یہ خاتون دنیا بھر کی معروف شخصیات کا کس طرح مساج کرتی ہے؟ ایسا منفرد ترین طریقہ کہ جان کر آپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

یہ خاتون دنیا بھر کی معروف شخصیات کا کس طرح مساج کرتی ہے؟ ایسا منفرد ترین ...
یہ خاتون دنیا بھر کی معروف شخصیات کا کس طرح مساج کرتی ہے؟ ایسا منفرد ترین طریقہ کہ جان کر آپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہوجائے گا

  


نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) مساج سے پٹھے نرم ہوتے ہیں جس سے تھکن دور ہوتی ہے اور فرحت و شادابی کا احساس ہوتا ہے۔ مساج سنٹرز پٹھے نرم کرنے کے لیے انہیں ہاتھوں سے دبانے اور نرمی سے مالش کرنے جیسے طریقے استعمال کرتے ہیں مگر امریکی ریاست نیو جرسی میں ایک خاتون نے اپنے لگژری مساج سنٹر میں لوگوں کے پٹھے نرم کرنے کا ایک انوکھا طریقہ اپنا رکھا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق 48سالہ ڈورتھی سٹین نے ایک مساج سنٹر بنا رکھا ہے جہاں وہ اپنے گاہکوں کے جسم کو دانتوں سے کاٹ کر ان کے پٹھے نرم کرتی ہے، گویا وہ ہاتھوں کی بجائے دانتوں سے ان کا جسم دباتی ہے۔ ڈورتھی کے لگژری مساج سنٹر میں اس کے گاہکوں میں سیاست ، فن ، کاروبار و دیگر شعبوں کی معروف شخصیات شامل ہیں جو اس کے پاس آتی ہیں اور مساج کے انوکھے طریقے سے مستفیض ہوتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈورتھی کے اس طریقے کی حقیقت جاننے کے لیے خاتون صحافی الینا پوگوسین اس کے مساج سنٹر پر گئیں اور اس سے مساج کروایا۔ بعد ازاں الینا کا کہنا تھا کہ ”یہ احساس بہت خوفزدہ کردینے والا تھا کہ کوئی ایسی خاتون میرے جسم کو دانتوں سے کاٹے گی جسے میں جانتی تک نہیں ہوں۔ میں فلم ”ففٹی شیڈز آف گرے“ کے اس منظر جیسے تجربے سے نہیں گزرنا چاہتی تھی لیکن چونکہ ڈورتھی کے گاہک اس کے دانتوں سے کاٹے جانے کے لیے خاصے بے تاب ہوتے ہیں اور ان میں بڑی بڑی شخصیات شامل ہیں۔میں نے ڈورتھی سے سوال کیا کہ آخر اسے اس انوکھے طریقے سے مساج کرنے کا آئیڈیا کہاں سے ملا؟“

ڈورتھی نے صحافی خاتون کو بتایا کہ ”جب میں 5سال کی تھی تب میری ماں مجھ سے مساج کرواتی تھی۔ چونکہ اس عمر میں میرے ہاتھ اتنے مضبوط نہیں تھے کہ انہیں دبا سکتی لہٰذا وہ مجھے اپنے جسم کو دانتوں سے کاٹنے کو کہتیں۔جب میں 15سال کی ہوئی تو میں نے راک سٹار ڈیف لیپرڈ کو پہلی بار اس طرح مساج کیا جسے انہوں نے بہت پسند کیا۔ یہیں سے میں نے اس کام کا آغاز کر دیا۔ یوں آپ کہہ سکتی ہیں کہ میری ساری زندگی ہی لوگوں کو دانتوں سے کاٹ کر مساج کرتے ہوئے گزری ہے۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس