صرف ایک درخواست دیں اور جلا وطنی سے بچیں

صرف ایک درخواست دیں اور جلا وطنی سے بچیں
صرف ایک درخواست دیں اور جلا وطنی سے بچیں

  



دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) یو اے ای عدالتوں سے ڈی پورٹ کرنے کی سزا پانے والے تارکین وطن کے لیے خوشخبری، یو اے ای کے ایک معروف وکیل نے کہا ہے کہ ملک سے نکالے جانے کی سزا پانے والے افراد امارات کے حکمران کے دفتر میں ایک درخواست دے کر سزا سے بچ سکتے ہیں، لیکن ایسا صرف مخصوص کیسز میں ممکن ہے۔

وکیل عبدالنصر نے یہ باتیں مقامی اخبار امارات الیوم کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک غیر ملکی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہیں۔ غیر ملکی نے سوال کیا تھا کہ اس کے 23سالہ بھائی کو منشیات رکھنے کے جرم میں ڈی پورٹ کرنے کی سزا دی گئی ہے، کیا وہ اپنی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے تک یو اے ای میں رُک سکتا ہے؟وکیل نے کہا کہ یو اے ای کی عدالتوں کی طرف سے دی گئی سزائیں حتمی ہوتی ہیں کیونکہ ملک کا عدالتی نظام مکمل طور پر آزاد ہے۔ڈی پورٹ ہونے کی سزا پانے والے غیر ملکی کا ملک حالت جنگ میں ہو، اس کی جان کو وہاں خطرہ ہو یا اس کا سارا خاندان یواے ای میں مقیم ہو اور اس کے اپنے ملک میں اس کا کوئی رشتہ دار نہ ہو، مجرم کم عمر ہو یا طالب علم ہو ،ان صورتوں میں سزا پانے والا شخص یو اے ای کے حاکم یا پبلک پراسکیوٹر کو معافی کی درخواست لکھ کر سزا سے بچ سکتا ہے۔مجرم کواپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے درخواست کے ساتھ اپنی دستاویزات و ثبوت بھی لف کرنے ہوں گے۔

مزید : بین الاقوامی