پاکستان ہاکی میں کھویا مقام حاصل کرسکے گا

پاکستان ہاکی میں کھویا مقام حاصل کرسکے گا

چار ملکی ہاکی ٹورنامنٹ

فیڈریشن کی شاہ خرچیاں کھیل کی ناکامی کا سبب بن رہی ہیں

سیاست نے کھیل کو شدید نقصان پہنچایا،تلافی کرنا مشکل بن گیا

سربراہ فیڈریشن اختر رسول سیاسی اثر و رسوخ پر عہدے پر براجمان ہیں

پاکستان ہاکی ٹیم چار ملکی ٹورنامنٹ میں شرکت کے لئے ہوبارٹ میں موجود ہے اور آج آسٹریلیا کے خلاف میچ کے لئے میدان میں اترے گا طویل عرصہ کے بعد پاکستان ہاکی ٹیم کسی غیر ملکی ایونٹ میں ایکشن میں نظر آئے گی پاکستان ہاکی فیڈریشن اس وقت جس مشکلات کا شکار ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اس کے باوجود اس ایونٹ میں ٹیم کی شرکت حالات کے مطابق معجز ہ سے کم نہیں فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس سے قبل کھیلے گئے اذلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ میں ٹیم نے شرکت نہ کی تھی اور اس سے فیڈریشن کی پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی تھی اب اس ایونٹ میں حکومت کی مداخلت کی وجہ سے ٹیم شرکت کررہی ہے بہرحال آج کے میچ میں آسٹریلیا کے خلاف میچ پر شائقین کی نظریں لگی ہوئی ہیں آسٹریلوی ہاکی ٹیم اپنے ملک میں اس ایونٹ میں مضبوط ترین حریف پاکستان ہاکی ٹیم کے لئے اس کوشکست دینا آسان نہیں ہوگا لیکن اگر کھلاڑی یک جان ہوکر میدان میں اترتے ہیں تومیچ پاکستان کے حق میں ہوسکتا ہے پاکستان ہاکی اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے جب ہاکی فیڈریشن فنڈز کی کمی کا رونا رو رہا ہے اور کھلاڑی ڈیلی ویجس معاوضہ کم ملنے پر پریشانی کاشکار ہے ایسے میں کوئی بھی ٹیم کیسے اچھی پرفارمنس دے سکتی ہے ہاکی فیڈریشن کو اگر ملک میں اس کھیل کو ایک مرتبہ دوبارہ عروج پر لے جانا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ فنڈز جو موجود ہیں اس کو اپنی شاہ خرچیوں کے بجائے کھیل کی ترقی پر خرچ کرے یہ سچ ہے کہ بجٹ کی مد میں ہاکی فیڈریشن کوایک خطیر رقم کھیل اور ٹیم کی ترقی کے لئے ملتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ فیڈریشن کے اعلی عہدے دار اس رقم کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ٹیم پر نہیں خرچ کر تے جس کی وجہ سے ٹیم بدحالی کا شکار ہے اور پھر اس کے بعد جب ٹیم نے غیر ملکی دورہ پر جانا ہوتا ہے تو یہ رونا رویا جاتا ہے کہ فنڈز نہیں ہے ہاکی کو اصل میں سیاست نے برباد کرکے رکھ دیا ہے جب تک فیڈریشن میں موجود سیاسی عہدے داروں کو فارغ نہیں کیا جاتا اس وقت تک کھیل ترقی نہیں کرسکتا ہے جس کی مثال پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اس وقت کے سربراہ چوہدری اختر رسول کی ہے جو مسلم لیگ ن سے تعلق رکھتے ہیں اور انتخابات میں شکست کے باوجود ان کو حکومت نے سیاسی بنیاد پر اس عہدے پر تعینات کردیا ہے ایسا عہدے دار جس کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے ہوگا وہ تو صرف اور صرف اپنا مفاد سوچے گا اور اپنا سرمایہ بنائے گا اس کو ٹیم کی بہتری سے کیا لے نہ اور اس کی مثال یہ ہے کہ ایک طویل عرصہ سے وہ اس عہدے پر کام کررہے ہیں اور حکومت بھی ان کی ہے لیکن اس کے باوجود کھلاڑیو ں کے مسائل حل نہیں کرواسکے اور اسوقت ہاکی دن بدن تنزلی کا شکار ہے جس کی بہتری کیلئے صرف اور صرف بلند و بانگ دعوے ہی کئے جارہے ہیں اگر یہ سلسلہ اسی طرح مستقبل میں بھی جاری رہا تو وہ وقت دور نہیں ہے جب پاکستان میں ہاکی کے کھیل کا خاتمہ ہوجائے گا اور ہم اپنے قومی کھیل کو بھول جائیں گے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کھیل کو ایک مرتبہ دوبارہ ترقی پر لاے جانے کے لئے فیڈریشن میں ایسے لوگوں کو سامنے لیکر آیا جائے جو اس کھیل سے واقفیت رکھتے ہیں اور ان کو کھیل سے محبت ہے ماضی میں کئی ایسے نام گزرے ہیں جنہوں نے کھیل کے لئے بے پناہ خدمات سر انجام دیں لیکن ا ن کو اب بھلا دیا گیا ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ان کی کوئی سفارش نہیں ہے اور ان کا حکومتی جماعت سے تعلق نہیں ہے سیاست اور کھیل ایک ساتھ نہیں چل سکتے اس لئے سب سے پہلے سیاست کا خاتمہ ضروری ہے آسٹریلیا میں ہونے والا یہ ایونٹ پاکستان کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے اور اس میں ٹیم کی کارکردگی کا اندازہ ہوجائے گا کہ اس نے اس کے لئے کتنی تیاری کی ہوئی ہے اور کھلاڑیوں کی کارکرد گی کیسی ہے فیڈریشن نے حال ہی میں ہاکی ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ معاملات طے کئے ہیں جو ڈیلی الاؤنس کے حوالے سے طویل عرصہ سے چل رہے تھے فیڈریشن کے مطابق چار ملکی ہاکی ایونٹ کے بعد سینئر کھلاڑیوں کے ڈیلی الاؤنس میں اضافہ کردیا جائے گا اب اس میں کتنی حقیقت ہے یہ تو وقت آنے پر ہی معلوم ہوگا لیکن یہ ضرور ہے کہ جب تک ہم کھلاڑیوں کو ان کا حق نہیں دیں گے اس وقت تک ہم اس کھیل میں ان سے اپنی توقعات کے مطابق کارکردگی حاصل نہیں کرسکتے ہیں پاکستان میں اس کھیل کو فروغ دینے کے لئے جو دعوے کئے جارہے ہیں اس میں حقیقت کا رنگ بھرنے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے فیڈریشن اور حکومت کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اس ایونٹ میں قومی ہاکی ٹیم کو عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے آسٹریلیا کے خلاف آج کے میچ میں پوری ٹیم کو کامیابی کے لئے بھرپور محنت درکار ہے امید ہے کہ ٹیم آج ضرور کامیابی حاصل کرے گی اور اس ایونٹ میں اسی طرح عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرے گی تاکہ اس کے بعد کھیلے جانے والے ایونٹس میں اس کے اعتماد میں اضافہ ہو اور وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے قومی ہاکی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں نے بہت محنت کی ہے اور امید ہے کہ ان کی محنت ضرور رنگ لیکر آئے گی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ شہناز شیخ نے کہا کہ آسٹریلیا ایک مضبوط حریف ہے لیکن ہماری ٹیم اس کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے بھرپور تیاری کے ساتھ اس ایونٹ میں شرکت کیلئے آئے ہیں اور امید ہے کہ کھلاڑی توقعات کے مطابق کھیل کا مظاہرہ کریں گے پاکستان ہاکی ٹیم متوازن کھلاڑیو ں پر مشتمل ہے اور امید ہے کہ آج سب کھلاڑی مل کر حریف ٹیم کوشکست دیکر ایونٹ میں آگے جانے کے لئے راستہ ہموار کریں گے کھلاڑیوں کو بھرپور محنت کروائی ہے اور انہوں نے بھی بہت دل سے پریکٹس کی ہے طویل عرصہ بعد ہاکی ٹیم آج عمدہ کھیل کا مظاہرہ کرے گی کپتان محمد عمران قومی ہاکی ٹیم کے کپتان محمد عمران نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کے بقایاجات پر پی ایچ ایف سے معاملات طے پاگئے ہیں،ڈیلی الاؤنس سمیت دیگر واجب الادا رقم بھی مل جائے گی،ہمارے لیے ملک اور قوم کی عزت زیادہ اہم ہے۔قومی کپتان نے کہاکہ مالی مشکلات اور معاشی مسائل کا شکار ہمارے کھلاڑیوں کے پاس غیرملکی لیگ کھیلنے کے لیے مختلف پْرکشش معاہدوں کی آفرز موجود ہیں۔مگر ہم نے قومی جذبے سے سرشار ہوکر ملکی نمائندگی کو ترجیح دی، البتہ یہ شکوہ ضرور ہے کہ رقم نہ دینے والے وزیر اعظم میاں نوازشریف قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا پیغام ہی جاری کردیتے، اس سے کھلاڑیوں کے حوصلے مزید بلند ہوجاتے،ایک سوال پر محمد عمران نے کہا کہ آسٹریلوی ریاست تسمانیہ کی ہاکی ایسوسی ایشن کے تحت ہوبارٹ میں شیڈول سیریز کے لیے تمام کھلاڑی فٹ اور کامیابی کے لیے پْرعزم ہیں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...