اے ٹی ایم کا پن کوڈ چار ہندسوں پر مشتمل کیوں ہوتاہے ؟وجہ جان کر آپ ہنسنے پر مجبور ہو جائیں گے

اے ٹی ایم کا پن کوڈ چار ہندسوں پر مشتمل کیوں ہوتاہے ؟وجہ جان کر آپ ہنسنے پر ...
اے ٹی ایم کا پن کوڈ چار ہندسوں پر مشتمل کیوں ہوتاہے ؟وجہ جان کر آپ ہنسنے پر مجبور ہو جائیں گے

  


گلاسگو (نیوز ڈیسک) ہم سب Pin کوڈ کے استعمال اور اہمیت سے واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ بیشتر  چار اعداد پر مشتمل ہوتا ہے، مگر کیوں؟ اس کا جواب دنیا میں صرف ایک شخص کو معلوم تھا اور ان انہوں نے اب یہ راز سب کو بتا دیا ہے کہ ہم سب آج  چار اعداد پر مشتمل کوڈ ان کی بیگم کی وجہ سے استعمال کرتے ہیں ۔ یہ صاحب جان شیپر ڈبیرن ہیں جو اب 82 سال کے ہوچکے ہیں اور آج کل سکاٹ لینڈ میں اپنے چھوٹے سے مچھلی فارم سے مچھلیاں چرانے والے شریرسی لائنز کو ان کی شرارتوں سے باز رکھنے کیلئے کوئی حل ڈھونڈ رہے ہیں۔

شیپرڈ بتاتے ہیں کہ جب انہوں نے اے ٹی ایم مشین کی ایجاد کے بعد Pin کوڈ کی ایجا د کے بارے میں سوچا تو باورچی خانے میں کام کرتی اپنی بیگم صاحبہ سے بات کی۔ جب وہ فوج میں تھے تو ان کی پہچان ایک نمبر تھا جس میں چھ اعداد تھے اور اگرچہ انھیں یہ سارے اعداد یاد تھے لیکن ان کی بیگم کو ان میں سے صرف چار اعداد یاد تھے، اور انہوں نے کہا کہ چھ ہندسے یاد رکھنا کافی مشکل ہے  اور یہی وجہ تھی کہ شیپرڈ نے  Pin کوڈ کے لئے اپنی بیگم کی یاداشت کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف چار اعداد مقرر کئے۔

مچھروں کو کون سا بلڈ گروپ سب سے زیادہ پسند ہوتا ہے؟سائنسی تحقیق میں انکشاف

اس سے پہلے شیپرڈ اے ٹی ایم مشین بھی ایجاد کر چکے تھے۔ آج ہمیں رات گئے رقم کی ضرورت پیش آجائے یا کہیں دور دراز علاقے میں سفر کے دوران اچانک رقم درکار ہو تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اے ٹی ایم مشین کتنی بڑی نعمت ہے۔ ہم مشین میں کارڈ ڈال کر رقم نکالتے ہیں اور سکھ کا سانس لیتے ہیں لیکن کبھی اس عظیم شخص کے بارے میں نہیں سوچتے جس نے یہ مشین ایجاد کرکے ہماری زندگی پر بہت بڑا احسان کیا۔

شیپرڈ کہتے ہیں کہ ایک دن وہ غسل کررہے تھے کہ ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اگر گاہکوں کو چاکلیٹ مشین سے مل سکتے ہیں تو ایسی مشین کیوں نہیں بنائی جاسکتی جو رقم ادا کرسکے۔ انہوں نے اپنا آئیڈیا بارکلے بینک کی انتظامیہ کو بتایا تو وہ فوراً اس مشین کی تیاری اور استعمال کیلئے تیار ہوگئے۔

مردہ انسانی جسم کے ساتھ سمندر میں کیا ہوتا ہے ؟ سائنس نے بتا دیا

پہلی مشین آج سے 40 سال قبل بارکلے بینک کی شمالی لندن میں واقع این فیلڈ برانچ میں لگائی گئی اور اس سے رقم نکالنے والے پہلے شخص ٹی وی فنکار ریگ وارنی تھے۔ شیپرڈ بتاتے ہیں کہ ان دنوں پلاسٹک کے کارڈ نہ ہوتے تھے اس لئے مشین سے پیسے نکالنے کیلئے چیک ہی استعمال ہوتے تھے جن پر ہلکا سا کاربن 14 لگایا جاتا تھا۔ مشین چیک اور Pin نمبر کا موازنہ کرکے رقم ادا کرتی تھی۔

پہلے پہل بہت مسائل پیدا ہوئے اور کچھ مشینیں لوٹی بھی گئیں لیکن پھر یہ نظام بہت بہتر ہوگیا۔ انہوں نے یہ پیشن گوئی بھی کی ہے کہ آئندہ تین سے پانچ سال میں کرنسی نوٹوں کا استعمال ختم ہوجائے گا اور ہر قسم کی لین دین کیلئے موبائل فون استعمال ہورہے ہوں گے۔

انکی ایجاد کردہ اے ٹی ایم مشین تو دنیا کی کامیاب ترین ایجادات میں شمار ہوتی ہے لیکن وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سی لائینز کو ڈرانے کیلئے بھی ایک مشین ایجاد کی لیکن اس کی آواز سن کر وہ اور زیادہ تعداد میں آنے لگے ہیں اور ان کی مچھلیوں کیلئے خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس