یہ منہ ، مسور کی دال اور احتساب کا نعرہ

یہ منہ ، مسور کی دال اور احتساب کا نعرہ
یہ منہ ، مسور کی دال اور احتساب کا نعرہ

  

تحریر:خالد شہزاد فاروقی

وزیر اعظم نواز شریف پانامہ پیپرز کے انکشافات کے بعد کافی مشکل میں دکھائی دیتے ہیں ،اصولی اور اخلاقی طور پر پانامہ پیپرز میں ہونے والے انکشافات کے بعد کسی بھی شخص کا مشکل میں پڑنا ایک فطری اَمر ہے ،مگر کیا کیا جائے کہ ہمارے ن لیگ کے شیر جوانوں کے نزدیک ’’کرپشن ‘‘ کرنا کوئی معیوب نہیں اور دولت کمانا چاہے وہ کسی بھی طریقے سے ہو اس کے جائز ناجائز ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔وزیر اعظم نواز شریف کے ’’وفادار حواری  ‘‘ٹی وی چینل پر ایسی ایسی موشگافیاں چھوڑتے ہیں کہ جسے سن کر ہنسی بھی آتی ہے اور اپنی سیاسی قیادت کی’’ ذہنی پستی ‘‘ پر شرمندگی بھی محسوس ہوتی ہے ۔

سینیٹڑ پرویز رشید ،طلال چوہدری،دانیال عزیز ،خواجہ آصف ،خواجہ سعد رفیق سمیت نواز لیگ کے ہر ’’چھوٹے بڑے لیڈر‘‘کے منہ سے جھڑنے والے پھولوں کی مہک اتنی ہوش ربا ہے کہ ’ ’ مَدہوش ‘‘ ہونے کو جی چاہتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بد قسمتی سے قیام پاکستان سے آج تک برسر اقتدار آنے والوں میں سے ایک دو کو چھوڑ کر تقریبا تمام نے ہی ’’اپنی اپنی حیثیت اور مقام و مرتبہ‘‘ کے مطابق قومی دولت کو لوٹنے اور ملک کو نوچنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ،اگر شریف خاندان کرپٹ اور چور ہے تو پیپلز پارٹی کی لیڈر شپ بھی کسی سے کم نہیں ،جہانگیرترین ،عبدالعلیم خان ،شیخ رشید ،شاہ محمود قریشی ،چوہدری شجاعت حسین ،چوہدری پرویز الٰہی ،خواجے ،چٹھے،نواب ،لغاری ، مزاری، دریشک، کھوسے، مخدوم ،ہوتی اور قومی سیاست میں پائے جانے والے تمام ’’قبیلے‘‘اسی نوع کے چور اور ڈاکو رہے ہیں ۔عمران خان کے حوالے سے بعض سیاستدان الزام اور لوٹ مار کے قصے تو سناتے ہیں مگر غیر جانبدار حلقے’’کپتان‘‘کو مالی کرپشن سے بری الذمہ قرار دیتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ روائتی سیاست دانوں کی طرح ’’کپتان‘‘ کا کوئی قصہ مشہورنہیں ہے ،البتہ اخلاقی حوالے سے خان پر لگنے والے الزام پر بھی میں خاموش ہوں کیونکہ میرے پاس اس خاموشی پر بھی بڑی موئثر دلیلیں موجود ہیں جن کا ذکر پھر کبھی سہی ۔کچھ لوگ اس بات کو بھی کرپشن گردانتے ہیں کہ کپتان’ کرپٹ ‘لوگوں کے جہاز پر بخوشی سوار ہوتے ہیں۔

دوسری طرف پانامہ پیپرز کے انکشافات نے ملک میں نیا تماشا لگا دیا ہے ،ہر کوئی اپنی اپنی ڈفلی بجا رہا ہے ۔ہر روز نجی چینل پر لگنے والے ’’ تماشے اور لٹیروں کے ترجمانوں‘‘کی جانب سے ہونے والی اچھل کود نے ہمارے ان سیاسی شرفاء کے اصل چہرے بے نقاب کر دیئے ہیں ۔ بات کرتے وقت حکمرانوں کے منہ سے نکلنے والی تھوکوں اور غراتے ہوئے لب و لہجے نے اس قوم کی بہت ساری غلط فہمی دور کر دی ہے ۔آج وزیر اعظم میاں نواز شریف کا  بنوں میں قبلہ مولانا فضل الرحمن کے ہمراہ ایک بڑے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمانا تھا کہ عوام کو پتا چلنا چاہیے کہ کون پاکستان کی تباہی کی اور کو ن پاکستانی ترقی کی سیاست کرتا ہے ؟ ہم پر 22 سال پرانے الزامات لگائے جارہے ہیں، ہمارے خلاف ایک پائی کی کرپشن بھی ثابت ہوجائے تو   اپنے گھر چلا جاوں گا۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اُنہیں نہیں پتا کہ ان کا کس سے واسطہ پڑاہے ؟  ہم گیدڑ بھبکیوں سے ڈرنے والے لوگ نہیں ، ہم عوام کا مینڈیٹ لے کر آئے ہیں ،یہ کس منہ سے ہم سے استعفیٰ مانگ رہے ہیں؟ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ  یہ منہ اور مسور کی دال۔۔۔۔

واقعی قبلہ وزیر اعظم صاحب ،قوم کو کیا پتا کہ ان کا پالا کن سے پڑا ہے  ؟  آپ واقعی بڑے سخت جان واقع ہوئے ہیں ،سینیٹر پرویز رشید جو آج قوم کو اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے نہیں تھکتے ،عمران خان کی اخلاقی کرپشن کا نام لیتے ہوئے وزیرموصوف کا چہرہ ’’سرخ ‘‘ ہو جاتا ہے ،ان کے چہرے پر ’’مکار مسکراہٹ‘‘دیکھ دیکھ کر قوم کو کراہت سی ہونے لگی ہے ،جب یہ وزیر صاحب اخلاقیات کی بات کرتے  اور ’’کپتان ‘‘کے ماضی کے مبینہ قصوں کا پردہ چاک کرنے کی دھمکی دیتے ہیں تو مجھے بھی ماضی یاد آ جاتا ہے ۔مذکورہ وزیر موصوف ماضی میں کبھی میرے ہمسائے ہوتے تھے ،ان کی پلاسٹک کے پائپوں کی ایک چھوٹی سی فیکٹری تھی ،میں عینی شاہد ہوں کہ اس دور میں لاہور میں عوامی نیشنل پارٹی کی بڑی’’ خوبرو خاتون‘‘ پنجاب میں اے این پی کی کرتا دھرتا ہوتی تھیں ،میری بھی وزیر موصوف سے یاد اللہ تھی ،وہ خاتون جب قبلہ پرویز رشید سے ملنے ان کے آفس میں آتی تھی تو یہ سرکار فیکٹری اور آفس کو باہر سے تالہ لگوا دیتے تھے اور اس ’’خوبرو خاتون ‘‘ سے تخلیے میں گھنٹوں سیاسی راز و نیاز کا ’’تبادلہ ‘‘ کرتے تھے ،میرا خیال ہے کہ صاحب بہادر اس وقت ’’اخلاق‘‘ کو دھنیا پی کر سلا دیتے تھے ۔خیر یہ تو بڑی معمولی سی بات ہے جو ایسے ہی یاد آ گئی ،بات وزیر اعظم نواز شریف کی حالیہ تقریر کی ہو رہی تھی ،وزیر اعظم صاحب اگر جان کی امان پاؤں تو کچھ  سوال کرنے کی جسارت کروں ؟

حضور آپ اپنے اور اپنے بچوں کے اثاثوں کی بابت پوچھے جانے والے سوالوں پر قوم کو جواب دینے کی بجائے سوال کرنے والوں پر ہی سوال کیوں داغتے ہیں ؟ آپ کے وزیر مشیر اور حواری جن کا اپنا دامن داغدار ہے جب وہ آپ کی شرافت اور امانت و دیانت کی قسمیں کھاتے اور دلیلیں گھڑتے ہیں تو یقیناًآپ بھی مسکراتے ہوں گے کہ ایسا جواب تو آپ کے بھی دماغ میں نہیں آیا ہو گا ۔

وزیر اعظم صاحب ،یقیناًآپ کا موجودہ دور حکومت سابقہ ادوار سے بلحاظ ترقی بہتر ہے لیکن اس ’’ترقی ‘‘کی جو قیمت قوم کو صدیاں بھگتنا ہوں گی کیا وہ بھی کبھی قوم کو بتانا پسند کریں گے ؟

دانیال عزیز اور امیر مقام جیسے لوگ جو مشرف دور میں آپ کی ذات میں سے کیڑے نکالتے ہوئے نہیں تھکتے تھے جب آج وہ آپ کی خوبیاں بیان کرتے ہیں تو آپ کو غصہ نہیں آتا  ؟ کیا کبھی آپ نے انہیں یہ کہا کہ واہ کیا کہنے آپ کے ’’یہ منہ اور مسور کی دال‘‘۔امیر مقام تو آپ کے بالکل ساتھ بیٹھے تھے جب آپ یہ کہہ رہے تھے۔

اگر آپ پر پھر کبھی سخت اور کڑا وقت آ گیا تو کیا ممکن نہیں کہ یہی دانیال عزیز  اور اس قبیل کے دوسرے  لوگ دلیلیں دے رہے  ہوں  کہ آپ نے انہیں یرغمال بنایا ہوا تھا ،قوم کو دھوکہ دیا ہوا تھا ،اور یقینا یہ بھی کہیں گے کہ آف شور کمپنیوں کو قوم سے چھپا کر نواز شریف نے اتنا بڑا جرم کیا ہے کہ اگر انہیں معاف کیا گیا تو معاف کرنے والوں کو قوم معاف نہیں کرے گی۔

وزیر اعظم صاحب مولانا فضل الرحمن پر تکیہ کر کے قوم کو مسور کی دال یاد کرانے سے کام نہیں چلے گا اورنہ ہی جارحانہ خطاب کر کے کرپشن کو اب چھپانا ممکن ہے ،قوم اب اس سے کم پر ماننے والی نہیں اب سب کا ایک ہی یک نکاتی  مطالبہ ہے  کہ ’’احتساب اور بلا امتیاز احتساب‘‘

خالد شہزاد فاروقی کل وقتی صحافی اور نجی ادارے میں بطور نیوز ایڈیٹر وابستہ ہیں ،آپ ان سے ksfarooqi@gmail.com  پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

مزید :

بلاگ -