ہے ۔ ساتھ ہی قارئین کے لئے یہ آسانی کہ وہ دلائل و حقائق کے ڈھانچہ کو سمجھنے کے لئے توجہ کا دورانیہ اپنی مرضی سے گھٹا بڑھا سکتے ہیں ۔ چاہیں تو متن کے کسی حصہ پہ دوبارہ، بلکہ سہ بارہ غور کر لیں یا اگر پڑھتے پڑھتے اکتاہٹ کا احساس ہوا تو کتاب بند کر دی اور جب دل مانا پھر کھول لی ۔ ذاتی بات کروں تو اس اولین تصنیف کے مطالعہ میں مجھے کہیں محسوس نہ ہوا کہ خرم قادر کے دلائل میرے ذہن کی گرفت میں نہیں آ رہے ۔ میرا مسئلہ ذرا اور ٹائپ کا تھا ۔

مسئلہ یہ تھا کہ اپنی تربیت (اگر کوئی تربیت ہوئی تو) لٹریچر کے طالب علم کے طور پہ ہے ، جس کے ہاں عقلی اعتدال اور جذباتی شدت کی لہریں کبڈی کھیلتی رہتی ہیں ۔ خرم قادر نے تحریر کا سفر اس اصول کے تحت شروع کیا کہ ’ہماری رائے میں تحقیق کو اعتماد اور عدم اعتماد ، یقین اور تشکیک ، زعم اور عجز کے درمیان ایک عالم اعراف میں رہنا ہوتا ہے‘ ۔ سو ، یہ عالم اعراف ، جسے بطور مصنف خرم کے طرز فکر کی کلید سمجھنا چاہئے ، ایک ایسی غیر جانبداری کا استعارہ تھا جسے میں اپنے ذہن میں اردو تحریر کی عمومی روایت کے ساتھ جوڑ نہ سکا ۔ چنانچہ خرم کی کتاب میں پڑھتا تو میں اردو میں تھا ، پر سمجھ آتی انگریزی میں ۔ آپ کہیں گے کہ یہ کیا، لیکن دنیا بھر میں میرے مسئلہ کو سمجھنے والی دو ہی ہستیاں ہیں ۔ ایک تو بی بی سی والے عارف وقار اور دوسرے میرے اور خرم قادر کے مشترکہ استاد پروفیسر نصر اللہ ملک ۔

عارف وقار نے ایک جانے مانے پاکستانی کالم نویس کا اردو مضمون پڑھتے ہوئے کہا تھا کہ تم مانو یا نہ مانو ، یہ طبع زاد عبارت انگریزی سے ترجمہ شدہ لگتی ہے ۔ اشارہ لفظوں کے چناؤ کی طرف نہیں،بلکہ فقروں کے اندر ذیلی جملوں کی ترتیب کی طرف تھا جو ذرا انگریزی طریقے سے کھلتے اور بند ہوتے ۔ گورڈن کالج والے پرو فیسر نصر اللہ ملک سے ہمدردی کی توقع اسلوب کی بنیاد پہ کم ہے اور اس بنا پہ زیادہ کہ ان کی طبیعت میں تخلیقی افراط و تفریط کی وہ موجیں اکثر اٹھتی رہتی ہیں، جن کا لاوہ کبھی کبھار میں اپنے مزاج میں بھی محسوس کرتا ہوں ۔ اِسی لئے تو مجھ سے اقبال کا وہ شعر سن کر جس میں علامہ نے تہران کو ’عالم مشرق کا جنیوا‘ بنانے کی خواہش کی تھی ، نصراللہ ملک نے وارفتگی کے عالم میں کہا کہ بیٹا ، اسلام عرب مذہب نہیں ، عالمگیر دین ہے اور تہران غیر عرب اسلام کا ایک بڑا مر کز ہے۔

عارف وقار اور پروفیسر نصر اللہ ملک کی طرح شائد آپ بھی یہ سُن کر میرے ہمدرد ہو جائیں کہ جس محفل میں ’عالم مشرق ‘ کا جنیوا والی گفتگو ہوئی ، اس میں خرم صاحب نے کیا نقطہء نظر پیش کیا ۔ استاد محترم کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے ، جنہیں خرم کو تاریخ کے باضابطہ مضمون کی طرف راغب کرنے کا اعزاز حاصل ہے ، خرم بڑے ادب سے گویا ہوئے ’ سر ، اقبال کی اس خواہش کو سمجھنے کے لئے کہ ’تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا ‘ اس شعر کی ہسٹارسٹی یا تاریخی محل وقوع کو سمجھنا پڑے گا ، یعنی جب یہ شعر کہا گیا تو وہ کونسا سال تھا اور اس وقت ایران میں کونسی فکری یا سیاسی تحریک پھوٹ رہی تھی ‘ ۔ تو کیا خرم کا عالم اعراف اسلوب کا نہیں ، مواد یا مواد کی ترتیب کا معاملہ ہے ؟ اپنے ہی سوال کی چکا چوند سے گھبرا کر یہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ شاہد ملک تمہارا مطالعہ بس صحافیانہ نوعیت کا ہے ، تم گہرے سمندر وں میں غوطے نہ لگاؤ ۔

پر بہاالدین زکریا یونیورسٹی اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ کلچرل ریسرچ کے عہدے قبل از وقت چھوڑ کر ڈاکٹر خرم قادر نے جو تین ’سنجیدہ‘ کام کئے ہیں ، ان میں ہماتڑ قسم کے قارئین کا بھی خیال رکھا ہے۔ اِسی لئے تو سلطنت دہلی پہ زیر طبع کتاب دو جلدوں میں ہے ، مگر زمانی ترتیب کی بجائے پہلی جلد میں صرف حقائق ہیں اور دوسری میں اسی بنیاد پر مملکت سازی کا ارتقاء ۔ ہمارے خطہ میں اربنائزیشن کے عمل پہ ایک انگریزی کتاب بھی طباعت کے مرحلہ میں ہے ۔ پر خاصے کی چیز ہو گی ’پاکستانیو ں کے آبا اور تاریخی ورثہ‘ جس میں خرم قادر نے ہمارے اجتماعی وجود کے اجزاء ڈھونڈھ نکالے ہیں ۔ وہ ہیں ہمارے عرب ، ایرانی اور ہندوستانی بھائی بند ، جنہیں پاکستانیوں کی ددھیال ، ننہال اور سسرال سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ ہے نا مزے کی بات ۔ انسانی تعلق کی پہچان تو خرم قادر کو پہلے ہی تھی ، لیکن مجھے لگتا ہے کہ حالیہ بیماری کے تجربے نے ان رشتوں کو اور مضبوط بنا دیا ہے ۔

مزید : کالم