عالمی کشمکش کی نئی شروعات

عالمی کشمکش کی نئی شروعات
 عالمی کشمکش کی نئی شروعات

  

 28جون 1914ء کو آسٹریا اور ہنگری کے ولی عہد آرچ ڈیوک فرانز فرڈی ننڈکے قتل نے پہلی جنگ عظیم کی بنیاد رکھ دی، جس کے نتیجے میں بنی نوع انسان کو وسیع تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جنگ میں سات کروڑ سپاہیوں نے حصہ لیا اور 1918ء میں جنگ کے خاتمے تک 60لاکھ اموات واقع ہوئیں،اس سے زیادہ تعداد میں لوگ مہاجرہو کر بے گھر ہوئے، جبکہ اس جنگ کے انتہائی نتائج نے غربت کے عفریت کو جنم دیا۔ امریکی صدر ووڈرو ولسن نے پہلی جنگ عظیم کو مستقبل میں تمام جنگوں کا خاتمہ کرنے والی جنگ قرار دیا،لیکن جنگیں ختم نہ ہوئیں۔انسانی آرزؤوں اور جنگ و کشمکش کی آگ اور دردکے بیچ حصول عظمت کے لئے دوسروں کو ختم کرنے کے انسانی عزم کا غلبہ جاری رہا ۔اگر دیکھا جائے تو موجودہ تناظر میں مجموعی طور پر انسانیت کی شکست نظر آ رہی ہے۔ شمال سے جنوب تک، امیر اور طاقتور سے لے کر کمزور ممالک تک کو جنگ کے خوف اور نہ تھمنے والے تشددنے گھیر رکھا ہے۔ریاستوں کی جانب سے جیو پولیٹیکل تنازعات کو حل نہ کر سکنے کی اہلیت کے سبب دہشت گردی کو بڑھاوا ملا ہے۔ناکام ریاستیں تشدد اورانتہا پسندی کی نرسریاں بن چکی ہیں، جس کے سبب مسلح تصادم کے راستے ہموار ہو چکے ہیں۔اس تصادم نے بہبود اور ترقی کے نظام پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں، جبکہ تصادم کی اس فضا نے غربت کے گھن چکر اور تشدد کو غذا فراہم کی ہے۔ مہاجرین کا مسئلہ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے، جو اب تک حل طلب ہے۔ بڑی طاقتوں اور مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں کی مالی امداد پر انحصار کرنے والی اقوام ، ان تنازعات میں خود کو غیر جانبدار رکھنے میں ناکام ہو چکی ہیں اور مسائل کے تدارک کے لئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے سے قاصر نظر آتی ہیں۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ اور یورپ اپنے خود ساختہ ڈر ، تنہائی اور مستقبل میں کسی ممکنہ تصادم کے انجانے خوف کے ساتھ بزم آراء ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کو "سب سے پہلے امریکہ کے انتخابی نعرے سے تقویت ملی ۔اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ عالمی سیاست میں امریکا کا نہ صرف مضبوط کردار برقرار رہے گا، بلکہ وہ عالمی سیاست میں پوری قوت کے ساتھ جیو پولیٹیکل تناظر کو اپنے مفادات کے تابع کرنے کی کوششوں کو جاری رکھے گا۔ ویتنام کی تباہی ، روانڈا میں تصادم کو روکنے میں عالمی برادری کی ناکامی اور عراق کی جنگ کے بعد دنیا میں استحکام اور ترقی کا دارو مدار واشنگٹن کے رویے پر منحصرہے۔ یہ سب تبدیلیاں اس لئے بھی نظر آرہی ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یکطرفہ طور پر جارحانہ محاذ آرائی شروع کر دی ہے جس کے تحت جھگڑے کے تمام فریقوں کو اعتماد میں لئے بغیر ایک طرف افغانستان میں وسیع تباہی پھیلانے کے لئے تمام بموں کی ماں کو گرانا اور دوسری طرف شامی ایئر بیس پر بمباری کرنا ہے۔ یورپ کو بھی ٹرمپ انتظامیہ سے بہت سے خدشات ہیں۔پچھلے ہفتے انجیلا مرکل نے اپنے خطاب میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ دنیا اسلحے کی ایک نئی دوڑ کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ یہ بیان انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے انتہائی اہم ملاقات کے ایک دن بعد جاری کیا۔ دوسری طرف یورپ میں قوم پرستی اور باقی دنیا سے الگ تھلگ ہونے کے رجحانا ت غالب نظر آرہے ہیں۔برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج نے یورپی وحدت کے منصوبے کو پارہ پارہ کر دیا ہے۔برطانیہ کے بعد فرانس، جرمنی، یونان اور سپین نے بھی یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حوالے سے ووٹ کے استعمال کا عندیہ دے دیا ہے۔ یہ یورپ کی مضبوط اور کسی تعصب کے بغیر مثبت سوچ تھی، جس نے کئی دہائیوں تک اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر جنگی جذبات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مؤثر اور مثبت انداز میں آواز بلند رکھی ۔ مزید برآں اب انتہائی مفلسی کے شکار ممالک کی امداد کی روک تھام کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ شام، عراق، یمن اور افغانستان سے بے پناہ مہاجرین کی آمد سے بھی مسائل بڑھ گئے ہیں۔ یورپ میں پہلے ہی مہاجرین کو قبول کرنے کے حوالے سے ناراضگی کے تاثرات پائے جاتے ہیں۔سیاسی مہم جوئیاں انسانی ہمدردی کی بجائے قوم پرستی کے ایجنڈے کو مہمیز دے رہی ہیں۔اس تمام مہم جوئی کے مشرق وسطیٰ پر خاص طور پر بہت بُرے اثرات مرتب ہوں گے ۔

مشرق وسطیٰ یقینی طور پردنیا میں تما م تنازعات کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ایران اور خلیجی ممالک کے مابین کئی دہائیوں پر محیط رنجشیں عالمی قوتوں کا محور بن رہی ہیں ۔ سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کو شامی حکومت کے خلاف امریکی تعاون حاصل ہے، جبکہ ایران اور روس علی الاعلان بشار الاسد کی حمایت پر کمر بستہ ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ عراق کی جنگ کے بطن سے ہی آئی ایس آئی ایس کے عفریت نے جنم لیا۔ دنیا اس بات کا ادراک بہر حال نہیں کر پا رہی کہ جنگیں ریاستوں کو تباہ کرنے کا ہی موجب بنتی ہیں۔ ناکام ریاستیں بالآخر دہشت گردی کی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے کا باعث بنتی ہیں ۔ ہر شورش اور دہشت گرد تنظیم کے پس منظر میں ایک تنازعہ نظر آتا ہے۔ امریکہ اور روس کی پراکسی جنگ نے طالبان کے قضیے کی بنیاد رکھی، جبکہ 2003ء کی عراق جنگ کے نتیجے میں آئی ایس آئی ایس ظہور میں آئی۔

بنیادی تنازعہ کو ختم کرنے کی بجائے ، اپنے اپنے جغرافیائی مفادات کے تحفظ کے لئے اتحاد بنانے کی پالیسی نے تنازعات ختم کرنے کی بجائے نئے تنازعات کی بنیاد ڈالی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ سابقہ معاہدے کو منسوخ کرنے اور دیر پا امن کے اقدامات کرنے کی بجائے فوری اور جارح سفارتکاری کے منصوبے پر غور کر رہی ہے۔اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے روس کے ساتھ بہتر تعلقات کی کوششیں ہوئی ہیں، لیکن دونوں قوتوں کی جانب سے شام کے معاملے پر کسی مشترکہ لائحہ عمل پر پہنچے بغیر عملی طور پر ایسا ہونا ممکن نہیں۔چھ سال کی سخت لڑائی میں اب تک تقریباً پانچ لاکھ لوگ پہلے ہی مارے جا چُکے ہیں۔

آئی ایس آئی ایس کے خلاف جنگ کسی نتیجے پر پہنچتی ہوئی نظر نہیں آ رہی، جبکہ یمن، عراق، شام اور افغانستان میں مہاجرین کا مسئلہ مزید سنگین ہو رہا ہے۔ کوئی بھی بین الاقوامی تنظیم یا ریاست دور دور تک اس سنگین انسانی مسئلے کے حل کی طرف توجہ دیتی دکھائی نہیں دیتی۔

ان سب باتوں کے علاوہ اور بھی بہت سے مسائل ہیں جو ممکنہ طور پر علاقائی تنازعات کو بڑھاوا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔پاکستان اور بھارت، دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں ،کشمیر کے مسئلے کو بھارت نے پُر امن طریقے سے حل کرنے اور خطے کے استحکام کی بجائیپاکستان کو نیچا دکھانے کے لئیپالیسی بنا رکھی ہے۔ شمالی کوریا جاپان کو ڈرانے کے ساتھ ساتھ ایشیا میں امریکہ کی موجودگی کو جوازبنا کر بیلسٹک جنگ کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ افریقی ممالک مرغولے کی شکل میں سیاسی ہیجان کی طرف تیزی سے گامزن ہیں اور کئی افریقی ممالک مشرق وسطیٰ کی طرح شورش اور دہشت گردی کے سبب میدان جنگ بننے کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ 2017 ء کا سال انسانیت کے لئے تنازعات اور درد کا سال ثابت ہو گا۔وقت کا تقاضا ہے کہ ان تمام چیلنجوں سے نمٹنے اور عالمی امن کی خاطر صورت حال کو سدھارنے کے لئے ایک مضبوط ومثبت اتحاد کا مظاہرہ کیا جائے۔ تنازعات کے دیر پا حل کے لئے چین جیسے ممالک کو یورپی اقوام کے ساتھ اتحادقائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ہتھیاروں کی دوڑ اور شدت پسندی کے خاتمے کے لئے ہمیں دوسروں کے معاملات میں دخل انداز نہ ہونے کی پالیسی کے ساتھ پر امن وترقی کا ماڈل اپنانا ہو گا۔ چینی حکومت اپنے بڑے منصوبوں کے ذریعے دنیا میں اپنے اثرو رسوخ کو وسعت دے رہی ہے۔ چین پاکستان اکنامک کوریڈوراور ون بیلٹ ون روڈ جیسے ترقی کے منصوبے پاکستان کے ساتھ مشترکہ کاروبار اور تجارت کے فروغ کے لئے نائے گئے ہیں ۔ علاقائی سیاست کے لئے یہ ایک نادر موقع ہے کہ وہ علاقائی تعاون کے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے باہمی تعاون کا ایک نیا باب تحریر کریں۔ اس تمام صورت حال میں پاکستان، بھارت کے ساتھ گفت و شنید کو جاری رکھنے کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف مؤثرو مضبوط اقدامات کرنے نیز تعلیمی اصلاحات کی مدد سے شدت پسندی کے بتدریج خاتمے کے ذریعے ہی سے مستفید ہو سکتا ہے۔ گلوبلائزیشن آج ایک حقیقت کا روپ دھار چکی ہے، آج تمام انسان ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں۔ ہم سب ایک ہی قبیلے کے فرد ہیں ، اگر دنیا کے طول و عرض میں ان تنازعات کو حل نہ کیا گیا تو ان تنازعات کے منفی اثرات کی لہر دنیا بھر میں پھیل کر ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تباہ کر دے گی۔

مزید :

کالم -