پنجاب کی انقلابی لیبر پالیسی

پنجاب کی انقلابی لیبر پالیسی

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے مانگا رائیونڈ روڈ پر ورکرز ویلفیئر کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محنت کشوں کے لئے انقلابی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے، جسے ایک طرح صوبائی لیبر پالیسی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے یہ سنگ بنیاد مزدوروں کے عالمی دن ’’یوم مئی‘‘ کے موقع پر ہونے والی تقریب کے دوران رکھا اور پُرجوش خطاب کیا۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ صوبے میں بچوں سے مشقت لینے کا سلسلہ موقوف کر دیا جائے گا اور بھٹہ خشت پر بچوں کی محنت کا سلسلہ چھ ماہ کے اندر اندر ختم ہو جائے گا۔وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ محنت کشوں کے لئے سکول، ہسپتال اور ان کو چھت مہیا کرنے کے لئے رہائشی کالونیاں بنائیں گے۔ انہوں نے یہ اعلان کر کے بہت داد لی کہ آئندہ جو بھی کالونی یا فلیٹ بنیں گے وہ قرعہ اندازی کے ذریعے حق داروں کو تو دیئے جائیں گے، تاہم وہ ان کے مالک ہوں گے اور ان کو یہ حق بھی حاصل ہو گا کہ اپنی ضرورت کے لئے اسے فروخت کر سکیں، اس کے لئے انہوں نے مثال بھی دے دی کہ اگر کسی مزدور کو کوئی فلیٹ دور الاٹ ہو جاتا ہے اور وہ اپنے کام کی جگہ کے قریب آنا چاہتا ہے تو وہ اس فلیٹ کی فروخت سے قریب تر مقام پر اپنے لئے رہائش تعمیر کرا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ اکثر انقلابی شعر پڑھتے رہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ پسماندہ عوام کی ترقی کے بغیر مُلک ترقی نہیں کر سکتا اور غربت ختم نہ ہو تو انقلاب آتے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے کمپلیکس کی تعمیر کے سلسلے میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں بہت داد لی کہ انہوں نے محنت کشوں کی توقعات سے بڑھ کر اعلان کئے۔ جہاں تک وزیراعلیٰ شہباز شریف کا تعلق ہے تو ان کی ذات سے یہ شہرت منسلک ہے کہ وہ جس کام کو شروع کرتے ہیں، ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور اسے مکمل کرا کے دم لیتے ہیں، اس لئے یہ یقین کرنا چاہئے کہ انہوں نے جو بھی اعلانات کئے، وہ سوچ سمجھ کر اور پالیسی مرتب کر کے کئے ہوں گے، اس لئے ان پر عمل درآمد میں کوئی ابہام نظر نہیں آتا۔ آج جو مزدور سرکاری الاٹ شدہ فلیٹوں میں یا لیبر کالونیوں میں رہائش پذیر ہیں، وہ ان کے مالک ہو گئے اور ان کو فروخت کا بھی حق حاصل ہو گیا۔ اس سے محنت کشوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ بے گھر صنعتی مزدوروں کے لئے ملتان روڈ پر992 فلیٹوں کی تعمیر جلد مکمل کر کے قرعہ اندازی کے ذریعے الاٹ منٹ کا وعدہ بھی جلد پورا ہو گا، اس سلسلے میں وزیراعلیٰ دُعائیں لے رہے ہیں، تاہم ان کو اپنے مزاج کے مطابق اس پالیسی کی نگرانی بھی ذاتی طور پر کرتے رہنا ہو گا۔

مزید : اداریہ