وزیرستان میں دہشت گردوں کا خاتمہ اور کراچی میں امن کی بحالی!

وزیرستان میں دہشت گردوں کا خاتمہ اور کراچی میں امن کی بحالی!

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان سے دہشت گردوں کے اڈے ختم کر دیئے گئے ہیں، کراچی میں تخریب کاری، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے، پورے مُلک میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اقتصادی راہداری کسی ایک صوبے تک محدود نہیں، اس میں سب صوبوں کا حصہ ہے، راہداری سے گلگت، بلتستان اور کشمیر کو بھی بہت فائدہ ہو گا۔ دہشت گردی کی جنگ میں100ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ وزیراعظم نے گورنر ہاؤس پشاور میں بارش اور طوفان کی ناگہانی آفت سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین میں امدادی چیک تقسیم کئے، اس سے قبل انہوں نے شمالی وزیرستان کے آپریشن ضربِ عضب کے متاثرین کی واپسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج نے شمالی وزیرستان سے دہشت گردوں کے اڈے ختم کر دیئے ہیں۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں عوام، فوج اور پولیس نے بہت قربانیاں دی ہیں۔

شمالی وزیرستان میںآپریشن ضربِ عضب گزشتہ سال جون کے وسط میں شروع ہوا تھا۔ اس علاقے میں دہشت گردوں نے تربیتی مراکز، اسلحہ فیکٹریاں اور اپنی پناہ گاہیں بنا رکھی تھیں، جہاں سے مُلک بھر میں دہشت گردی کی وارداتیں کی جاتی تھیں۔ یہ آپریشن اس لحاظ سے قدرے تاخیر سے شروع ہوا کہ جب جنرل اشفاق پرویز کیانی پاک فوج کے سربراہ تھے، تو اُنہیں بھی اِس آپریشن کی تجویز پیش کی گئی تھی، جس سے انہوں نے بوجوہ اتفاق نہیں کیا تھا۔ موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی دہشت گردی کے معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی تھی اور اس مقصد کے لئے بہت سی کاوشیں بھی کی گئیں، لیکن مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے۔ مذاکرات کے دوران بھی دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں۔ دہشت گردوں کو جہاں بھی موقع ملتا وہ واردات کر گزرتے، اِس فضا میں وہ لوگ بھی مایوس ہو گئے، جنہوں نے مذاکرات سے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور اُن کا خیال تھا کہ یہ مسئلہ خون بہائے بغیر حل کر لیا جائے گا، لیکن غالباً دہشت گرد اپنی طاقت کا غلط اندازہ لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے بعض ایسے مطالبات بھی پیش کرنا شروع کر دیئے، جن کا اُنہیں کوئی حق نہیں تھا اور نہ ہی ریاست پاکستان کے ذمہ دار اداروں کے لئے ان مطالبات کو ماننا ممکن تھا، چنانچہ ان لوگوں سے بات چیت ترک کر کے ہتھیاروں کی زبان استعمال کی گئی تو اُن کا نشہ جلد ہی ہرن ہو گیا، بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے، ان کے ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے اور ہتھیاروں کی فیکٹریاں ختم کر دی گئیں، جو دہشت گرد کسی وجہ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے، وہ علاقے سے نکل گئے، بعض نے اپنی شناخت اور حلئے بدل لئے،یوں علاقے سے چلے گئے، تاہم اِن کی باقیات نے دورانِ آپریشن بھی لاہور، کراچی اور پشاور میں بعض بڑی وارداتیں کر ڈالیں، لیکن ان کا مقدر تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اب ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے، مگر پھر بھی وہ بعض علاقوں میں اِکا دُکا وارداتیں کرتے رہتے ہیں۔چند روز قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ ان دہشت گردوں کا پیچھا کر کے ان کا صفایا کیا جائے گا۔ اب یہی عمل جاری ہے۔ آپریشن کی کامیابی اس سے عیاں ہے کہ متاثرین اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں، ان کی قربانیوں کی حکومت بھی معترف ہے اور ان کی بحالی کے لئے ہر ممکن تعاون اور تجاویز پر غور کر رہی ہے۔

جہاں تک کراچی کا تعلق ہے، اس میں شک نہیں کہ وہاں سے بھتہ خوری کی وارداتیں کم ہو گئی ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں میں بھی کمی آئی ہے، لیکن یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ ان کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ یہ کبھی بڑھ جاتی ہیں اور کبھی کم ہو جاتی ہیں۔ چند دِنوں کے اندر کراچی یونیورسٹی کے دو قابلِ احترام اساتذہ قتل ہو چکے ہیں۔ ایک سماجی رہنما خاتون سبین محمود کو بھی گھر جاتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا، پولیس افسر تو مسلسل دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے نشانے پر ہیں۔ابھی گزشتہ روز ایک ڈی ایس پی عبدالفتح ساگری، اُن کے محافظ اور ڈرائیور کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ عبدالفتح ساگری جمعرات کو ایس ایس پی ملیر(کراچی) راؤ انوار کے ساتھ پریس کانفرنس میں بھی موجود تھے۔ اُن کے قتل نے بہت سے سوالات اُٹھا دیئے ہیں اور پوچھا جا رہا ہے کہ راؤ انوار نے جن دو ملزموں کو گرفتار کر کے بتایا تھا کہ وہ ’’را‘‘ کے تربیت یافتہ ہیں اور بھارت سے آنے کے بعد پاکستان میں کارروائیاں کر رہے ہیں، کیا یہ ان کی گرفتاریوں کا ردعمل ہے کہ فوری طور پر ایک ایسے پولیس افسر کو نشانہ بنا دیا گیا جو راؤ انوار کی پریس کانفرنس میں موجود تھا۔ اس واردات کے بعد یہ اور بھی ضروری ہو گیا ہے کہ تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ پولیس افسروں کی ٹارگٹ کلنگ میں کون سا گروہ ملوث ہے؟

وزیراعظم نواز شریف کا یہ کہنا اگرچہ بڑی حد تک صحیح ہے کہ کراچی میں امن قائم ہو رہا ہے، بہت زیادہ خراب حالات کا موازنہ موجود حالات سے کیا جائے تو اُن کی بات میں وزن ہے۔ حالات اگرچہ بہتر ہیں، لیکن ٹارگٹ کلنگ کی جو وارداتیں اب بھی ہو رہی ہیں، وہ بھی ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان کے لئے لمحۂ فکریہ ہیں، جس کے ارکان جان ہتھیلی پر رکھ کر انتہائی مشکل حالات میں اب بھی امن و امان کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان ناساز گار حالات میں پولیس افسروں کی جرأت قابلِ تعریف اور ان کا جذبہ قابلِ داد ہے۔ امن و امان تو اس وقت بہتر ہو گا، جب پولیس والے محفوظ ہوں گے اگر امن قائم کرنے والے ہی محفوظ نہیں تو یہ کہنا مشکل ہے کہ شہر میں امن قائم ہو گیا ہے۔

مزید : اداریہ