وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے پر اپوزیشن متفق نہ ہو سکی

وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے پر اپوزیشن متفق نہ ہو سکی

اسلام آباد (این این آئی) متحدہ اپوزیشن وزیر اعظم کے استعفے کے معاملے پر متفق نہ ہوسکی۔اپوزیشن رہنماؤں نے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ حکومتی ٹی او آر ز موجودہ شکل میں ناقابل قبول ہیں ،پاناما لیکس میں جتنے نام آئے ہیں سب کا احتساب ہو نا چاہیے لیکن احتساب کا آغاز وزیراعظم اور ان کے خاندان سے ہونا چاہیے ،پاناما لیکس پر جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے اور ضروری قانون سازی اپوزیشن کی مشاور ت سے کی جائے۔انہوں نے کہاکہ 1956 ء ایکٹ کی بجائے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے انکوائری کمیشن بنا کر پارلیمنٹ سے تحفظ فراہم کیا جائے ، تحقیقاتی کمیشن کے ٹائم فریم کا تعین کیا جائے ۔14 روز میں صدر مملکت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلائیں اور وزیراعظم پارلیمان کے سامنے اپنے اثاثوں کی تفصیلات دیں ایسا نہ کرنے کی صورت میں سمجھا جائے گا کہ وزیراعظم بد عنوانی میں ملوث ہیں ، اپوزیشن کا اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا آج دوبارہ 10 بجے ہو گا ۔ پیر کو متحدہ اپوزیشن کا اجلاس سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن کی رہائشگاہ پر ہوا اجلاس میں قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاؤ نے انیسہ زیب طاہر خیلی کے ہمراہ شرکت کی اجلاس میں مسلم لیگ ق کی طرف سے چوہدری شجاعت اور سینیٹر مشاہد حسین سید نے شرکت کی ۔ اے این پی کی نمائندگی میاں افتخار نے کی جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ ، قمر زمان کائرہ ، سید نوید قمر ، شیری رحمان، نے نمائندگی کی ۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے بھی اجلاس میں شرکت کی جماعت اسلامی کے پارلیمانی سربراہ صاحبزادہ طارق اللہ اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور اسد اللہ بھٹو نے اپنی جماعت کی نمائندگی کی جبکہ تحریک انصاف کے وفد میں شاہ محمود قریشی ،حامد خان، اسد عمر، جہانگیر ترین شیریں مزاری ، عارف علوی سمیت دیگر رہنما شامل ہوے ۔ایم کیو ایم کی طرف سے خالد مقبول صدیقی اور سینیٹر میاں عتیق نے اجلاس میں شرکت کی ، بی این پی عوامی کی نمائندگی اسرار اللہ زہری نے کی ۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کو پیپلز پارٹی کے سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے حکومتی ٹی او آرز پر بریفنگ دی اس موقع پر انہوں نے تمام جماعتوں کی آمد پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ آج تمام زیرک لوگ اکٹھے ہیں ملک جس صورتحال سے گزر رہا ہے اس کا شکار پہلے بھی رہا ہے اس صورتحال میں اپوزیشن کو متحد ہونے کی ضرورت ہے اور موجودہ صورتحال میں اکٹھ بھی خوش آئند ہے۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں نے پانامہ لیکس پر حکومت کی طرف سے بنائے گئے ضوابط کار کو مسترد کر دیا اور اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ پانامہ لیکس کیلئے انکوائری کمیشن 1956 ء کے قانون کے تحت نہ بنایا جائے بلکہ انکوائری کمیشن کی تشکیل صدارتی آرڈیننس کے ذریعے کی جائے ۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیاگیا کہ صدارتی آرڈیننس سے بننے والے کمیشن کو پارلیمانی تحفظ فراہم کیا جائے اور سب سے پہلے کمیشن وزیراعظم کے خاندان کی تحقیقات کرے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ اپوزیشن نے کمیشن عدالتوں پر معاملہ نہ چھوڑا تو کامیابی ہو گی اپوزیشن میں اتفاق رہا تو اچھے نتائج نکلیں گے ٹائمنگ بہت اہم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب کڑے احتساب کی ضرورت ہے احتساب نہ ہونے کی وجہ سے جمہوریت کو چھوٹی سی آندھی سے بھی خطرہ رہتا ہے موجودہ صورتحال میں کوئی الزامات کی زد میں آئی حکومت ملک کو نہیں چلا سکتی اگر ہم کچھ بھی نہ کریں پھر بھی یہ حکومت خود اپنی موت مر جائے گی لیکن اپوزیشن کو اب عوام کے جذبات کی ترجمانی کرنی ہو گی ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں تحریک انصاف کی طرف سے بنائے گئے ٹی او آرز کی کاپیاں شرکاء میں تقسیم کیں جس کا اجلاس میں جائزہ لیا گیا ۔

مزید : صفحہ اول