پی پی پی نے خواتین کو دھمکیوں کے ذریعے ووٹ سے محروم رکھنے کیخلاف ترمیمی بل سینٹ قائمہ کمیٹی کردیا

پی پی پی نے خواتین کو دھمکیوں کے ذریعے ووٹ سے محروم رکھنے کیخلاف ترمیمی بل ...
پی پی پی نے خواتین کو دھمکیوں کے ذریعے ووٹ سے محروم رکھنے کیخلاف ترمیمی بل سینٹ قائمہ کمیٹی کردیا

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے چیئرمین سعید غنی کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے خواتین کو ووٹ سے محروم رکھنے کیخلاف ترمیمی بل پیش کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ خواتین کو دھونس، دھمکیوں، لکھے گئے یا زبانی معاہدوں سے ووٹ کے حق سے محروم کیا جاتا ہے۔ شیری رحمان نے کہا کہ الیکشن کمیشن خواتین کو ووٹ کے حق پر عملدرآمد یقینی بنائے۔ مجوزہ ترمیم کے مطابق الیکشن کمشن دباﺅ ڈالنے والوں کیخلاف بھی کارروائی کرے۔ حکام پارلیمانی امور کے مطابق انتخابی اصلاحات کمیٹی میں پہلے ہی کئی ترامیم پر کام ہو رہا ہے، بل کو انتخابی اصلاحات کمیٹی کو بھیج دیا جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہماری کمیٹی کا مینڈیٹ نہیں کہ بل اصلاحات کمیٹی کو بھیجیں۔ قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ان ترامیم پر غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قانونی ماہر سلمان اکرم راجہ نے کمیٹی کو بتایا کہ الیکشن کمشن کے رولز اور پاور میں پارلیمنٹ ترمیم کر سکتی ہے۔ سیکرٹری الیکشن کمشن نے بتایا کہ انتخابی اصلاحات سے آئندہ سال الیکشن کمشن اختیارات میں اضافہ ہو گا۔ ضلعی سطح پر قواعد و ضوابط پرعملدرآمد کیلئے خصوصی سیل بنائے جائیں گے۔ الیکشن کمشن کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا جائیگا۔ اجلاس میں الیکشن کمشن سے متعلقہ معاملات پر تفصیلی بحث کے علاوہ سینیٹر شہر بانو ، شیری رحمان کی طرف سے خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے اور 10 فیصد سے کم خواتین ڈالے گئے ووٹوں کے حلقے میں دوبارہ انتخاب کے بل پر غور کیا گیا۔ چیئرمین سعید غنی نے کہا کہ الیکشن کمشن کے معاملات میں عدلیہ کی مداخلت مسائل پید اکر رہی ہے۔ عدالتیں ایسے فیصلے سنا رہی ہیں جن کا الیکشن کمشن کے قانون میں کوئی وجود نہیں۔ عدالتی فیصلوں سے بلدیاتی انتخابات اور صدارتی انتخاب سے مسائل پید اہوئے الیکشن کمشن کے معاملات میں سپریم کورٹ کی مداخلت سے مسائل بڑھ رہے ہیں اور کہا کہ سپریم کورٹ اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان ملاقاتوں اور مذاکرات کی اشد ضرورت ہے۔ الیکشن کمشن بھی بڑی پارلیمانی سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے۔ الیکشن کمشن انتخابی ٹربیونلز، ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ کے معاملات کے بارے میں تجاویز کیلئے مشاورت جاری رکھے سعید غنی نے کہاکہ الیکشن کمشن اپنے اختیارات کو بھرپور طریقے سے استعمال کرے الیکشن کمیشن کے اختیارات استعمال نہ کرنے کی وجہ سے سیاسی جماعتیں اور انتخابی نظام متاثر ہوتا ہے۔ عملے کی تربیت کی بھی سخت ضرورت ہے۔ اجلاس میں انتخابی اصلاحات کمیٹی میں انتخابی معاملات کے بارے میں قائمہ کمیٹی کی تجاویز پر غور رکھ کر حتمی شفارشات کیلئے آئندہ بھی اجلاس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ الیکشن کمشن کے حکام کی طرف سے آگاہ کیا گیا کہ انتخابی اصلاحات سے آئندہ سال الیکشن کمشن اختیارات میں کافی اضافہ ہو جائے گا مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر بنانے پر کام جاری ہے مانیٹرنگ ونگ انتخابی دن کے موقع پر پورے انتخاب کو مانیٹر کرے گا عملے کی تربیت کیلئے خصوصی سیل قائم کر دیا گیا ہے۔ الیکشن کمشن کے پاس سپریم کورٹ کے کسی بھی حکم کو غیر قانونی کہنے کا اختیار نہیں آئین کے تحت سپریم کورٹ کے احکامات ماننے کے پابند ہیں لیکن الیکشن کمیشن کسی بھی فیصلے پر متعلقہ عدالتوں سے نظر ثانی کا حق بھی رکھتا ہے۔ سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہاالیکشن کمیشن کو مزید بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ ریٹرننگ آفیسر، پولنگ آفیسر بھی اپنی ذمہ داریاں درست طریقے سے پوری کریں۔ الیکشن ٹربیونل کو انتخابی معاملات پر متعین وقت پر فیصلوں کا پابند کیا جائے۔ میر اسرار اللہ زہری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ساتھ ساتھ عدلیہ کے اختیارات بھی لازمی ہیں الیکشن کمیشن میں راتوں رات نتائج تبدیل کر لیے جاتے ہیں۔سینئر ایڈوکیٹ سلمان اکرم راجہ نے کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمشن کے قواعد وضوابط اور اختیارات میں پارلیمنٹ ترمیم کر سکتی ہے۔ غیر تربیت یافتہ عملے کی وجہ سے مسائل بڑھتے ہیں۔ اجلاس میں پاک سرزمین پارٹی کا تذکرہ ہوا سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا کہ سیاسی جماعت کا جھنڈا قومی پرچم کو نہیں بنایا جا سکتا۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قومی پرچم الیکشن کمیشن میں بطور پارٹی جھنڈا رجسٹرڈ نہیں کر سکتا۔

مزید :

اسلام آباد -