عمران خان کا جارحانہ رویہ، وزراء کی اسی روز جوابی کارروائی، دونوں درست نہیں!

عمران خان کا جارحانہ رویہ، وزراء کی اسی روز جوابی کارروائی، دونوں درست نہیں!

تجزیہ:چودھری خادم حسین

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اتوار کو لاہور کے جلسہ عام میں جو جارحانہ رویہ اپنایا وہ اسلام آباد کے جلسے کی نسبت زیادہ تیز تھا اور اب انہوں نے آئندہ اتوار کے لئے فیصل آباد اور اس کے بعد ملتان میں جلسہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ہمارے لئے یہ بحث موضوع سے مختلف ہے کہ جلسہ کتنا بڑا تھا اور اس میں کتنے افراد آئے اور کہاں سے آئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا اور پھر خود حکومتی وزرا نے اس کی اہمیت کو کہیں بڑھا دیا۔ یہ عمل ہماری تو سمجھ سے بالا تر ہے کہ جس روز لاہور میں تحریک انصاف کا جلسہ تھا اسی روز وفاقی وزرا وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے ساتھ طلال چودھری نے مل کر لاہور میں پریس کانفرنس کر ڈالی، ہمارے خیال میں یہ عمل بھی جلسے اور عمران خان ہی کو تقویت کا باعث بنا ہو گا کہ وہ تو ایک مخالفانہ عمل کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ضروری نہیں تھا کہ یہ سب اسی روز کیا جاتا، ایک روز انتظار کر کے کرتے تو ان کی کوریج بھی بہتر ہوتی۔ جس نے بھی تجویز کیا اسے نتائج کا علم نہیں تھا دوسری طرف وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے بھی اسی روز اپنے جارحانہ موڈ کا مظاہرہ کرنا ضروری جانا اور اس سلسلے میں پیپلزپارٹی کو بھی رگڑا دے دیا، وہ بھی یہ سب پہلے یا بعد میں کر سکتے تھے۔ اس شدید ردعمل سے تکلیف کا احساس نظر آتا ہے اور عمران خان تو مطمئن ہوں گے۔ ویسے یہ جو ’’بلیم گیم‘‘ اور شدت شروع ہوئی اسے پسند نہیں کیا گیا اور نہ ہی سیاسی موسم کو اتنا گرم کرنا مناسب ہے کہ یوں احساس ہوتا ہے کہ کہاکسی کو گیا اور نشانہ کوئی اور ہے۔

حکمران جماعت اگر یاد اور احساس کرے تو اندازہ ہوگا کہ پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر ڈی چوک میں دھرنے کے دنوں میں پارلیمینٹ کے مسلسل اجلاس نے بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا تھا اور اب خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کو طعنہ بھی دیا اور پارلیمینٹ میں آنے کو کہا ہے۔ اس حوالے سے تو خواجہ سعد رفیق سے یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ حزب اقتدار پارلیمینٹ کو کتنی اہمیت دے رہی ہے اور وزیر اعظم خود کتنی بار ایوان میں آئے، انہوں نے تو تین بار وضاحت کیا ور تینوں بار ’’قوم سے خطاب‘‘ کیا وہ یہ بات ایک ہی دفعہ قومی اسمبلی میں کر سکتے تھے اور یہ بہتر بھی ہوتا پھر یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) احتساب سب کا نعرہ لگا رہی ہے تو قومی اسمبلی میں زیر التوا احتساب بل پر کیوں توجہ نہیں دیتی کہ ایک مستقل آزاد، خود مختار، غیر جانبدار اور با اختیار احتسابی ادارہ بن جائے تو مستقل بنیادوں پر یہ فریضہ ادا کرتا رہے۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ اعتراض سب سے آسان کام ہے اور حزب اختلاف میں دو الفاظ ہیں دوسرا اختلاف ہے یوں اس کا تو کام ہی اختلاف ہے حزب اقتدار کے کندھوں پر بوجھ زیادہ ہوتا ہے کہ وہ جواب دہ ہے اور یہی جمہوریت بھی ہے۔

جہاں تک پاکستان پیپلزپارٹی کا تعلق ہے تو بلاول بھٹو نے انتخابی جلسے سے جو جارحانہ خطاب کیا وہ شاید ان کے لئے ضروری ہو کہ پیپلزپارٹی کو ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ لے ڈوبی ہے۔ تاہم سید خورشید شاہ اور قمر زمان کائرہ کے بیانات ملاحظہ کریں تو مفاہمت والی پالیسی واضح نظر آتی ہے کہ دونوں حضرات بلاول کی تائید تو کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی جمہوریت، جمہوری اداروں اور حکومت کی برطرفی کے حوالے سے ’’ڈیمو کریٹ‘‘ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ استعفے کا مطالبہ کیا اسمبلیوں کی برطرفی نہیں چاہی اور نہ مانگی اس لئے حکمت عملی کے طور پر بھی اتنا برا نہیں منانا چاہئے کہ مفاہمت محاذ آرائی میں تبدیل ہو، یہ درست ہے کہ آصف علی زرداری، سابق وزیر اعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے خلاف ریفرنس ہیں اور پیپلزپارٹی کے کئی با اثر حضرات کے خلاف کرپشن کے سنگین الزام بھی ہیں وہ عدالتوں میں بھگت بھی رہے ہیں بلکہ پیپلزپارٹی کے لوگ مجموعی طور پر بھاری اکثریت میں ہیں جو اپنی جماعت کے راہنماؤں کا بھی احتساب چاہتے ہیں۔ ان کے خلاف جو کارروائی ہو رہی ہے اسے تیز کیا جا سکتا ہے اس طرح زور دار طریقے سے جوابی الزام لگانے سے تو ایک اور جماعت کے ساتھ تکار کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور یہ جماعت فرینڈلی اپوزیشن ہے جس کے راہنما اب بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ حکومت گرانے کی سکیم کا حصہ نہیں ہے۔

ان حالات میں تو ضرورت سیاسی موسم کو ٹھنڈا کرنے کی ہے جسے وزیر اعظم نے ایک لمحے ایسا کرنے کی بھرپور کوشش کی تاہم اب مخالفانہ حملے اور جوابی وار کی وجہ سے زیادہ گرم ہوتا نظر آتا ہے اس میں مولانا فضل الرحمن کی شمولیت اور پیپلزپارٹی کی نئی حکمت علمی بھی شامل ہو گئی ہے اگرچہ خورشید شاہ اور قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی جمہوریت اور جمہوری عمل اور اداروں کے تحفظ کے عہد پر قائم ہے۔ بہتر عمل اب بھی گرمی کو تحلیل کرنے کا ہے اور اس کے لئے پارلیمنٹ کا فورم ہی استعمال ہونا چاہئے۔ کہ تحفظ وہیں سے ملتا ہے۔

جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو جلسے اور جلوس جمہوری اور آئینی حق سہی، ان کا مطالبہ جوڈیشل کمیشن ہے۔ وزیر اعظم نے خط لکھ دیا اب چیف جسٹس کے فیصلے یا جواب کا سب کو انتظار کرنا چاہئے جہاں تک ٹی او آرز کا تعلق ہے تو حکومت نے خط کے ساتھ دیں ۔ چیف جسٹس کے لئے پابندی نہیں حزب اختلاف نے جو تیار کی ہیں وہ بھی بھیج دی جائیں اور عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا انتظار کیا جائے شدید گرمی میں عوام کا امتحان لینے سے گریز کیا جائے تو بہتر ہوگا، صورت حال کو معمول پر لانا بھی ضروری ہے۔

دونوں درست نہیں

مزید : تجزیہ