دروازے سے باہر نکلا ہلتا ہوا ہاتھ، دیکھ کر ہمسایوں نے پولیس بلالی، دروازہ کھولا تو اندر کیا تھا؟ دیکھ کر ہر شخص کے واقعی اوسان خطا ہوگئے، گزشتہ 30 سال سے وہاں۔۔۔

دروازے سے باہر نکلا ہلتا ہوا ہاتھ، دیکھ کر ہمسایوں نے پولیس بلالی، دروازہ ...
دروازے سے باہر نکلا ہلتا ہوا ہاتھ، دیکھ کر ہمسایوں نے پولیس بلالی، دروازہ کھولا تو اندر کیا تھا؟ دیکھ کر ہر شخص کے واقعی اوسان خطا ہوگئے، گزشتہ 30 سال سے وہاں۔۔۔

  

بیجنگ (نیوز ڈیسک) آزادی ہر انسان کو بے حد عزیز ہوتی ہے، اور خصوصاً کمسنی میں تو اچھلنا کودنا اور باہر گھومنا ہر چیز سے زیادہ اچھا لگتا ہے ۔ا گر کسی بچے کی آزادی محض چند منٹ کیلئے بھی محدود کردی جائے تو وہ مرجھا کر رہ جاتا ہے لیکن چین سے تعلق رکھنے والے اس بچے کی مظلومیت کا اندازہ کیجیئے جسے اس کے اپنے والدین نے پنجرے میں قید کر دیا۔ یہ قید کچھ گھنٹوں یا دنوں تک نہیں بلکہ پورے 30 سال تک جاری رہی اور وہ اسی پنجرے میں بچپن اور لڑکپن سے گزرتا ہوا جوانی کی عمر کو پہنچ گیا۔

دی مرر کی رپورٹ کے مطابق جب یہ لڑکا محض چھ سال کا تھا تو وہ کچھ ذہنی مسائل سے دوچار ہوگیا۔ اس کے والدین سمجھنے لگے کہ اس پر کسی بدروح کا سایہ ہے۔ وہ پہلے جادو ٹونے اور عملیات سے اس کا علاج کروانے کی کوشش کرتے رہے لیکن جب اس کی حالت بہتر نہ ہوئی تو اسے ایک پنجرے میں بند کردیا۔ اگلے 30 سال تک یہ بچہ پنجرے میں ہی قید رہا۔

پراسرار فون کال، پولیس والوں نے موقع پر پہنچ کر گھر کی تلاشی لی تو کموڈ سے نکلی ٹانگیں نظر آگئیں، اندر کون تھا اور یہ حالت کیسے ہوگئی؟ حقیقت دیکھ کر تمام پولیس اہلکار بھی کانپ اُٹھے

اس مظلوم کی قسمت نے اس وقت اہم موڑ لیا جب اس کے ہمسایوں نے اس کی کچھ تصاویر بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں۔ بالآخر پولیس کی مداخلت سے اسے قید سے رہائی ملی۔ نوجوان کی والدہ لی لیان ینگ نے مقامی میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ انہوں نے اور ان کے خاوند نے تقریباً 30 سال قبل اپنے بیٹے کو پنجرے میں قید کیا۔ وہ اسے پنجرے کے اندر ہی کھانا اور پانی فراہم کرتے تھے اور اسے رفع حاجت بھی پنجرے میں ہی کرنا پڑتی تھی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نوجوان خوراک کی شدید کمی کے باعث متعدد مسائل سے دوچار ہے۔ اس کی ذہنی نشوونما بھی مکمل نہیں ہوئی اور وہ بولنے کی بجائے محض چیختا چلاتا ہے۔ ہسپتال میں اس کا علاج جاری ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کے والدین کے خلاف کوئی کاروائی ہو گی یا نہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -