سندھ اسمبلی اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات

سندھ اسمبلی اجلاس کے موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سندھ اسمبلی کیک اجلاس کے موقع پر پیر کو سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے ۔ مین گیٹ پر وزراء ، ارکان سندھ اسمبلی ، میڈیا اور وہاں آنے والے دیگر لوگوں کی گاڑیوں کو چیک کیا گیا ۔ چیکنگ کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی رہیں ۔ کئی وزراء اور ارکان اسمبلی گاڑیاں چھوڑ کر پیدل اسمبلی کے اندر گئے ۔ میڈیا کے لوگوں اور وزیٹرز کی پانچ جگہوں پر جامہ تلاشی لی گئی ۔ مین گیٹ پر جامہ تلاشی کی وجہ سے دھوپ میں لوگوں کی قطار لگی رہی ۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو سینئر وزیر تعلیم و پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے کہاکہ اسمبلی کے اندر ایک نجی ٹی وی چینل کے اینکر کی وجہ سے رونما ہونے والے واقعہ کی وجہ سے سکیورٹی کے انتہائی اقدام کرنے پر مجبور ہوئے ۔ سکیورٹی کے سخت اقدامات کے باعث کچھ ارکان کو تکلیف ہوئی ۔ مین گیٹ پر گاڑیوں کی تلاشی لی گئی ۔ ارکان کو پیدل آنا پڑا ۔ یہ بات اچھی نہیں کہ اسمبلی کے افسران کی گاڑیوں کو اندر آنے دیا جائے اور ارکان کی گاڑیوں کی تلاشی لی جائے ۔ نثار کھوڑو نے اسپیکر سے درخواست کی کہ ارکان اسمبلی کے لیے الگ گیٹ سے داخلے کا انتظام کیا جائے اور ان کی گاڑیوں کے لیے اسٹیکرز جاری کیے جائیں ۔ نثار احمد کھوڑو نے ارکان سے معذرت کی کہ انہیں تکلیف ہوئی ۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد نے کہاکہ وزیر صحت میں اور کچھ خواتین بھی پیدل آئے ۔ سکیورٹی کا ایسا انتظام کیا جائے کہ ارکان کو تکلیف نہ ہو ۔ اسپیکر آغا سراج درانی نے کہاکہ سکیورٹی کو بہتر بنانے کی کوشش اس لیے کی ہے کہ ایک ’’ جیمز بانڈ ‘‘ نے آخر اسمبلی میں ڈرامہ رچایا ۔ یہ کوئی پرچون کی دکان نہیں ہے ۔ مقدس ایوان ہے ۔ میں میڈیا کے ان لوگوں کا شکر گذار ہوں ، جنہوں نے اس ڈرامے کی مذمت کی اور اسمبلی کے تقدس کو محسوس کیا ۔ سندھ اسملی کو ایسے ڈرامے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا ۔ پولیس اور اسمبلی اپنے اپنے طور پر اس واقعہ کی تحقیقات کر رہی ہیں ۔ تحقیقاتی رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے گی ۔ میں نے اینکر اور پستول والے شخص کو پاس جاری نہیں کیا ۔ ان کے سہولت کار کی تلاش بھی جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گیلریز سے اسمبلی کے ایوان کے اندر آنے کے لیے مشینیں ٹھیک کرا دی گئی ہیں ۔ ارکان اسمبلی اندر آنے کے لیے اپنا کارڈ یا انگوٹھا استعمال کریں ۔ اسمبلی کے باہر بھی سکیورٹی انتظامات میں تبدیلیاں کر رہے ہیں اور ایسا انتظام کریں گے کہ لوگوں کو زیادہ دھوپ میں نہ کھڑا ہونا پڑے ۔ انہوں نے کہاکہ پستول والے واقعہ میں اسمبلی کا جو بھی اہل کار ملوث ہو گا ، میں اسے نہیں چھوڑوں گا ۔ جو لوگ پرفیوم کی بوتل اور پیسوں میں بک جاتے ہیں ، انہیں یہاں کام کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دوں گا کہ وہ سندھ اسمبلی کے ایوان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کریں ۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس سے قبل صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہاکہ سکیورٹی کے نام پر اربوں روپے خرچ کر دیئے گئے لیکن حکومت کو اب احساس ہوا ہے کہ سکیورٹی سخت کرنی ہے اپنی کوتاہیوں کو نہیں دیکھا جارہا ۔ سکیورٹی آلات کام نہیں کر رہے ۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کے نندکمار نے کہاکہ سکیورٹی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ۔ حکومت کی توجہ صرف ارکان اسمبلی کی سکیورٹی پر ہے ۔ کروڑوں عوام کی پروا نہیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول