کنول نعمان کی صحت یابی پر تقریب،حاضرین ہوئے امان اللہ کی باتوں پر لوٹ پوٹ

کنول نعمان کی صحت یابی پر تقریب،حاضرین ہوئے امان اللہ کی باتوں پر لوٹ پوٹ

حسن عباس زیدی

معروف اداکارہ اور رکن پنجاب اسمبلی کنول نعمان کی صحت یابی کے حوالے سے کلچرل جرنلسٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان نے الحمرا آرٹس کونسل کے تعاون سے الحمرا مال روڈ لاہور میں ایک تقریب کا اہتمام کیا ۔ جس میں شوبز، سیاسی اور سماجی شخصیات نے شرکت کر کے کنول نعمان سے اپنی محبت کا ثبوت پیش کیا۔تقریب میں کنول نعمان،پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سہیل ضیا بٹ، سینئر اداکار عرفان کھوسٹ، اورنگ زیب لغاری،ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراکیپٹن(ر) عطاء محمد، حسین بخش گلو، ماجد جہانگیر، شیبا بٹ، پروڈیوسر فیاض خاں، چودھری اعجاز کامران، حسیب پاشا، عنایت عابد، جرار رضوی، غفار لہری، ابرار ہاشمی، طاہر نوشاد، ثمینہ بٹ، ندیم پہلوان، کنول فیروز، انور رفیع، یامین ملک،ارشد انصاری،حاجی عبدالرزاق،امانت علی ،افضال کریم بٹ،کبیر شاہ کاظمی، طاہر بخاری،ٹھاکر لاہوری، شجرالدین،ظہیر شیخ،کے آئی خان،اے آر گل،رانا شہزاد،ماجد ملہی اور دیگر نے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔ جس کے بعد میزبانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے شکیل زاہد نے سینئر صحافی دادا طفیل اختر کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی۔طفیل اختر نے کہا کہ کنول اپنے نام کے حوالے سے واقعی کنول ہیں ان کی بیماری کا سن کر دل کو دھچکا لگا کیونکہ اداکاری کے علاوہ سیاست میں بھی کنول نے لوگوں کے دل جیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ بھی اپنی رحمت سے نوازتا ہے۔جرار رضوی نے کہا کہ کنول جب ملتان سے آئی تھیں تو میں ان سے سب سے پہلے ملا تھا اور جب ڈائریکٹر حسنین نے فلم بنانا تھی تو کنول کو ان کے پاس لے کر گیا تھا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کنول کو لمبی زندگی دے اور جس مشن پر وہ ہیں اس کو پورا کرنے کی انہیں ہمت اور توفیق دے۔کراچی سے خصوصی طور پر اس تقریب میں شرکت کیلئے آئے اداکار ماجد جہانگیر نے کہا کہ کنول میری محسن ہیں۔ میں آج زندہ ہوں تو اللہ پاک کی رحمت کے بعد کنول کی وجہ سے ہوں۔ پنجاب حکومت نے میری مدد کی ہے اور اس مدد میں کنول کا حصہ شامل ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتیں تو میں آج نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں رہتا ہوں لیکن سندھ کی حکومت نے میرے لئے کچھ نہیں کیا۔ پنجاب اور لاہور کے لوگوں کا ممنون اور مشکور ہوں۔ کنول کی بیماری کا سنا تو سکتے میںآ گیا۔ پھر ٹی وی پر دیکھا کہ ان کی صحت کے بارے میں متضاد خبریں آ رہی تھیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور میرے جیسے اور بہت سے لوگوں نے بھی دعا کی اور آج ہمارے درمیان کنول صحیح سلامت ہیں۔ یہ بس معجزہ ہی ہے۔اداکارہ شیبا بٹ نے کہا کہ کنول نے میرے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ میرے شوہر طارق جاوید کے انتقال کے بعد کنول ہی میرے لئے سہارا بنی تھیں۔ کنول بہت اچھی اداکارہ کے ساتھ ساتھ اچھی سیاست دان بھی ہیں۔ وہ بہت سے فنکاروں کی تکالیف کا مداوا کرتی ہیں۔ سینئر پروڈیوسرفیاض خاں نے کہا کہ ٹی وی ،فلم اور ریڈیو میں ان کی خدمات ہیں۔ وہ واقعی اچھی اداکارہ تو ہیں اس کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر عوام کے دلوں میں بھی بستی ہیں۔ انہی کی دعاؤں کے صدقے سے آج وہ ہم میں ہیں۔ گلوکار انور رفیع نے کہا کہ کنول واقعی دل کی بڑی اچھی ہیں، ان سے کسی کا دکھ نہیں دیکھا جاتا، وہ کوشش کرتی ہیں کہ ان کے ہاتھ سے کسی کا کام ہو جائے۔ میری دعائیں ان کے لئے ہیں۔سینئر اداکار عرفان کھوسٹ نے کہا کہ کنول جب اس فیلڈ میں آئی تھیں تو ہم اسے تسنیم کے نام سے جانتے تھے۔ وہ پہلی بار ڈرامے میں کام کرنے کے لئے اپنی والدہ کے ساتھ برقع میں آئی تھیں اور ملتان میں بچوں کو ٹیوشن بڑھانے والی’’ باجی‘‘ تھیں۔ پھر یہ کنول بن گئیں جن کو ساری دنیا جانتی ہے۔آج ہم جشن کنول منانے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں اوریہ جشن کنول ۔۔۔کنول کی صحت یابی کا۔۔۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے۔ جس نے ہماری کنول ہمیں واپس کر دی۔ ابھی اس نے بہت سارے کام کرنے ہیں، شاید اسی وجہ سے اس کی واپسی ہوئی ہے۔ کنول ایک بطخ کی مانند ہے جس طرح پانی پر بطخ تیرتی ہے۔ یہ پانی کو پتہ ہے کہ بطخ پانی میں کتنے پاؤں مار مار کر تیرتی ہے۔ اسی طرح کنول وہ فنکارہ ہے جس نے اداکاری کے میدان میں قدم جمانے کے لئے کتنے ہاتھ پیر مارے ہیں جو کسی کو نظر نہیں آتے۔ عرفان کھوسٹ نے کہا کہ میری نیک تمنائیں اور دعائیں کنول کے ساتھ ہیں۔ چودھری اعجاز کامران نے کہا کہ کنول کی صحت یابی پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ واقعی یہ کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔ پرائڈ آف پرفارمنس اورنگزیب لغاری نے کہا کہ کنول کو شروع دن سے ہی پسند کرتا ہوں، وہ اب پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو گئی ہے۔ میری اچھی دوست ہے اس کے ساتھ بے شمار کام کیا ہے۔ اس نے شوبز میں بھی نام بنایا اور سیاست کے میدان میں بھی چوکے چھکے لگا رہی ہے۔ دکھی انسانیت کی خدمت کے ساتھ ساتھ غریب فنکاروں کے مسائل کو حل کرنے کے لئے اس کی کاوشیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کو اور ہمت دے اور وہ اس کام کو مزید اچھے طریقے سے کرے۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمرا آرٹس کونسل کیپٹن (ر) عطا محمد نے کہا کہ کنول کو ٹی وی ڈراموں میں دیکھتے تھے اور پھر سیاست میں دیکھا۔ ہمیشہ انہوں نے ان غریب اور لاچار فنکاروں کی بات کی جو کسی نہ کسی مشکل کا شکار رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ یہ اپنے مشن کو اسی طرح سے جاری و ساری رکھیں گی ۔جس طرح سے پہلے تھا۔ اس موقع پر کیپٹن (ر) عطا محمد نے اپنی شاعری سنائی جو انہوں نے کنول نعمان کے نام کر دی۔کلچرل جرنلسٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان کے صدر طاہر بخاری نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ کنول کی اچانک بیماری سے بہت سے آرٹسٹوں کے چہروں پر مایوسی چھا گئی تھی اور جب اللہ تعالیٰ نے کرم کیا تو انہی آرٹسٹوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ کنول غریب فنکاروں کی آواز حکومتی ایوانوں تک پہنچانے کا ذریعہ ہے ۔وہ اپنی ہمت اور محنت کے ساتھ کئی ایسے کام کروانے میں کامیاب رہی ہیں، جو بہت مشکل تھے۔اداکارہ ثمینہ بٹ نے کہا کہ کنول ہماری بہت پیاری ساتھی ہے اس کے ساتھ ٹی وی ڈراموں میں بہت کام کیا ہے۔ آج ان کو صحیح سلامت دیکھ کر دل بہت خوش ہے۔شاعر کبیر شاہ کاظمی نے کہا کہ دل میں یقین تھا کہ کنول صحت یاب ہوں گی ۔ ہم سب فنکاروں کی دعائیں کنول کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے اداکاری سے زیادہ سیاست میں بہتر کام کیا ہے اور لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کر رہی ہیں۔خدا انہیں ہمیشہ صحت مند رکھے۔سابق صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ سیاست اور ثقافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔آج کلچرل جرنلسٹس فاؤنڈیشن آف پاکستان کی اس کاوش کو دیکھ کر بہت خوش ہوں۔ کنول نعمان واقعی تعریف کے قابل ہیں انہوں نے بہت سے فنکاروں کے مسائل حل کرائے ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوتا ہے کہ وہ اپنے خاص بندوں کو اس کے لئے چنتا ہے اور وہ کام بخوبی سر انجام دے رہی ہیں۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سہیل ضیا بٹ نے کہا کہ کنول کو صحت یاب ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔ شوبز اور سیاست کو ساتھ ساتھ لے کر چلنا بہت مشکل ہے لیکن کنول اس کو بہتر طریقے سے چلا رہی ہیں جس طرح سے انہوں نے شوبز میں ایمانداری سے کام کیا اس سے زیادہ ایمانداری سے وہ سیاست میں عوام کی خدمت کر رہی ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کنول سے کوئی ایسا کام لینا ہے جس کی وجہ سے اسے دوبارہ دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ ایک وقت تو لگا تھا کہ وہ ہم میں نہیں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے مہربانی کی۔ وہ سیاست عبادت سمجھ کر کر رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہیں۔سہیل ضیا بٹ اور دیگر فنکاروں نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ فنکاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے کنول نعمان کو پنجاب کابینہ میں شامل کریں، اتنا حق تو ان کا بنتا ہے۔ تقریب کو خوبصورت بنانے میں غفار لہری، طاہر نوشاد اور اسٹیج کے بادشاہ امان اللہ نے ہال میں موجود حاضرین کے چہروں پر ہنسی بکھیرنے کے لئے لطیفے سنائے۔ ان کی باتوں سے کنول سمیت دیگر مہمان بھی لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔ امان اللہ نے کنول کو فنکاروں کا محسن قرار دیا۔آخر میں کنول نعمان نے ان سب لوگوں خاص کر وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، حمزہ شہباز، سعد رفیق، سلمان رفیق کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے علاج کے لئے انتظامات کئے اور دعائیں کیں۔ کنول نعمان نے کہا کہ مجھے اپنے لوگوں کا کام کر کے سکون اور تسکین ملتی ہے۔ یہ دوسری زندگی بھی انہی لوگوں کے کاموں کے لئے وقف کر دی ہے جو مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2