حج کوٹہ کیس ،سپریم کورٹ نے سیکرٹری مذہبی امور سے پالیسی منظور ی سے متعلق جواب طلب کر لیا

حج کوٹہ کیس ،سپریم کورٹ نے سیکرٹری مذہبی امور سے پالیسی منظور ی سے متعلق ...

  

سلام آباد (آن لائن )سپریم کورٹ نے حج کوٹہ سے متعلق کیس میں سیکرٹری مذہبی امور سے پالیسی کی منظوری سے متعلق جواب طلب کرتے ہوئے سماعت آج منگل تک ملتوی کر دی ہے ، جبکہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وفاقی وزیر نے 60/40 کا کوٹہ کس بنیاد پر منظور کرایا،منظوری اس چیز کی ہوتی ہے جسکی سفار ش کی جائے ، کیا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ حکومت کے پالیسی معاملات میں مداخلت کرسکتی ہے،کیا حکومت کو پالیسی کے معاملات میں مداخلت کا اختیار ہے،سیکرٹر ی مذہبی امور عدالت کو کل آگاہ کریں کہ وزیراعظم سے منظور ہونے والی پالیسی حج کمیٹی سے دو دن میں منظور کروا سکتے ہیں ؟ کیس کی سماعت پیر کو چیف جسٹس جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی ۔ مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی تو ٹور آپریٹرز کے وکیل عابد زبیری نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ حج پالیسی کی تشکیل کے لیے 4فروری کو اعلی سطحی کی کمیٹی بنی ،2اپریل کو وزیرمذہبی امور نے وزیر اعظم سے پالیسی کی منظوری لے لی ،منظور ہوئی پالیسی کمیٹی کی بنی پالیسی سے مختلف تھی ،سعودی حکام نے بھی ٹورآپریٹرز کا کوٹہ کم نہ کرنے کی ہدایت کی تاہم وزیرمذہبی امور نے پھر بھی کوٹہ ففٹی ففٹی سے بدل کر 60/40 کر دیا اس پر حکومتی وکیل رانا وقار پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ کوٹہ کا تعین کرنا وزارت مذہبی امور کی زمہ داری ہے ،حج کا معاملہ دوحکومتوں کے درمیان ہے ،سرکاری حج نجی حج سے بہت سستا ہے ، اس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا کہ وفاقی وزیر نے 60/40 کا کوٹہ کس بنیاد پر منظور کرایا ،منظوری اس چیز کی ہوتی ہے جسکی سفار ش کی جائے کیا ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ حکومت کے پالیسی معاملات میں مداخلت کرسکتی ہے،کیا حکومت کو پالیسی کے معاملات میں مداخلت کا اختیار ہے ، دریں اثنا ء عدالت نے سیکرٹری مذہبی امور کو حکم دیا کہ وہ عدالت کو منگل کو آگاہ کریں کہ وزیراعظم سے منظور ہونے والی پالیسی حج کمیٹی سے دو دن میں منظور کروا سکتے ہیں، عدالت نے کیس کی سماعت آج منگل کو ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردی ۔

مزید :

صفحہ آخر -