نائن الیون رپورٹ کے 28صفحے خفیہ ہی رہنے چاہئیں :سی آئی اے ڈائریکٹر

نائن الیون رپورٹ کے 28صفحے خفیہ ہی رہنے چاہئیں :سی آئی اے ڈائریکٹر

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان بینن نے ایک تازہ بیان جاری کیا ہے جن میں انہوں نے اپنی اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ نائن الیون رپورٹ کے خفیہ 28 صفحوں کو خفیہ ہی رہنا چاہئے اور انہیں ڈی کلاسیفائی نہیں کرنا چاہئے۔ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹیوں پر مشتمل مشترکہ کمیشن نے 11 ستمبر 2001ء کے سانحے کے بعد دسمبر 2002ء میں جو اپنی انکوائری رپورٹ جاری کی تھی، اس کے کچھ حساس صفحات کو کلاسیفائیڈ قرار دے کر روک لیا تھا۔ یہ خفیہ دستاویزات کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل کے تہہ خانے میں محفوظ جگہ پر رکھی گئی ہے۔ اسی دوران امریکہ کے سکیورٹی حلقوں اور میڈیا میں ان دستاویزات کے متن کے بارے میں چہ مگوئیاں جاری رہیں۔ 2013ء اور 2014ء میں کانگریس کی طرف سے باقاعدہ قراردادوں کے ذریعے رپورٹ کے خفیہ حصوں کو جاری کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ جولائی 2015ء میں رپورٹ کے 417 صفحات کو ڈی کلاسیفائی کر دیا گیا لیکن پھر بھی 28 صفحات بچا لئے، جنہیں ڈی کلاسیفائی نہیں کیا گیا۔ ان 417 صفحات میں القاعدہ کے ایک آپریٹو غسان الشربی کے بارے میں معلومات تھیں، جو اس وقت گوانتا ناموبے کی جیل میں قید ہے۔ اس سعودی نژاد دہشت گرد نے بھی امریکہ میں ’’فونکس‘‘ کے مقام پر ان ہائی جیکروں کے ساتھ پرواز کی تربیت حاصل کی تھی، جنہوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ کیا تھا۔ تاہم الشربی نے اس حملے میں شرکت نہیں کی تھی۔ الشربی کو 2002ء میں پاکستان کے اس مقام سے پکڑا گیا تھا جہاں سے القاعدہ کا ایک اور سینئر لیڈر ابو زبیدہ قابو کیا گیا تھا۔الشربی کا تعلق بھی سعودی عرب سے تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ انکوائری کمیشن کے ارکان کی طرف سے اس طرح کی اطلاعات آئیں کہ نائن الیون کے سانحے میں ملوث 19 ہائی جیکروں میں سے 15 کا تعلق بھی سعودی عرب سے ہے۔ اس وقت سانحے کے متاثرین، ہمدردوں، کانگریس کے ارکان اور میڈیا میں زور و شور سے مطالبہ شروع ہوگیا کہ اس رپورٹ کے خفیہ صفحات کو منظر عام پر لایا جائے۔ اوبامہ انتظامیہ کا رویہ بہت محتاط ہے۔ تاہم سعودی حکومت کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا کہ خفیہ صفحات کو جاری کیا گیا تو وہ امریکہ سے اپنے اثاثے واپس بھی لے سکتے ہیں، جس سے ظاہر ہے امریکی معیشت کو دھچکا لگ سکتا ہے۔ صدر اوبامہ اور وزیر خارجہ جان کیری سعودی عرب کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ لیکن یہ اطلاعات بھی ہیں کہ دباؤ کے باعث اوبامہ انتظامیہ جون میں 28 خفیہ صفحات جاری کر دے گی۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے ظاہری یا خفیہ حصوں میں کئی جگہ نائن الیون کے سانحے میں سعودی حکومت کا کوئی کردار ثابت نہیں ہوتا اور سعودی باشندوں کی ذمہ داری حکومت پر نہیں ڈالی جاسکتی۔اس پس منظر میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان بینن نے امریکی ٹیلی ویژن ’’این بی سی‘‘ کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ میں خبردار کیا ہے کہ رپورٹ میں ایسی غیر تصدیق شدہ معلومات شامل ہے جس کے سامنے آنے سے بے بنیاد افواہوں کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔ اس عمل سے امریکہ اور سعودی عرب کے نازک تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سی آئی اے ڈائریکٹر نے پورا زور دے کر کہا کہ کانگریس رپورٹ پر جو سرکاری انکوائری ہوئی ہے اس میں سعودی حکومت کے بطور ایک ادارے یا اس کے حکام کی طرف سے سرکاری یا ذاتی سطح پر القاعدہ کو مالی امداد فراہم کرنے کی کوئی شہادت نہیں ملی۔ یاد رہے کہ چند روز قبل کانگریس کمیشن کے شریک چیئرمین سینیٹر باب گراہم نے امریکی ٹیلی ویژن ’’سی بی ایس‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ خفیہ 28 صفحات میں ہائی جیکروں کی مدد کرنے والے ایک نیٹ ورک کا ذکر ہے جس میں سعودی حکومت کے ارکان بھی شامل ہیں۔ اس دوران کانگریس ایک بل منظور کرنے پر غور کر رہی ہے جس کے ذریعے نائن الیون کے متاثرین کو اس سانحے کے ملزموں کی حمایت کرنے والے ممالک کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اختیار مل جائے گا۔ اوبامہ انتظامیہ اس طرح کے بل کی سخت مخالف ہے۔

مزید : صفحہ اول