وزیراعلیٰ کی زیر صدارت سی پیک معاملے پر پارلیمانی راہنماؤں کا اجلاس

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت سی پیک معاملے پر پارلیمانی راہنماؤں کا اجلاس

  

پشاور(پ ر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت مشرقی روٹ کی طرح مغربی روٹ کی تعمیر اور صوبے کے ساتھ کئے گئے وعدوں کا ایفا نہ کرنے اوراقتصادی راہداری کے سلسلے میں بنائی گئی وفاقی کمیٹیوں میں صوبے کو نمائندگی نہ دینے کی صورت میں بھر پور مزاحمت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے پیر کے روز پشاور میں پارلیمانی راہنماؤں کے ساتھ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ پارلیمانی راہنماؤں سکندر حیات خان شیر پاؤ، مولانا لطف الرحمن، نگہت اورکزئی، عنایت اﷲ خان، سردار حسین بابک، سردار اورنگزیب نلوٹھہ کے علاوہ سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر، معاون خصوصی برائے اطلاعات مشتاق غنی، وزیرقانون امتیاز شاہد قریشی، وزیر آبنوشی شاہ فرمان، مشیر برائے مواصلات و تعمیرات اکبر ایوب ، عارف یوسف اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں پاک چین اقتصادی راہداری کے معاملے پر غور وخوض کیا گیا ۔ پارلیمانی رہنماؤں نے صوبے کے حقوق کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے معاملہ پر متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صوبے کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ وفاق نے صوبائی حکومت کے ساتھ اقتصادی راہداری کے معاملے پر جو یقین دہانیاں کرائی تھیں ان پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بنائے بصورت دیگر وہ بھر پور ایکشن لیں گے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ وفاقی سطح پر موجود متعلقہ کمیٹیوں میں صوبے کو نمائندگی دی جائے انہوں نے کہاکہ وفاقی حکومت کی طرف سے زبانی دعووں اور باتوں پر اب مزید اعتما د نہیں کر سکتے بلکہ مطلوبہ تمام معلومات تحریر ی صورت میں فراہم کی جائیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ روٹ کا مطلب ایک سڑک کی تعمیر نہیں بلکہ سی پیک کے تحت مرکزی روٹ میں شامل تمام سہولیات سمیت روٹ ہی ہے انہوں نے کہاکہ صوبے کو دھوکے میں رکھا جارہا ہے کیونکہ وزیرا عظم نے وعدہ کیا تھا کہ پہلے مغربی روٹ تعمیر کیا جائے گا مگر عملی طور پر مغربی روٹ منصوبے کا حصہ بھی نظر نہیں آتا جو ایک افسوس ناک امر ہے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -