الطاف حسین کا بھارت سے مدد مانگنا افواج پاکستان پر حملہ ہے ،لیاقت بلوچ

الطاف حسین کا بھارت سے مدد مانگنا افواج پاکستان پر حملہ ہے ،لیاقت بلوچ

 کوئٹہ(این این آئی ) جماعت اسلامی کے مرکزی جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی جانب سے بھارت سے مدد مانگنا افواج پاکستان پر حملہ ہے حکومت اس سلسلے میں قانون کے مطابق کارروائی کرے گوادر کاشغر روٹ متنازعہ بن گیاتو اس سے ہمارے دشمن قوتیں فائدہ اٹھائینگے وزیراعظم نے 13مئی کواے پی سی کا جواجلاس بلایا ہے سیاسی جماعتوں اور عوام کے تحفظات ختم کرنے کیلئے اقدامات کریں خارجی حوالے سے ہمارا ملک پہلے سے چیلنجوں کا شکار ہیں لیکن حکومت نے خارجی فیصلے وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیر دفاع کے ذریعے کرکے مزید چیلنجوں کا شکار کردیا ۔یہ بات انہوں نے ہفتے کے روز جماعت اسلامی کے صو بائی دفتر الفلاح ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی‘اس موقع پر جماعت اسلامی کے صو بائی امیر مولانا عبدالمتین اخونذادہ ‘صوبائی جنرل سیکرٹری بشیر ماندائی ‘حاجی عبدالقیوم کاکڑ‘صوبائی سیکرٹری عبدالولی شاکر اور مولانا مولاداد کاکڑ بھی موجود تھے لیاقت بلوچ نے کہاکہ میں چارہ روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچا ہوں طلال بگٹی کی وفات پر ان کی خاندان سے اظہار تعزیت کی نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد طلال بگٹی نے جس طرح سیاسی مسائل کو آگے لے جانے کی کوشش کی وہ قابل قدر ہے انہوں نے کہاکہ حکومت نے ایک بار پھر سیاسی جماعتیں اور عوام کو تہذب کا شکار کرکے گوادر کاشغر روٹ پرانا روٹ سے تبدیل کرلیا انہوں نے کہاکہ پہلے روٹ بلوچستان ‘خیبر پختونخوا اور پنجاب کے کچھ علاقوں سے ہوتاہوالیکن اب حکومت نے روٹ کو متنازعہ بناتے ہوئے تبدیل کرلیا انہوں نے کہا کہ اس طرح تبدیلی سے مزید پیچیدگیاں اور ہمارے دشمن ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں وزیراعظم نے اس سلسلے میں 13مئی کو جو اے پی سی طلب کی گئی ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اس اے پی سی کے ذریعے اس روٹ کے متعلق سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کریں گے انہوں نے کہاکہ گزشتہ روز الطاف حسین نے ٹی وی پر آکر افواج پاکستان کیخلاف جو زبان استعمال کی وہ بغاوت کے زمرے میں اور افواج پاکستان پر حملہ کرنے کے مترادف ہے حکومت اس سلسلے میں کارروائی کرتے ہوئے قانون کے مطابق اس کیخلاف کارروائی کی جائے تاکہ کل کوئی بھی افواج پاکستان کیخلاف نابول سکے انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں آصف زرداری اور پیپلز پارٹی الطاف حسین کی سیاسی مدد کی اور ان کو آکسیجن دینے کی بجائے ان کی حوصلہ شکنی کی جائے انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے حالات کی بہتری میں جو دعویں اور مختلف پلیٹ فارم پر زیربحث لارہی ہے ہمارے خیال میں طاقت اور قوت سے کوئی بھی مسئلہ حل ہوگا اور نہ ہی فائدہ مند ہوسکتا ہے اگر حکمران بلوچستان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں تو ناراض بلوچوں کو قوم دھارے میں لانے کیلئے اقدامات کریں اور لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ بلوچستان کے مسئلے کا مستقل بنیادوں پر کوئی حل نکل آسکے

مزید : صفحہ آخر