’’سیاسی تنہائی ‘‘کے باوجود حکومت متحدہ حزب اختلاف پر بھاری

’’سیاسی تنہائی ‘‘کے باوجود حکومت متحدہ حزب اختلاف پر بھاری

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

لگتا یوں ہے اپوزیشن جماعتیں بظاہر متحد نظر آتی ہیں لیکن ابھی شاید انہیں اس سلسلے میں عشق کے مزید امتحانات درپیش ہیں ورنہ ایک نکتے پر جو اجلاس ہوا تھا اس پر تو کوئی نہ کوئی متفقہ لائحہ عمل سامنے آ جانا چاہئے تھا، یہ جماعتیں متوقع جوڈیشل کمیشن کیلئے اپوزیشن کا متفقہ ضابطہ کار (ٹی او آرز) بنانے کیلئے جمع ہوئی تھیں لیکن اب ایک اور اجلاس ہوگا، جس میں ضابطۂ کار کو حتمی شکل دی جائے گی، بظاہر ایک مزید اجلاس کی کوئی وجہ نہ تھی سوائے اس کے وزیراعظم کے استعفے پر تمام شریک جماعتیں متفق نہ تھیں کیونکہ اپوزیشن جماعتیں اس ضابطہ کار کو تو مسترد کرچکی ہیں جو وزیراعظم نے اپنے خط کے ساتھ جناب چیف جسٹس کو بھیجا تھا اور جس میں احتساب کا وسیع تر ایجنڈا پیش کیا گیا تھا۔ اس پر اپوزیشن کو سب سے زیادہ اعتراض تو قرض معاف کرانے والوں کی تحقیقات سے ہے۔ وجہ غالباً یہ ہے کہ یہاں پانی مرتا ہے اور قرض معاف کرانے والوں کے نام سامنے آئے تو اس میں بہت سے پردہ نشین بھی ہوں گے اور اگر قرضوں کا پنڈورا باکس کھلا تو شاید اس بکس سے ایسی بلائیں سامنے آ جائیں جنہیں دوبارہ پہلے کی طرح بند کرنا ممکن نہ ہو۔

ویسے اگر دیکھا جائے تو اپوزیشن کے مطالبے اور حکومت کے موقف میں اب زیادہ فرق بھی نہیں رہ گیا، اپوزیشن کہتی ہے تحقیقات کا آغاز وزیراعظم سے کیا جائے جبکہ خود وزیراعظم نوازشریف یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے خودکو اور اپنے خاندانوں کو احتساب کیلئے پیش کردیا ہے۔ آغاز ان سے کرلیا جائے، اب اس بات میں مقام اتصال کیا ہے؟ اسی نکتے سے آغاز ہوسکتا ہے، لیکن اپوزیشن جماعتوں کو اصرار ہے کہ وہ اپنا ضابطۂ کار تیار کرکے پیش کریں گی اور حکومت کے دیئے ہوئے ضابطہ کار کو وہ مسترد کرچکی ہیں۔ ایسی صورت میں جماعت اسلامی کے وہ ٹی او آرز اپوزیشن جماعتوں کیلئے رہنمائی کا کام کرسکتے تھے جو جماعت اسلامی پہلے ہی تیار کرکے جناب چیف جسٹس کو بھیج چکی ہے۔ تھوڑی بہت تبدیلی اور قطع برید کے بعد ان ٹی او آرز کو اپنایا جاسکتا تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا، غالباً دوسری جماعتوں کو امید ہے کہ وہ جماعت اسلامی سے بہتر ٹی او آرز تیار کرسکتی ہیں۔ ویسے بھی جب وزیراعظم کے خلاف تحقیقات پر اصرار ہے تو پھر باقی سارے نکتے چھوڑ کر اسی ایک نکتے کو حتمی شکل دی جاسکتی تھی لیکن اگر ایسا نہیں ہوا تو کوئی نہ کوئی سنجیدہ معاملہ ہی ہوگا جس کی وجہ سے ایک اور اجلاس کی ضرورت محسوس ہوئی۔

باخبر سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ متفقہ ٹی او آرز کی راہ میں وزیراعظم کے استعفے کی دیوار حائل ہوگئی ہے۔ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ق) چاہتی ہیں کہ وزیراعظم پہلے استعفا دیں اور پھر تحقیقات کا آغاز ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب توجہ کا مرکز وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ ہوگا اور آج کے اجلاس میں اس استعفے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی، استعفے کی حامی جماعتیں مخالف جماعتوں سے جن میں اے این پی، ایم کیو ایم، قومی وطن پارٹی اور بی این پی (عوامی) شامل ہیں۔ اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گی، لیکن ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ وزیراعظم کے استعفے سے زیادہ یہ جماعتیں جناب چیف جسٹس کی جانب سے وزیراعظم کے خط کے سلسلے میں کسی جواب کا انتظار کر رہی تھیں، لیکن اجلاس کے خاتمے تک جناب چیف جسٹس کے کسی جواب یا ردعمل کے نہ آنے کی وجہ سے یہی فیصلہ کیا گیا کہ اجلاس دوبارہ رکھا جائے اور ممکن ہے کہ کل تک اس سلسلے میں کوئی بات سامنے آ جائے، جب اس ذریعے سے پوچھا گیا کہ اگر آج بھی جواب نہ آیا تو پھر کیا ہوگا؟ تو ان کا جواب یہ تھا کہ پھر استعفے کے معاملے کو چھوڑ کر ٹی او آرز پر اتفاق کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اپوزیشن جماعتوں کا استعفے کا مطالبہ اپنی جگہ، تاہم سوال یہ ہے کہ اس مطالبے کا مثبت جواب آنے کے امکانات کس حد تک ہیں؟ باخبر ذریعوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم استعفے کے مطالبے کو تو پذیرائی بخشنے کیلئے تیار نہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ تمام جماعتیں اول تو اس پر متفق نہیں ہوں گی دوسرے ان کے پاس اتنی طاقت بھی نہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر وزیراعظم کو کسی بڑی مشکل سے دوچار کرسکیں۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز سوات کے جلسے میں خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ عمران خان لندن کے میئر کے الیکشن میں ایک مسلمان (صادق خان) کے مقابلے میں اپنے یہودی سالے (سابق) کی حمایت کیوں کر رہے ہیں۔ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ جن اپوزیشن جماعتوں نے وزیراعظم کے استعفے کی مخالفت کی وہ کسی نہ کسی انداز میں مولانا فضل الرحمان کے زیراثر ہیں۔ اہم سوال یہ ہے کہ اگر آج بھی اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے استعفے پر متفق نہ ہوسکیں تو کیا کوئی درمیانی راستہ نکالا جائے گا؟ امکان یہی ہے کہ استعفے کو نظرانداز کرکے ٹی او آرز پر اتفاق کرلیا جائے ورنہ ’’متحدہ اپوزیشن‘‘ کا تاثر بھی مجروح ہوگا۔

مزید : تجزیہ