کیانظام انصاف اپنا کام کریگا؟

کیانظام انصاف اپنا کام کریگا؟
کیانظام انصاف اپنا کام کریگا؟

  


ایم کیو ایم کے حوالے سے پھر ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ پہلے ایس ایس پی کی پریس کانفرنس پھر ایم کیو ایم کی جوابی پریس کانفرنس پھر ایس ایس پی کا دھڑن تختہ۔ پھرا لطاف حسین کی تقریر۔ پھر فوج کے ترجمان کا اظہار ناراضگی۔ پھر الطاف حسین کی معافی۔ اسی دوران آصف زرداری کا گورنر ہاؤس جانا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی قیادت کے فوج کے حق میں بیانات۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس معافی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ اور پھر خاموشی ۔کچھ بھی تو نیا نہیں۔ یہ ڈرامہ تو ایم کیو ایم کے حوالے سے کئی سال سے جاری ہے۔سوچتا رہا کہ مسئلہ کیا ہے۔ معاملہ حل کیوں نہیں ہو تا۔ اگر ایم کیو ایم ایک محب وطن سیاسی جماعت ہے تو اسے سیاست کرنے کا پورا حق ہو نا چاہئے اگر نہیں ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئے۔ مگر صورتحال تو یہ ہے کہ معاملہ درمیان میں لٹکا ہوا ہے۔ اس کا کسی کو فائدہ نہیں ہے۔ سب کو نقصان ہے۔ لیکن یہ بھی سب کو معلوم ہے ۔ میں کوئی نئی بات نہیں کہہ رہا ۔ آخر معاملہ کا کوئی حل ہونا چاہئے۔ حل کیا ہے۔

بات سادہ اور سمجھنے کی ہے۔ کہ ہمارے ملک کا نظام انصاف کام نہیں کر رہا بالخصوص سندھ کا نظام انصاف اس تنازعہ کو حل کرنے میں نا کام ہو گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے سالہاسال سے پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں کہ انہوں نے ایم کیو ایم کے بڑے بڑے ملزم پکڑ لئے ہیں۔ لیکن ہمارا نظام انصاف ان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں نا کا م رہا۔ سینکڑوں جے آ ئی ٹی رپورٹس ہیں۔ لیکن کسی ایک پر بھی عدالتی فیصلہ نہیں ہے۔ یہی مسئلہ کی وجہ ہے اس حد تک تو ایم کیو ایم کا مقدمہ ٹھیک ہے کہ ان پر جو بھی الزام لگائے جاتے ہیں وہ عدالتوں میں ثابت نہیں ہو تے۔ اس لئے وہ الزامات صرف الزامات ہی رہ جاتے ہیں ۔ اور حقائق نہیں بن سکتے۔

یہی مسئلہ دہشت گردوں کے مقدمات کے ساتھ بھی تھا۔ ہمارے ملک کا عدالتی نظام دہشت گردوں کو بھی کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکا۔ ان کے مقدمات بھی التواء کا شکار ہوئے۔ اور کچھ دہشت گرد رہا بھی ہوئے۔ بلا شبہ عدالتوں نے بھی قانون کے تقاضوں کو پورا کرنا ہو تا ہے۔ اس لئے وہاں شارٹ کٹ ممکن نہیں۔ لیکن مقدمات کا التوا گناہ گار کو خود کو بے گناہ ثابت کرنے اور قانون سے کھیلنے کا وقت دے دیتا ہے۔ اس لئے گواہ بیٹھ جاتے ہیں۔ مقدمہ کی پیروی کرنے والے افسران ہمت ہار جاتے ہیں۔ وکلاء اپنی قانونی مہارت دکھا دیتے ہیں۔ یہی سب کچھ ایم کیو ایم کے معاملہ میں بھی ہے۔ عمران خان کسی حد تک ٹھیک کہتے ہیں کہ جب ایم کیو ایم کا کوئی کارکن پکڑا جا تا ہے تو ایم کیو ایم کی طرف سے اسے ہدایات ہیں۔ کہ سب کچھ مان لے۔ پولیس کے سامنے سب کچھ تسلیم کر لے۔ کیونکہ پولیس کے سامنے جو بھی بیان دیا جائے اس کا عدالت میں کوئی وزن نہیں۔ ملزم آسانی سے پولیس کے سامنے دئے گئے اپنے بیان سے مکر جا تا ہے۔ اور کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ یہ درست ہے کہ پولیس کی تفتیش میں خرابیاں ہیں۔ لیکن چونکہ یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ پولیس کی تفتیش ناقص ہے ۔ اس لئے اس کی مقدمہ کی سماعت میں اہمیت ہی ختم ہو گئی ہے۔ یہی بنیادی مسئلہ ہے۔ کہ میڈیا تو پولیس کی تفتیش کو اہمیت دیتا ہے لیکن عدالت اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔

فوج کے ترجمان نے الطاف حسین کے بیان کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ اس سے پہلے بھی رینجرز نے الطاف حسین کے ایک بیان پر ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ لیکن بعد میں یہ ایف آئی آر بھی گول ہو گئی۔ اگر رینجرز نے مقدمہ درج کروایا ہے تو اس پر کارروائی ہونی چاہئے ورنہ مقدمہ درج ہی نہیں ہو نا چاہئے۔ اب بھی اگر کچھ نہیں ہوا تو ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بالخصوص فوج کی قدر میں کمی ہو گی۔ پاک فوج کوئی سیاسی ادارہ نہیں ہے۔ اس کا کام بیان بازی کرنا نہیں ہے۔ پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے الطاف حسین کی تقریر پر رد عمل غیر معمولی بات ہونی چاہئے۔ یہ معمول نہیں ہو سکتا۔

ہماری نظام انصاف کے ذمہ داران سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں۔ یہ درست ہے کہ انہیں ملٹری کورٹس کے قیام پر تشویش ہے۔ لیکن وہ یہ بھی دیکھیں کہ بالخصوص کراچی کے معاملات جس نہج پر پہنچ گئے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے دارے عملا بے بس نظر آرہے ہیں۔ اب تو کسی حد تک فوج بھی بے بس نظر آرہی ہے۔ ایم کیو ایم بھی بے بس نظر آرہی ہے۔ کیونکہ نظام انصاف اپنا کام نہیں کر رہا ۔ نظام انصاف نہ تو ملزم کو بے قصور قرار دے رہا ہے اور نہ ہی اسے مجرم قرار دے رہا ہے۔ نظام انصاف کے قائدین کو کراچی کے حوالہ سے ایک مربوط حکمت عملی بنا نا ہو گی۔ مقدمات میں تاخیر کو ختم کرنا ہو گا۔ ورنہ ملک و قوم کو بڑا نقصان ہو جائے گا۔ جب تک را کے ایجنٹ کو عدالت را کا ایجنٹ قرار نہیں دے گی۔ معاملہ پھنسا ء رہے گا۔ عدلیہ کو یہ بوجھ اپنے سر پر اٹھانا ہو گا۔

ہماری درخواست ہے کہ چیف جسٹس پاکستان ۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ۔ کراچی کے مقدمات کے حوالہ سے ایک مربوط پلان بنائیں تا کہ اس بحران کو ختم کیا جا سکے۔ ورنہ ملک و قوم کا بڑا نقصان ہو جائے گا۔

مزید : کالم