پانامہ لیکس پربننے والا جوڈیشل کمیشن قرضہ معافی کی بھی تحقیقات کرے، میاں مقصود

پانامہ لیکس پربننے والا جوڈیشل کمیشن قرضہ معافی کی بھی تحقیقات کرے، میاں ...

ملتان (سٹی رپورٹر)امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے 1971سے لے کر اب تک 280ارب روپے کے قرضے معاف کروانے کی میڈیا رپورٹس پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ پانامالیکس کے حوالے سے بنائے جانے والے جوڈیشل کمیشن کوقرضوں کی معافی (بقیہ نمبر36صفحہ12پر )

کے حوالے سے بھی تحقیقات کرنی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی عاقبت نااندیش پالیسیوں کی بدولت لوٹ مار کابازار گرم ہے۔توانائی بحران کے باعث روزگار کے مواقع ختم ہوکر رہ گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ملک میں بلاتفریق احتساب ناگزیر ہوچکا ہے۔پاکستان کے مالیاتی اداروں سے1971سے2010کے دوران سیاستدانوں سمیت9لاکھ12ہزارپاکستانیوں نے 280ارب90کروڑ30لاکھ روپے سے زائد کے قرضے معاف کرائے گئے جس کی اصل رقم123ارب78کروڑ40لاکھ اورسود56ارب11کروڑ30لاکھ شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ پانامالیکس میں آف شور کمپنیوں کے زریعے بیرون ملک اربوں روپے کی خطیر قومی سرمایے کوبغیر ٹیکس لگانے والوں اور قرضہ معاف کرانے والوں کو ہرگز نہیں چھوڑنا چاہئے۔ جماعت اسلامی پورے ملک سے کرپشن کاخاتمہ چاہتی ہے۔ہماری کرپشن فری پاکستان تحریک بھرپور طریقے سے جاری رہے گی۔

مزید : ملتان صفحہ آخر