سیاستدانوں کا احتساب

سیاستدانوں کا احتساب
 سیاستدانوں کا احتساب

  


پاکستان میں سیاست دان بہت مظلوم ہیں۔ جس کو دیکھو ان کے پیچھے پڑا ہے سارے قانون، سارے ضابطے اور اخلاقی معیارات صرف ان کیلئے ہیں جو خود قانون سازی کرتے ہیں۔ ہر کوئی توقع رکھتا ہے کہ کوئلوں کی دلالی جیسا کام کرنے والے سیاستدانوں کے ہاتھ اتنے صاف ہوں کہ کوئی داغ ان کے اوپر نہ ہو۔ صادق اور امین ہونے تک ساری بندشوں اور حدود پر پورا اترنا بھی انہی کیلئے فرض اولین ہے۔ روزمرہ کی انجام دہی میں بھی وہ اتنے باکردار ہوں کہ اخلاقیات کا منبع نظر آئیں۔ وہ تو خود کو چاہے عوام کے نمائندے سمجھیں یا نا سمجھیں چونکہ عوام انہیں اپنے قیمتی ووٹ سے منتخب کر کے اقتدار کے ایوانوں میں بھیجتے ہیں اس لیے اپنا نمائندہ قرار دے کر ان پر استحقاق جتانا بھی اپنا حق سمجھتے ہیں ۔

کوئی بھی سیاستدان بھلا ایسا کیوں چاہے گا کہ اس کا عوام سے ناطہ ٹوٹ جائے جن کے دم پر یعنی ووٹ سے اس کی دنیا شاد اور آباد ہے وہ ان سے دوری اختیار کر کے اجڑ جائے اس کی مت ماری گئی ہے۔ ایسا ممکن نہیں بلکہ ان سیاستدانوں کو ہم سب نے باور کرانا ہوتا ہے کہ وہ میرے اور آپ جیسے عام انسان ہیں ۔ ان کوکوئی سرخاب کے پر نہیں لگے انکے مسائل بھی وہی ہیں جو ہمارے ہیں ہاں البتہ وسائل کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ان کے بارے ایسی بے پرکی اُڑائی جاتی ہیں کہ یہ الیٹ کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس بے تُکے تاثر کو رد کرنے کیلئے سیاستدانوں کو ہر سال اپنے اثاثہ جات کے گوشوارے جمع کرا کے خود کو اپنی اور عوام کی نظر میں شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ سیاست دان ہونے کے جرم کے باعث وہ اپنی سفید پوشی کا بھرم بھی قائم نہیں رکھ سکتے۔ انتخابات میں حصہ لینے کیلئے ان کو کاغذات نامزدگی میں اپنی کسمپسری کی داستان سننا پڑتی ہے اور پھر رُکن سینٹ، قومی یا صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کیلئے اسی ایکٹ کی دفعہ-A 42 کے تحت انہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں ہر سال نہ صرف اپنے بلکہ اپنی اہلیہ اور زیرِ کفالت بچوں کی مالی حیثیت بیان کر کے سرِ بازار اپنا گریبان چاک کرنا پڑتا ہے۔

اچھی بھلی شان و شوکت اور ٹھاٹھ باٹھ والی زندگی کا سارا کچا چٹھا بیان کر کے ثابت کرنا پڑتا ہے کہ ہر قیمتی چیز سونا نہیں ہوتی ان بے چارے سیاستدانوں کو اپنے عزیز و اقارب او رعوام کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا ہے کہ وہ جن امپورٹڈ گاڑیوں میں گھوم پھر رہے ہیں وہ گاڑیاں تو کسی نے ان کو تحفے میں دی ہیں یا کسی نے اللہ واسطے تب تک استعمال کیلئے دے رکھی ہیں جب تک اقتدار کا سورج غروب نہیں ہوجاتا حالیہ گوشواروں کے مطابق ایسے سیاستدانوں کی تعداد 112اور ایوان بالا میں 35ہے کہ ان کی پسماندگی کی تفصیلات دیکھ اور سن کر ان پر ترس آجائے اس سے زیادہ بے چارگی اور مفلسی کیا ہوگی کہ عوام کے 446نمائندوں میں سے دو تہائی کے پاس سر چھپانے کو اپنی چھت نہیں۔ ہمارے سیاستدانوں پر سب سے گھٹیا الزام جو ہے وہ اپنی آمدنی کے مطابق ٹیکس قومی خزانے میں جمع نہیں کراتے ایسے الزام عائد کرنے والوں کو پہلے ان کے گوشوارے دیکھ لینا چاہیے کہ ان میں سے اکثریت کا نہ تو کوئی کاروبار ہے نہ ہی ذریعہ آمدنی وزیر اعظم سے لیکر تحریک انصاف کے چئرمین عمران خان اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کسی کے گوشواروں کی جانچ پڑتال کر لیں بس زرعی زمین سے تھوڑی بہت آمدنی آجاتی ہے اور اس پر جتنا ٹیکس بنتا ہے وہ ایمانداری سے ادا کر دیتے ہیں اور یہ تو اللہ کی خاص برکت ہے کہ کوئی کاروبار نہ ہونے کے باوجود سیاست دانوں کے مجموعی اثاثے سالانہ بنیادوں پر پھل پھول جاتے ہیں۔ شاید سیاست دان ہونے کی قیمت چکانا پڑتی ہے ہمارے ہاں سیاست دان ہی نہیں بلکہ سرکاری افسران اور کاروباری حضرات بھی اس قسم کی ٹیکس چوری میں ملوث ہیں ان کا معیار زندگی ان کی کمائی سے مطابقت نہیں رکھتا۔ہمارے ہاں اہم سیاسی لوگ اس وقت ایک ہی کشتی میں سوار ہیں جو کرپشن کے طوفان میں پھنسی نظر آرہی ہے۔ بڑے لوگ تحقیق کے لئے تیارنہیں ہیں۔ جمہوریت نے سرکاری اداروں کی آزادی سلب کر رکھی ہے۔ اگر ملک کے سرکاری ادارے اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیں تو ہماری اشرافیہ اور بہت سے سیاست دان ہیرو سے زیرو ہو جائیں گے مگر جمہوریت کی کرسی پر بیٹھ کر عوام کو بنیادی حقوق سے محروم کیا جا رہاہے۔

مزید : کالم