ویلڈن انضمام الحق۔ درست سمت میں درست فیصلے

ویلڈن انضمام الحق۔ درست سمت میں درست فیصلے
ویلڈن انضمام الحق۔ درست سمت میں درست فیصلے

  

بہت دن سے پا نامہ لیکس کے بارے میں ہی بات ہو رہی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ پانامہ لیکس کی فلم اب تب تک کوئی ڈرامائی موڑ ممکن نہیں جب تک چیف جسٹس سپریم کورٹ ایکشن میں نہیں آتے۔ اپوزیشن کے تمام اجلاس وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ، نئے ٹی او آرز سب بیکار ہیں جب تک چیف جسٹس ایکشن میں نہیں آتے۔ اگر چیف جسٹس نے کوئی ڈرامائی انٹری نہ ماری تو اپوزیشن کی فلم فلاپ بھی ہو سکتی ہے۔

لیکن پی سی بی کے نئے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے خوب انٹری ماری ہے۔ پہلے ہی جھٹکے میں قوم کی ان نام نہاد سپر سٹارز سے جان چھڑا دی۔ جن سے جان چھڑانا گزشتہ کئی سال سے عملا نا ممکن ہو گیا تھا۔ عمر اکمل، احمد شہزاد اور شاہد آفریدی کی چھٹی بلا شبہ میرٹ پر ہے۔ کرکٹ کو جاننے والا اور کرکٹ کو نہ جاننے والا دونوں ہی اس سے اختلاف نہیں کر سکتے۔ یہ تینوں کھلاڑی اب پاکستان کرکٹ پر بوجھ بن چکے تھے۔ ان کی صرف پر فارمنس ہی بری نہیں تھی بلکہ ان کا ڈسپلن بھی برا تھا۔ قوم کافی عرصہ سے اضطراب کا شکار تھی کہ آخر ان سے جان کیوں نہیں چھڑائی جا سکتی۔ پی سی بی کو ایسی کیا مجبوری ہے کہ وہ ٹیم کے بار بار ہارنے کے باوجود ان کھلاڑیوں سے باہر نہیں نکل سکتا۔ کیا ان کے علاوہ ملک میں کوئی ٹیلنٹ نہیں ہے۔ بس اب بس ہو جانی چاہئے۔ لیکن اتنا ہارنے کے باوجود بھی پی سی بی کی بھی بس نہیں ہو تی تھی۔

انضمام الحق نے اپنے بھتیجے امام الحق کو بھی منتخب نہ کر کے اپنے مخالفین کے منہ بند کر دئے ہیں۔ امام الحق بلا شبہ اچھا پلئیر ہو گا لیکن اگر انضمام الحق پہلی دفعہ میں ہی اسے ٹیم میں لے آتے تو یقیناًان کی نیک نامی داؤ پر لگ جاتی۔ اس لئے بھتیجے کو آرام دینا ہی چاچا جان اور ملک و قوم کے مفاد میں تھا۔ اس سے قبل جاوید میانداد نے اپنے بھانجے فیصل اقبال کو بار بار ٹیم میں ڈال کر کوئی نیک نامی نہیں کمائی۔ سابق چیئرمین پی سی بی لیفٹنٹ جنرل (ر) توقیر ضیا نے بھی اپنے بیٹے کو ٹیم میں شامل کر کے کوئی نیک نامی نہیں کمائی۔ اسی طرح بورڈ کے دیگر چند عہدیداروں نے بھی اپنے سفارشیوں کو جب ٹیم میں ڈلوایا ہے تب تب ان کی نیک نامی داؤ پر لگ گئی ہے۔ اس لئے انضمام الحق نے جہاں شاہد آفریدی، احمد شہزاد اور عمر اکمل کو باہر رکھ کر اچھی ابتدا کی ہے۔ وہاں امام الحق کو بھی باہر رکھ کر ٹھیک کیا ہے۔ ورنہ وہ ابتدا میں ہی متنازعہ ہو جاتے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم میں بلا شبہ ڈسپلن کا فقدان ہے۔ جعلی سٹارز اور جاہل نو دولتیوں کے رویے نے کھلاڑیوں کی عزت اور پی سی بی کی عزت خاک میں ملا دی ہے۔ کسی ایک میچ کی کارکردگی کے بعد ہم پلیئر کو سر پر بٹھا لیتے ہیں اور پھر وہ اس ایک کارکردگی کی بنیاد پر کئی سال ہمارے سر پر سوار رہتا ہے۔ ہماری درخواست ہے کہ کسی ایک میچ کی ایک حادثاتی پرفارمنس کو سامنے رکھ کر ان کھلاڑیوں کو سر پر نہ بٹھا یا جائے بلکہ روٹیشن کی ایک پایسی بنائی جائے ۔ تا کہ سب کو موقع بھی ملے۔ اور کوئی نا گزیر بھی نہ بن پائے جب تک کہ وہ خود کو عالمی سطح کا کھلاڑی نہ ثابت کرے۔ اسی طرح محمد حفیظ کو بھی معافی نہیں دی جانی چاہئے۔ وہ کوئی ایسے کھلاڑی نہیں ہیں جن کے بغیر ٹیم نا مکمل ہو۔ وہ بھی بھر پور سیاسی ہیں اور سیاست ہی کے شکار ہیں۔ سیاست نے ہی ان کی کرکٹ کو تباہ کیا ہے۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ ان کو بھی باقی تین کے ساتھ فی الحال آرام ہی دینا چاہئے۔

تا ہم یہ بات اپنی جگہ خوش آئند ہے کہ انضمام الحق ایک دین دار شخصیت ہیں۔ وہ دین کے تمام ارکان کی مکمل پابندی کرتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ کافی سخت بھی ہیں۔ لیکن ہماری ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنی دینی زندگی کو کرکٹ سے دور رکھیں ۔ کیونکہ ماضی میں جب وہ کپتان تھے تو ایسی باتیں سامنے آئی تھیں کہ بطور کپتان انہوں نے کھیل کے ساتھ دینی حوالہ سے بھی ٹیم پر سختی کی تھی۔ اور جو پلیئر دین سے دور تھے ان سے وہ ناراض رہتے تھے۔ تب بھی ان سے یہی گزارش تھی کہ دین ہر کسی کا ذاتی مسئلہ ہے۔ اور اس کی ذاتی زندگی کا اس کی پیشہ وارانہ زندگی پر اثر نہیں ہونا چاہئے۔ بلا شبہ نماز فرض ہے لیکن اگر کوئی نماز نہیں پڑتا اور اچھا کھلاڑی ہے تو اس سے اس کی کرکٹ کے کیر ئیر پر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے۔ نماز نہ پڑھنا یہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے۔

پاکستان کرکٹ کو ایک مکمل نئی شکل اور نئے چہروں کی ضرورت ہے۔ اس پر صحیح معنوں میں کلہاڑا چلانے کی ضرورت ہے۔ نئے ٹیلنٹ کو ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ ایمانداری سے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ میوزیکل چیئر کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ پرچی سسٹم کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ بلا شبہ شعیب ملک نے چند اچھی پرفارمنس دی ہیں لیکن ان کے حوالہ سے بھی پرچی کی بہت باتیں ہیں۔ اس کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ داستانیں بھی عام ہیں کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں وہ بھی ہار کی سیاست میں شریک تھے۔ اس لئے جب سب کو سزا مل رہی ہے تو انہیں بھی کسی پرچی کی وجہ سے سزا سے نہیں بچنا چاہئے۔ سزا اور جزا کا نظام انصاف پر مبنی ہونا چاہئے۔ انضمام الحق نے جو راہ اختیار کی ہے وہ مشکل ہے۔ چند دن بعد انہیں نام نہاد سٹارز کے چند حمائتی انہیں تنقید کا نشانہ بنانے لگ جائیں گے۔ یہ درست ہے کہ ان کی بنائی ہوئی نئے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم ہار بھی سکتی ہے۔ اس سے کسی معجزہ کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ اور اس ہار کو یہ نام نہاد سٹارز اپنی واپسی کے لئے استعمال کریں گے۔ لیکن انضمام الحق کو ثابت قدم رہنا ہو گا۔ تب ہی کچھ بہتری ہو سکتی ہے۔

مزید :

کالم -