آئندہ بجٹ میں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیا جائے، لاہور چیمبر

آئندہ بجٹ میں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیا جائے، لاہور ...

لاہور (این این آئی) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ محمد ارشد نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ وفاقی بجٹ 2016-17ء میں بڑے آبی ذخائر کی تعمیر کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کرے کیونکہ ان سے نہ صرف وافر اور سستی ہائیڈل بجلی پیدا ہوگی بلکہ فوڈ سکیورٹی کے خدشات سے بھی چھٹکارا ملے گا۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی طلب بڑھتی جارہی ہے جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی مستقبل میں فوڈ سکیورٹی کے مسائل پیدا کرسکتی ہے ، ان دونوں مسائل کا حل بڑے آبی ذخائر کی تعمیر ہے ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نہ صرف وفاقی بجٹ میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز مختص کرے بلکہ اس کی تعمیر کے لیے بھی جلد راہ اہموار کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نو ملین ہیکٹر سے زائد وہ زرخیز زمین زیر کاشت لانا ہوگی جو پانی نہ ہونے کی وجہ سے بیکار پڑی ہے، اس کا واحد حل کالاباغ ڈیم ہے لہذا حکومت بغیر کسی دباؤ کے فوری طور پر اس اہم منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو خوراک مہیا کرنے کے لیے زرعی پیداوار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ایک زرعی ملک ہونے کی حیثیت سے ہم وسیع پیمانے پر پانی کے ضیاع کے متحمل نہیں ہوسکتے جبکہ پانی کے ذخائر پہلے ہی تیزی سے کم ہورہے ہیں، پانی کی قلت سے صرف زرعی شعبہ ہی نہیں بلکہ مینوفیکچرنگ سیکٹر بھی بْری طرح متاثر ہورہا ہے کیونکہ پانی بجلی کے حصول کا ایک بہت اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی معیشت کا دارومدار زرعی شعبے پر ہے جو پانی کے بغیر بقاء کی جنگ نہیں لڑ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے دراصل پاکستانی قوم کے مفادات کی مخالفت کررہے ہیں،کالاباغ ڈیم نہ بننے دینا آئندہ نسلوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ سیاسی جماعتوں کو کالاباغ ڈیم کی اہمیت کا ادراک ہوا ہے مگر ضروری ہے کہ وہ اس کی تعمیر کے لیے عملی اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم کی مدد سے صوبہ سرحد کی آٹھ لاکھ ایکڑ زمین کو زیرِکاشت لایا جاسکے گا جو دریائے سندھ کی سطح سے سو ڈیڑھ سو فٹ بلند ہے، یہ زمین اُسی صرف میں زیر کاشت لائی جاسکتی ہے جب دریا کی سطح بلند ہو اور یہ کالاباغ ڈیم کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر الماس حیدر اور نائب صدر ناصر سعید نے کہا کہ ڈیٹا کے مطابق گذشتہ پچھتر سالوں کے دوران دریائے سندھ میں اوسط پانی 146ملین ایکڑ رہا ہے جبکہ سالانہ اوسطاً 30ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں پھینک دیا جاتا ہے حالانکہ یہ پانی ذخیرہ کرکے آبپاشی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اپنے آبی وسائل سے خود فائدہ نہیں اٹھائیں گے تب تک ہم دوسروں سے اپنا حق نہیں مانگ سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کالاباغ ڈیم پر تمام شکوک و شبہات کا خاتمہ ریفرنڈم کے ذریعے کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند سالوں کے دوران خیبرپختونخوا اور سندھ میں سیلاب نے جو تباہی مچائی ہے اْس سے اْن لوگوں کو سبق سیکھ لینا چاہیے جو کالاباغ ڈیم کی مخالفت کررہے ہیں۔

مزید : کامرس