بلوچستان کی ترقی کے بغیر پاکستان کبھی ترقی نہیں کر سکتا،سائرہ تارڑ

بلوچستان کی ترقی کے بغیر پاکستان کبھی ترقی نہیں کر سکتا،سائرہ تارڑ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وزیر قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ صوبہ بلوچستان کی ترقی کے بغیر پاکستان کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ ہمارے غیور بلوچ بھائیوں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے قربانی دی اور ہمیں یقین ہے کہ اس پروگرام کے افتتاح کے ساتھ ہی ہمارے اس ہر دل عزیز صوبے میں صحت کے لحاظ سے ایک انقلاب برپا ہو گا۔ یہ بات آج انہوں نے کوئٹہ میں پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام سے کوئٹہ کے 76,000 خاندان اور جلد ہی لورالائی، لسبیلا اور کیچ کے تقریباً 167,000 خاندانوں کو یہ سہولت میسر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ صحت کی مساوی سہولیات کی فراہمی کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ لہذا وزیر اعظم کے Vision کے تحت توانائی اور انفراسٹرکچر کے بڑے بڑے منصوبوں کے ساتھ ساتھ صحت عامہ اور تعلیم کے شعبوں میں بھی اہم اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ آج چند ترقی مخالف قوتوں نے پاکستان کو پھر مایوسی کی سمت موڑنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ مگر وزیر اعظم صاحب آپ کی یہ ٹیم ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی اور پاکستان کی ترقی کا جو خواب آپ نے دیکھا ہے اس کے لیے سردھڑ کی بازی لگانے سے گریز نہیں کریں گے۔ وزیر قومی صحت نے کہا31 دسمبر کو وزیر اعظم کے اس پروگرام کے افتتاح کے بعد مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ اس پروگرام پر اسلام آباد اور مظفر آباد میں زور و شور سے اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد جاری ہے۔اب تک اسلام آباد میں پانچ ہزار تین سو چودہ (5314 ) مریض اس پروگرام کے تحت ہسپتالوں میں داخل ہوئے ہیں جن کا علاج کیا گیا ہے یا جاری ہے۔ میں یہاں یہ کہنا چاہوں گی کہ ہم اس پروگرام کی بھر پور انداز میں مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ میں اور میری ٹیم اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ہر وہ سہولت جس کا اس پروگرام کے تحت وعدہ کیا گیاتھا beneficiaries کو میسر ہو۔ اس پروگرام میں سات جان لیوا بیماریاں جن کا علاج ہو گا وہ یہ ہیں بائی پاس،انجیو پلاسٹی، جل جانے والے افراد، حادثات، کینسر( Radiotherapy Chemotharapy,اور سرجری) ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انسولین، جگر اور گردے کے امراض اور Dialysis ، Hepatitis اور HIV کی پیچیدگیاں، خطرناک اور جان لیوا متعدی امراض ۔ اس پروگرام کی ایک اورخاص بات یہ ہے کہ وہ مریض جو علاج کے دوران اس پروگرام کے تحت مقرر کردہ حد یعنی 3 لاکھ روپے استعمال کر چکے ہوں گے ان کے علاج میں کوئی تعطل نہیں آنے دیا جائے گا۔ ان کے لیے بیت المال کے ذریعے اضافی رقم فراہم کی جائے گی جب تک ان کا علاج مکمل نہ ہو جائے۔اس پروگرام کے تحت مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات سرکاری اور پرائیویٹ دونوں طرح کے ہسپتالوں میں دی جائیں گی۔ غریب جو بیماری کے لیے در در بھٹکتا تھا۔ اب اسے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا۔ پرائم منسٹر نیشنل ہیلتھ پروگرام کا بنیادی مقصد کم آمدنی والے عوام کو صحت کی معیاری سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے اور ان کو مذید غربت کے اندھیروں میں جانے سے بچانا ہے جس کی وجہ علاج معالجہ پر آنے والے اخراجات ہیں۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے منشور میں کئے گئے ایک اور وعدے کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے اور یہ یقیناًغریب اور نادار مریضوں کے لیے ایک خوشی کا لمحہ ہے۔ اس کے تحت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے گھرانوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔ وزیر قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے بلوچستان کی قیادت کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کے ہر مرحلہ میں آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم انشااللہ مل کے اس پروگرام کے ثمرات عوام تک پہنچائیں گے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر