ٹی وی تماشہ

ٹی وی تماشہ
ٹی وی تماشہ

  


پاکستان میں کیسی زبردست صحافت ہو رہی ہے، سب ہی دیکھ اور سن رہے ہیں۔ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر منقسم آراء آرہی ہیں۔ سندھ اسمبلی میں سر عام نمائش کے لئے پستول لے جانے والا جو واقعہ پیش آیا ، اس پر کراچی میں اسمبلی کارروائی کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی بھاری اکثریت بھی تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ اقرار الحسن نجی ٹی وی چینل اے آر وائی میں ملازم ہیں۔ وہ اس قسم کے پروگرام کرنے کی جستجو میں نہ جانے کیا کچھ کر جاتے ہیں۔ ان کے چینل نے اس کارروائی پر دیگر تمام خبروں کو ایک طرف رکھ دیا اور صرف اس واقعہ پر ہی نشریات چلاتے رہے ۔ یہ روش ہمیں کس طرف لے جا رہی ہے؟ سیاسی رہنماؤں سے بیانات لئے گئے۔ اپنے ہمدرد صحافیوں سے تبصرے حاصل کئے گئے۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ کیا ٹی وی رپورٹرں کا اپنے ہاتھوں میں مائکروفون رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہر پابندی سے مبرا ہیں۔ جہاں چاہیں گھس جائیں۔ کسی کا گھر ہو یا دفتر، کوئی نجی محفل ہو یا سرکاری اجلاس۔ اپنے تئیں اثتثنا ء حاصل کر لیا جاتا ہے۔ یہ کیسا معیار ہے ؟ آخر یہ صحافت کی کون سے صفت ہے کہ آپ اسمبلی میں جائیں اور کسی شخص کو ساتھ لے جائیں اور جب سیکورٹی والے چیک کریں تو آپ اس کو اپنا ساتھی قرار دیں۔ سندھ اسمبلی کی رکن کلثوم چانڈیو جو اس واقعہ کی عینی شاہد ہیں، کہتی ہیں کہ جب سیکورٹی والوں نے اس شخص کو روکا تو اقرار الحسن نے کہا کہ یہ شخص ان کے ساتھ ہے۔ ذرائع ابلاغ سے تعلق کی بناء پر اگر آپ بار بار کسی ایک ہی مقام پر جاتے ہیں تو سیکورٹی والے عموما آپ کو بلا روک ٹوک جانے دیتے ہیں۔ لیکن کیاا س کا مقصد یہ ہے کہ آپ تمام ضابطوں کو عبور کر لیں۔ ضابطوں اور مروج قواعد کو بالائے طاق رکھنے کا رواج عام سا ہو گیا ہے۔ صرف صحافی نہیں بلکہ سیاست داں بھی اس بیماری کا شکار ہیں۔

یہ درست ہے کہ پاکستان میں جگہ جگہ سیکورٹی سے غفلت سر زد ہوتی ہیں جن کا لوگوں نے بار بار مظاہرہ دیکھا ہے۔ نقصانات اٹھائے ہیں لیکن کسی ٹی وی پروگرام کے لئے ڈرامہ رچانا کتنا جائز ہے ، ذرائع ابلاغ کو اس کا جائزہ لینا چاہئے۔بعض چینل مائکروفون کی سہولت کا خوب خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں کیوں کہ یہ بولنے کی صحافت ہے ۔ مقام کا لحاظ کئے بغیر داخل ہونے کا عمل، الفاظ کا چناؤ، اس کی گرامر، تلفظ، ٹہراؤ، پر غور ہی نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ ریٹنگ کی صحافت ہے ۔ ایک چینل کے ساتھ کچھ ہو تو دوسرا کچھ نہیں بولتا خاموش رہتا ہے یا پھر اس واقعہ کے خلاف بولتا ہے۔ اقرار الحسن نے حیدرآباد میں مئی 2015 میں ایک پروگرام کیا تھا۔ وہ ایک ایسے محلے میں جا گھسے تھے جہاں ان کے مطابق فحاشی کے اڈے چل رہے تھے۔ وہاں جھگڑا ہو گیا۔ اقرار نے مقدمہ درج کرایا۔ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں موجود ہے اقرار الحسن کو اپنی بات تسلیم کرانے کے لئے عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف بیان کرنا چاہئے لیکن مقدمہ کی پیروی اب تک نہیں کی گئی ہے ۔

سوشل میڈیا پر جو پوسٹ اس واقعہ پر تبصرے میں رکھی گئی ہیں ان میں سے ایک میں کہا گیا ہے کہ ’’ اکثر لوگ کام کی دْھن میں غلط راستے کا چناؤ کرکے ناکام ہو جاتے ہیں بلکہ ان کی وجہ سے دیگر کئی افراد بھی ناکامی و رسوائی کا سامنا کرتے ہیں۔اقرار الحسن کی لگن محنت میں کوئی شک نہیں مگر کبھی ایسا بھنڈ مارتے ہیں کہ سوچ کرہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ہم صحافی کسی بھی دفتر جاتے ہیں تو امید رکھتے ہیں کہ دروازے پر روکنے کے بجائے ہمیں پروٹوکول دیا جائے گا اور بادل نخواستہ ہمارے رعب کو تسلیم نہ کیا جائے تو ہم احتجاج کی صورت بن جاتے ہیں۔اقرار الحسن نے ریلوے کے بعد سندھ اسمبلی میں بھی اسلحہ و سیکورٹی کی خبر بنانی چاہی جس کے لئے وہ پستول لئے اسمبلی ہال پہنچ گئے۔اور پستول کا ’’ تحفہ ‘‘ اسپیکر اسمبلی کو پیش کردیا۔جس کے بعد اب ان کو جواباً آرام باغ تھانے میں آرام کے لئے لے جایا گیا ہے۔

سندھ اسمبلی کے اجلاسوں و کارروائیوں کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کی رائے یہی ہے کہ اقرار الحسن نے یہ کام کرکے کوئی صحافتی خدمت انجام نہیں دی ہے بلکہ صحافیوں کے لئے ایک نئی بحث و مشکل کو جنم دیا ہے ‘‘ ۔ایک اور پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ اقرارالحسن بظاہر ایم کیوایم کے رہنما خواجہ اظہارالحسن کے ایماء پر اپنے سہولت کار صحافی کے ذریعے سیکیورٹی گارڈ کے ہمراہ سندھ اسمبلی میں داخل ہو ئے اور اپنے عمل کو از خود ایوان کی سیکیورٹی کا بھانڈہ پھوڑ دینے کے مترادف قرار دیدیا۔ موصوف کو سہولت کار صحافی کی وجہ سے مرکزی دروازے سے اندر جانے کی اجازت ملی جبکہ اس موقع پر گارڈ نے مزاحمت بھی کی۔ اب ایوان میں کسی صحافی کو بغیرچیکنگ اندر جانے کی اجازت نہیں ملے گی ۔ پہلے صحافیوں کا چہرہ ان کی ضمانت تھا, شناختی دستاویزات اور اجازت نامہ تک طلب نہیں کیا جاتا تھا اور اقرارالحسن نے سیکورٹی کی اسی سہولت کا ناجائز فائدہ اٹھایا ۔ اجازت نامہ ہونے کے باوجود کسی صحافی کو بھی فلور پر جانے کی اجازت نہیں ہوتی مگر اقرار الحسن نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی, جب گارڈ رکاوٹ بنا تو اسے دھکا دے کر اندر داخل ہو گئے ۔ صحافیوں سے متعلق ایک اور پوسٹ سوشل میڈیا پر ادھر سے ادھر گھوم رہی ہے۔ صحافیوں اور ٹی وی اینکر پرسنز نے بھی اسے پڑھا ہوگا۔ اس میں سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہ بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض سے کس کس نے کتنی کتنی رقم حاصل کی ہے۔ اس تحریر میں بنکوں کے اکاوئنٹ نمبر بھی دئے گئے ہیں۔ اس پوسٹ میں جن جن افراد کے نام موجود ہیں انہیں اس کی تردید اور مذمت کرنا چاہئے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے بھی قوم سے 22 اپریل کو خطاب کے دوران ذرائع ابلاغ کے حوالے سے بھی گفتگو کی تھی۔ وزیراعظم نے ذرائع ابلاغ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کا میڈیا ایک آزاد میڈیا ہے جس کی مثال بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں بھی کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس میڈیا نے بڑی جدوجہد کے بعد اپنے آپ کو آمریت کی زنجیروں سے آزاد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے قابل احترام بہن بھائیوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ خود آپ میں سے کئی لوگ اکثر ایسی بہتان تراشیوں اور جھوٹے الزامات کا شکار ہوتے ہیں اور ایسے میں میری آپ سے یہی درخواست ہوگی کہ کسی بھی پاکستانی کے خلاف کوئی الزام شائع یا نشر کرنے سے پہلے خود کو اس کی جگہ پر رکھ کر سوچیں اور فیصلہ کریں کہ آپ کو کیا لکھنا اور بولنا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ابھی تو کمیشن (پاناما لیکس کے حوالے سے ) قائم ہی نہیں ہوا اور کچھ لوگوں نے اپنی عدالت لگا کر فیصلہ بھی صادر کر دیا ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ایسا انصاف وہ اپنے معاملہ میں چاہیں گے ‘‘ ؟ ۔۔۔اس تماش گاہ میں ذرائع ابلاغ جس طرح تقسیم ہوئے ہیں وہ بہت ہی افسوس ناک ہے۔ سب ہی خمیازہ بْھگتیں گے۔جمہوریت کا جو حشر ہو رہا ہے وہ بھی عوام کے سامنے ہے۔

مزید : کالم