بنگلہ دیش میں ہندو کے قتل کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

بنگلہ دیش میں ہندو کے قتل کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

ڈھاکہ (این این آئی)دہشتگردوں کی انٹرنیٹ پر سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے انٹیلی جنس گروپ سائٹ نے بتایا کہ شدت پسند گروپ داعش نے بنگلہ دیش میں ایک ہندو درزی کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔بنگلہ دیش میں حکام کے مطابق تلواروں سے مسلح کم ازکم دو حملہ آور تانگیل ضلع کے گاون دوبیل میں نیکھیل چندرا کی دکان پہنچے اور اس پر حملہ کیا۔حملہ آور نیکھیل کو شدید زخمی حالت میں چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گئے تھے۔سائٹ کے مطابق داعش نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ نیکھیل نے مبینہ طور پر پیغمبر اسلام کی توہین کی تھی۔2012ء میں اس ہندو درزی کو مقامی مسلمانوں نے ایسے ہی الزامات کے تحت تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

ایک مقامی پولیس افسر اسلم خان نے بتایا کہ مسلمانوں کی طرف سے شکایت کے بعد نیکھیل کو گرفتار بھی کیا گیا اور وہ تقریباً ایک ماہ تک جیل میں بھی رہا۔

مزید : عالمی منظر