’’آواز دے کہاں ہے‘‘

’’آواز دے کہاں ہے‘‘

صفورا شاہد

میرے عزیز و محترم بھائی میجر جنرل سید احتشام ضمیر کا ناگہانی ابدی سفر اہل خاندان کے لئے ہی نہیں بلکہ عسکری، علمی و فکری، ملکی و ملی حلقوں کے لئے بھی ایک سانحہ عظیم ہے۔ احترام آدمیت و انسانیت کی بلند روایات و اعلیٰ اقدار کو زندہ و جاوید رکھنے والا، اعزاء، رفقاء و احباب کے دلوں میں گھر کرنے والا، مادر ملت کی خاطر خاک و خون کے معرکوں کو سر کرنے والا آج سپرد خاک ہوچکا ہے۔ اظہار رنج و ملال کے لئے الفاظ معدوم اور قوت بیان شل ہے۔ بھتیجے عزیزم سید علی احتشام ضمیر کی نوجوان مرگ، بعد ازیں محترم و مشفق احتشام بھائی کی رحلت المیہ در المیہ، سانحہ در سانحہ اور وہ بھی یکے بعد دیگرے۔ ایک ناقابل تلافی زیاں ۔۔۔ گو کہ پیمانہ صبر لبریز ہے۔ مگر ہم سب اپنے اپنے طور پر ایک دوسرے سے اظہار غم بھی کر رہے ہیں اور طفل تسلیاں بھی دے کر غم کا بوجھ بانٹ رہے ہیں۔ مگر دو سال کا ایک مغموم و معصوم شیر خوار بچہ جو اپنے دلی جذبات، احساسات و تاثرات کے بیان سے قاصر ہے۔ اس بچے کے لئے ان کا یکدم منظر زیست سے غائب ہو جانا حقیقتاً دشوار گزار مرحلہ ہے۔ دراصل اس معصوم مصطفی علی کا دکھ درد، رنج و الم سب سے سوا ہے۔

میں نے اس چشم سوگوار، شکستہ لہجے، الجھے رویے، متلاشی نظروں کا جو مشاہدہ کیا وہ میرے دکھ درد کو فزوں تر کر گیا۔ میں نے اس کے جذبات و احساسات اپنے اور اہل خاندان کے غم کی ترجمانی اس کی زبان سے سپردِ قلم و قرطاس کی ہے۔

میں نے سادات کے معزز و مکرم خاندان میں آنکھ کھولی۔ میرے پردادا کا خانوادہ دینی و مذہبی اقدار کا حامل ہے۔ میرے پردادا کے جد امجد اپنی صوفیانہ، انکسارانہ، درویشانہ اوصاف و اقدار کی بدولت قابل معزز و محترم سمجھے جاتے تھے۔

میرے جد امجد کے سرخیل و سرتاج میرے پردادا ایک نابغہ روزگار ادیب و شاعر تھے۔ جن کی ملی و عسکری، علمی و ادبی خدمات ان کی حب الوطنی کی آئینہ دار ہیں۔ ان کی پروقار، قدآور شخصیت نے اپنی امانت و دیانت، محنت و ریاضت کے بل بوتے پر بین الاقوامی و آفاقی ادیب و شاعر کا مقام و مرتبہ حاصل کیا۔

میرے پردادا میجر سید ضمیر جعفری کے علمی و ادبی اور عسکری ورثہ کو میرے دادا میجر جنرل سید احتشام ضمیر نے مہمیز لگائی اور اپنی خداداد صلاحیتوں، انتھک جدوجہد سے پاکستان فوج کے اعلیٰ رتبہ پر فائز ہوئے۔ انہوں نے ضمیر جعفری کے ’’متاع ضمیر‘‘ کو اپنی بذلہ سنجی و ظرافت، نئے رخ و زاویوں سے زندہ و تابندہ رکھا۔ میرے مکرم والد سید علی احتشام ضمیر اپنے آباء کے علمی و ادبی، عسکری ورثہ کی بدرجہ اتم پیروی نہ کرسکے۔ البتہ انہوں نے سادات خاندان کی اعلیٰ ظرفی، خاندانی نجابت، درویشی و سخاوت، عجز و انکسار، شرم و حجاب میں اپنی مثال آپ قائم کی۔

میں صد فکر و نازاں تھا کہ میں نے نیک دل معززومحترم گھرانے میں جنم لیا۔ میں گھر بھر کی آنکھ کا تارا، راج دلارا تھا۔ میں اپنے پاپا کی محبت و چاہت بھری رسیلی یادوں کو اپنے فہم وادراک پر نقش کرنے کے خوشگوار عمل سے گزر ہی رہا تھا کہ میرے شفیق وجیہ پاپا اس جہان فانی سے گزر گئے۔ میرے اہل خاندان پر ان کی جو ان ناگہانی موت کا مہیب پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ میں حیران و پریشان سوچتا۔ پاپا نامعلوم کہاں چلے گئے وہ گھر کیوں نہیں آتے۔ مجھے گود میں کیوں نہیں اٹھاتے۔ میری کم عمری اور شیرخوارگی نے آہستہ آہستہ ننھی منی خوشیوں بھری یادیں میرے ذہن سے محو کر دیں۔ اس خلاء کو میرے دادا نے اپنی محبت بھری آغوش سے پر کر دیا اور میرے دادا، میرے دادا کم اور دوست زیادہ بن گئے، دوست کیا بلکہ میرا سایہ بن گئے، اپنے نوجوان بیٹے کی سب محبتیں، شفقتیں، الفتیں، ان کی ذات میں سمٹ چکی تھیں۔ بیٹھے کی یادوں کو زندہ جاوید رکھنے کے لئے مجھے زندہ جاوید محبت و مقام، لاڈ پیار دینا ان کے لئے ناگزیر ہو چکا تھا۔ ان کی صبحِ نو کا آغاز میری دید شنید سے ہوتا، میرے لئے ضروریاتِ زندگی سے لے کر ضروریات تعیش، نادر و نئے کھلونے لانا میری جائز، ناجائز ضدیں ماننا، میرے ناز نخرے اٹھانا ان کی دلی خواشی اور اولین ترجیح بن چکا تھا۔ میں علی الصبح بھاگتا ہوا دادا کی مشفق آغوش میں ہوتا۔ ہم دونوں فٹ بال کھیلتے اور پھر سٹڈی روم کا رخ کرتے۔ ان کے سٹڈی روم میں محفوظ کردہ مختلف نوعیت کے کھلونے، رنگ برنگی گاڑیاں، سپر مین، بین ٹین، نکالتا اور ہم دونوں پہروں، ہنستے مسکراتے، کھیلتے، لڑتے جھگڑتے، کھاتے پیتے بالآخر شام ڈھل جاتی یہ میرا اور دادا کا سیر سپاٹا کا ٹائم ہوتا۔ ہم دونوں کرکٹ کھیلتے، باکسنگ کرتے، مارکیٹ سے چاکلیٹ آئس کریم کھاتے تا وقت کہ میں تھک ہار کر ان کی گود میں محوِ خواب ہو جاتا۔ یہ سلسلہ کتنا حسین دلفریب و دلکش چل رہا تھا۔

ایک دن میں اپنی ماما کے پاس سویا ہوا تھا۔ بیدار ہوتے ہی میں حسب معمول سیڑھیوں سے اتر کر دادا کے سٹڈی روم کی طرف بڑھا۔ مگر میری ماما جانی نے مجھے جلدی سے دبوچ لیا اور واپس اوپر میرے کمرے میں لے گئیں۔ میں حیران و پریشان چیختے چلانے لگا۔ میری ممی جان (میری دادی) مجھے بہلانے اور بچکارنے لگیں۔ مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ سب اہل خانہ کسی پریشانی اور پرابلم میں ہیں۔ میں رو دھو کر بہل گیا۔ مناہل باجی، سیف بھائی اور سالار مجھے کار میں گھومانے لے گئے۔ شام کو ماما جانی کے ساتھ میں نچلی منزل پر آیا تو حسب دستور سٹڈی روم کی طرف لپکا۔ مجھے دادا سے ملے اتنے زیادہ گھنٹے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ دادا کتنا انتظار کر رہے ہوں گے، واہ واہ کتنا مزہ آئے گا�آج میں ان کے ساتھ کلب جاؤں گا ہم خوب مزہ کریں گے مگر یہ کیا۔۔۔۔۔۔؟ دادا کا سٹڈی روم تو لاک ہے۔ اس کے شیشوں پر اخبارات چسپاں ہیں۔ کیوں آخر کیوں؟ مجھے عجب سی تشویش نے گھیر لیا۔ دادا کبھی سٹڈی روم کو لاک نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کا انتظار روم ہے۔ یہاں وہ میرا انتظار کرتے، یہ ہم دونوں کا (Play Room) ہے۔ یہ درد و کرب روم ہے جہاں وہ میرے بابا مرحوم علی احتشام ضمیر کی سنہری یادوں کو سگریٹ کے کڑوے کسیلے دھویں سے دھند لانے کی سعدی لا حاصل کرتے۔ یہ ان کا کتب خانہ ہے۔ جہاں وہ اپنے نامور والد گرامی ضمیر جعفری کے ادبی ورثہ ’’متاعِ ضمیر‘‘ کے لئے کالم نگاری میں مصروف کار نظر آتے۔ اس سٹڈی روم کو ’’بیٹھک‘‘ کا درجہ بھی حاصل ہے۔ جہاں دادا، دادی، میری ماما میرے مرحوم پاپا، میرے چاچا، میری چاچی، میری پھوپھیاں، میرے انکل، میرے دادا کی بہنیں، خادانی شادیوں، عائلی مسرتوں، پریشانیوں، ماضی کی خوشگوار یادوں مستقبل کے منصوبوں پر پہروں بحث و مباحثے کرتے کبھی غمزدہ ہوتے۔ یہ دادا کے دوستوں کی نشست و برخاست، آمد و رفت، علمی و ادبی سیاسی مباحثوں، میل ملاقاتوں، رت جگوں کا مرکز بھی تھا۔ جہاں جنرل نیازی اور جنرل میلہ کا خصوصاً میلہ لگا رہتا۔ یہ مطالعہ گاہ میرے پیارے دوست میرے دادا اور میری پیاری دادی کی سنہری محبت و رفاقت بھری یادوں کا محو رو مشاورت روم بھی تھا۔ جہاں وہ پہروں بیٹھ کر اپنی نوجوانی کی شیریں یادوں کو شیئر (Share) کرتے اور اولاد کے مستقبل کے تانے بانے بنتے ادھیڑتے سمیٹتے نظر آتے۔ یہ میرے دادا کی چھوٹی سی آرٹ گیلری بھی تھی جہاں میرے پر دادا، میری پردادی، میرے دادا، میری دادی، میرے پردیسی دادا، میرے چچا، میرے بابا و ماما اور پھوپھیوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔

میں اس مقفل مطالعہ روم کے روبرو دم بخود کھڑا اندر جانے کی تدابیر سوچ ہی رہا تھا کہ میری ماما مجھے ٹی وی لاؤنج میں لے آئیں جہاں بہت سے لوگ دادا سے متعلق محو گفتگو تھے۔ میری دادی جان میری ماما، میری پھوپھو سبھی آبدیدہ تھے۔ لوگ انہیں ڈھارس دے رہے تھے۔ پیار کر رہے تھے۔

اداسی و سوگواری کی اک گھمبیر فضا اس پر رونق گھر کے افراد و اسباب سے عیاں ہو رہی تھی۔ میری مضطرب طبیعت دادا کی دید کی متلاشی نظریں ہر سو بھٹک رہی تھیں۔ میرے رونے چیخنے چلانے، ضد کرنے، بخار ہونے، سب سے جھگڑنے الجھنے کے اسباب میرے دوست دادا کی اچانک ’’گمشدگی‘‘ سے وابستہ و بیوستہ تھے۔ ہر فرد مجھے بہلانے سہلانے کی کوشش بیکار میں مبتلا تھا۔ کبھی ماما گود میں سہلاتیں، کبھی ضمارا پھوپھو انکل باسط مھے پارک میں لئے پھرتے، شبلی پھوپو اور انکل راجو مارکیٹ گھماتے، سیف بھائی الٹی سیدھی قلابازیوں سے مجھے خوش کرنے کی کوشش کرتا۔ لیکن در اصل کسی کو میرا پرابلم سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ آج انکل سنگین نے مجھے (Water Gun) خرید دی۔ میں نے ہر ایک چھوٹے بڑے پر پانی گرا گرا کر اپنی اندرونی تپش، درد و غم اور کرب کو پر سکون کرنے کی سعید لا حاصل کی۔ سب مطمئن تھے میں بہل گیا مگر میرے قہقہوں میں پوشیدہ درد و کرب کی دبیز تہہ تک کسی کی رسائی نہ ہو سکی۔

دادا! مجھے آپ پر بہت غصہ ہے۔ میں آپ سے سخت ناراض ہوں مجھے بتائے بغیر آپ کیوں اور کہاں چلے گئے ہیں؟ مجھے کہیں بھی نظر نہیں آ رہے۔ آپ میرے دوست، میرے دادا، میرے اچھے پاپا بھی تھے۔ آپ میری آرزوؤں و ارمانوں خواہشات و تمناؤں کو پورا کرتے تھے۔ اب ان خوابوں کو کون شرمندہ تعبیر کرے گا؟

دادا میں بہت پریشان و اداس ہوں مجھے کائنات کی ہر شے بے معنی، بے وقعت، بے کیف و سوگوار معلوم دیتی ہے۔ بقول ناصر کاظمی

دل تو تیرا اُداس ہے ناصر

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

دادا، طلوع آفتاب تا غروب آفتاب میں آپ کی دید کا مشتاق ہوں۔ بقول ابن انشاء

شب بیتی چاد بھی ڈوب چلا زنجیر پڑی دروازے پر

’’کیوں اب تک تم آئے نہیں مجھ سے کرو گے بہانہ کیا؟‘‘

کبھی آپ کی صدائے بازگشت یکدم چونکا دیتی ہے۔ میرے پیچھیپیچھے، چھپتے چھپتے۔۔۔ مصطفیٰ کو ڈھونڈ لو۔۔۔ مصطفی کو ڈھونڈ لو۔۔۔

مصطفیٰ کو ڈھونڈ لو۔۔۔ اور اب میری صدائے بازگشت محو سفر ہے۔ دادا کو ڈھونڈ لو۔۔۔ دادا کو ڈھونڈ لو۔۔۔ مگر جواب میں جمود و سکوت ہے۔۔۔ آہ۔۔۔ آواز دے کہاں ہے آواز دے کہاں ہے؟

دادا! مجھے آپ پر بہت غصہ ہے۔ میں آپ سے سخت ناراض ہوں مجھے بتائے بغیر آپ کیوں اور کہاں چلے گئے ہیں؟ مجھے کہیں بھی نظر نہیں آ رہے۔ آپ میرے دوست، میرے دادا، میرے اچھے پاپا بھی تھے۔ آپ میری آرزوؤں و ارمانوں خواہشات و تمناؤں کو پورا کرتے تھے۔ اب ان خوابوں کو کون شرمندہ تعبیر کرے گا؟

مزید : ایڈیشن 1