پانی مستقبل کی ضرورت ،آبی ذخائر بنائے جائیں!

پانی مستقبل کی ضرورت ،آبی ذخائر بنائے جائیں!

  

ماہرین آبی وسائل کافی عرصے سے حکومتوں، سیاسی راہنماؤں، انتظامیہ اور عوام کی توجہ آنے والے ادوار میں پانی کی افادیت اور قلت کی طرف دلا رہے ہیں۔ حال ہی میں ایک مجلس مذاکرہ میں کہا گیا ہے کہ آئندہ دو دہائیوں میں پانی کی افادیت میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ مجلس مذاکرہ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مستقبل میں پانی کی قلت کا سامنا ہوگا اور جنگیں اسی مسئلہ پر ہوسکتی ہے، جبکہ حالات پر قابو نہ پایا گیا تو سیاسی محاذ آرائی کا موضوع بھی پانی ہی ہوگا۔ماہرین کی یہ آرا عرصہ سے سننے میں آرہی ہیں، حتیٰ کہ عالمی سطح پر بھی پانی کی افادیت پر روشنی ڈالی گئی اور تحفظات بھی ظاہر کئے گئے ہیں، پاکستان پر تاحال اللہ کا کرم ضرور ہے لیکن تھر اور چولستان جیسے علاقوں کے علاوہ دور دراز کے دیہات اور ہمارے بالائی علاقے اس نعمت کے لئے ترستے اور ان کو تگ و دو کرنا پڑتی ہے، جبکہ ہماری حکومتوں اور حکام کو اس صورت حال کی اتنی فکر نہیں، جتنی ہونا چاہئے۔پاکستان کو دریائی پانی کی قلت کا سامنا تو اپنی جگہ ہے لیکن بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی بھی خلاف ورزی شروع کر رکھی ہے اور ڈیم بنا کر پاکستان کو پانی کی قلت سے دوچار کر رہا ہے۔ ہم اپنے مفادات کا تحفظ کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے، اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔پانی ایک حقیقت ہے، مستقبل اور حال میں اس کی ضرورت سے انکار نہیں، لیکن ہمارے ہاں مفید اور مستقبل کے لئے بہتر منصوبے بھی سیاست کی نذر کر کے انہیں متنازعہ تر بنا دیا گیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی کو ذخیرہ اور محفوظ کرنے کے لئے تمام منصوبے تکمیل پذیر ہونے چاہئیں۔ سیاسی قیادتوں کو غور کرنا اور حکومت کو مجبور کرنا چاہئے کہ وہ مستقبل کے لئے منصوبے بنا کر اُنہیں مکمل کرے۔

مزید :

اداریہ -