کے اے ایس بی بینک کو بینک اسلامی میں ضم کرنے کا فیصلہ، گورنر سٹیٹ بینک اور وزیرخزانہ کی ’لڑائی‘ کی کہانی سامنے آگئی

کے اے ایس بی بینک کو بینک اسلامی میں ضم کرنے کا فیصلہ، گورنر سٹیٹ بینک اور ...
کے اے ایس بی بینک کو بینک اسلامی میں ضم کرنے کا فیصلہ، گورنر سٹیٹ بینک اور وزیرخزانہ کی ’لڑائی‘ کی کہانی سامنے آگئی

  


کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)KASBکے معاملے پر گورنر سٹیٹ بینک اشرف محمود وتھرا اور وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے درمیان جاری کشمکش کی کہانی سامنے آگئی ہے ،  وزیرخزانہ اسحاق ڈاردیوالیہ ہونے والے KASB بینک کو چینی سرمایہ کاروں کے حوالے کرنا چاہتے تھے لیکن اشرف محمود وتھرا نے اسے بینک اسلامی میں ضم کر دیا۔

اشرف محمود وتھرا اور ان کی ٹیم کے مطابق چینی سرمایہ کار ملک کے بینکنگ قوانین کے تحت میرٹ پرپورے نہیں اترتے تھے اس لیے انہیں مسترد کیا گیا۔ دو چینی کمپنیوں ایشیاءانٹرنیشنل فنانس لمیٹڈ اور سائبرناٹ انویسٹمنٹ گروپ نے کسب بینک کے شیئرزکا بڑا حصہ خریدنے کے لیے الگ الگ مرکزی بینک سے رابطہ کیا تھا۔ 2014ءکے آخر میں ایشیاءانٹرنیشنل فنانس لمیٹڈ نے کسب بینک کے 50فیصد شیئرز خریدنے کے لیے درخواست کی جو مرکزی بینک نے ان کی درخواست مسترد کر دی تھی۔فروری 2015ءمیں چیئرمین کسب گروپ آف کمپنیز ناصر علی شاہ بخاری کی کوششوں پر سائبرناٹ گروپ نے بینک میں 50ملین ڈالر سرمایہ کاری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ، گروپ آئندہ 12ماہ میں سرمایہ کاری 100ملین ڈالر تک لیجانے پر بھی رضامند تھا لیکن اسے بھی مسترد کر دیا گیا۔

اگرچہ متنازعہ بنائی گئی ڈیل کی منظوری آخرکار وزیرخزانہ اسحاق ڈار ہی کو دینی ہے لیکن مرکزی بینک کے فیصلے کو رد کون کر سکتا ہے جو میرٹ پرKASB بینک کو بینک اسلامی میں ضم کر کے میڈیا میں اپنا کیس مضبوط بنا چکا ہے۔ حال ہی میں مرکزی بینک کے ترجمان عابد قمر نے دیگر حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرکزی بینک نے کسب بینک کو بینک اسلامی میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ بینک کے 1لاکھ50ہزار کھاتہ داروں کے 57بلین روپے کے اثاثے محفوظ رکھنے کا واحد یہی طریقہ تھا۔ جیسا کہ کسب بینک کو بینک اسلامی میں ضم کرنے کے فیصلے پر بہت سے لوگوں کو حیرت ہوئی، یہ بھی ممکن ہے وزیرخزانہ اسحاق ڈار مرکزی بینک کے چیئرمین کے اس فیصلے کو منظور نہ کریں جس سے چینی سرمایہ کار پریشان ہوئے۔

مزید : بزنس /اہم خبریں