صوبائی داراحکومت میں جرائم بڑھ گئے ، اشتہاریوں کی سر کو بی کی مہم ناکام

صوبائی داراحکومت میں جرائم بڑھ گئے ، اشتہاریوں کی سر کو بی کی مہم ناکام

لاہور (کرائم رپورٹر ) آئی جی پو لیس پنجا ب کی واضح ہدایا ت کے با وجود پنجا ب با لخصوص صوبائی دارالحکومت میں قتل‘ اقدام قتل، ڈکیتی، راہزنی، ڈکیتی مزاحمت قتل،اغوا برائے تاوان اور جگا وصول کرنے سمیت دیگر سنگین مقدمات میں مطلوب 30ہزارسےٍ زائداشتہاریوں کی گرفتاری پولیس کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گئی ۔انتہائی خطرناک اشتہاریوں کی شہر میں موجودگی کی بار بار اطلاعات کے باوجود84تھانوں کی پولیس سمیت سی آئی اے پولیس بھی ان اشتہاریوں پر ہاتھ ڈالنے میں بری طرح ناکام رہی جبکہ شہر کے اطراف میں پھیلے بعض فارم ہاؤسوں اور گیسٹ ہاؤسوں میں پولیس کے بعض افسران اور اہلکار شراب و شباب کی محفلیں سجانے میں مصروف ہیں جہاں قتل کی رقوم طے کی جاتی ہیں۔ جبکہ انتہائی سنگین وارداتوں میں مطلوب تین بڑے اشتہاری گروپ سمیت درجن سے زائد چھوٹے گروپوں کے اشتہاریوں نے لاہور میں اودھم مچادیا ہے جس کے نتیجہ میں صوبائی دارالحکومت میں وارداتیں خوفناک حد تک بڑھ گئی ہیں ۔ گزشتہ چار ماہ کے دوران پولیس چھوٹے موٹے اشتہاریوں کو پکڑ کر خانہ پری کرتی رہی جبکہ کسی بھی بڑے اشتہاری کو پکڑنے میں نا کام رہی ہے۔رواں سال کے پہلے چار ماہ کے دوران شہر میں قتل و غارت ، ڈکیتی کی وارداتوں اورسنگین جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا رہا جبکہ لوگ خود کوگھروں میں بھی غیر محفوظ تصور کرتے رہے۔ ایک ا علیٰ پولیس آفیسر کی طرف سے تیار کروائی گئی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال 2015کے اختتام تک صوبائی دارالحکومت میں اشتہاریوں کی تعداد25000کے قریب تھی جو کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران بڑھ کر30ہزارتک پہنچ گئی ہے۔ سب سے زیادہ اشتہاری5000ماڈل ٹاؤن پولیس کے لئے سر درد بنے ہوئے ہیں۔ اے کیٹگری کے 510، بی کیٹگری کے 3450،قتل کے87،ڈکیتی مزاحمت قتل کے 12اقدام قتل کے33ڈکیتی کے 115سرقہ بالجبرکے276اور اغوا برائے تاوان کے 18 خطرناک ملزمان عرصہ سے اشتہاری قرار دیئے گئے ہیں مگر پولیس تمام تر سہولیات اور مراعات ملنے کے باوجود اشتہاریوں کی گرفتاری کے لئے کوئی اقدام نہیں کر رہی۔ دوسرے نمبر پر کینٹ ڈویژن میں 4500 اشتہاری جن میں اے کیٹگری کے450،بی کیٹگری کے 3209 ،قتل کے136، ڈکیتی مزاحمت قتل کے5،اقدام قتل کے79ڈکیتی کے 77سرقہ بالجبر کے174اوراغوا برائے تاوان کے 18ملزمان پولیس کی عدم توجہی کے باعث شہر میں دندناتے پھر رہے ہیں۔ سول لائنز ڈویژن میں 3970اشتہاری جن میں اے کیٹگری کے207بی کیٹگری کے2348،قتل کے96، ڈکیتی مزاحمت قتل کے4، اقدام قتل کے138ڈکیتی کے50سرقہ بالجبر کے139اغوا برائے تاوان کے4خطرناک ملزمان نے اپنے گروہ تشکیل دے رکھے ہیں۔سٹی ڈویژن میں مطلوب 3680اشتہاری ملزمان میں 488اے کیٹگری، 2530بی کیٹگری، 230 قتل،ڈکیتی مزاحمت قتل کے 19 اقدام قتل74ڈکیتی کے 45 سرقہ بالجبر کے 59 اوراغوا برائے تاوان کے 25، صدر ڈویژن میں 3470اشتہاری جن میں اے کیٹگری کے490بی کیٹگری کے 2499 قتل کے128ڈکیتی مزاحمت قتل کے8اقدام قتل کے 68 ڈکیتی کے 1609 سرقہ بالجبر کے196اور اغوا برائے تاوان کے 10ملزمان،جبکہ سب سے کم اقبال ٹاؤن ڈویژن میں 2350اشتہاری ہیں جن میں اے کیٹگری کے295، بی کیٹگری کے1760،قتل کے 28ڈکیتی مزاحمت قتل کے 8 اقدام قتل کے55،ڈکیتی کے50سرقہ بالجبر کے 107 اغوا برائے تاوان کے 31خطرناک ملزمان نے پولیس کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔شہر میں اس قدر اشتہاریوں کی موجودگی کے باعث جرائم کی شرح میں دن بدن اضافہ ہو ا ہے جبکہ پولیس چارما ہ سے اشتہاریوں کیخلاف خصوصی مہم چلائے ہوئے ہے اس کے باوجود کسی بھی قابل ذکر اشتہاری کو پکڑنے میں نا کام رہی ہے۔

مزید : علاقائی