جو موت سے بھی مر نہ سکے

جو موت سے بھی مر نہ سکے

  

میرے چھوٹے بھا ئی اور بے حد عزیر دوست پنجاب یو نیورسٹی میں اپنے کمرے کے با ہر لان میں صبح سویرے بیٹھے پڑھ رہے تھے۔ دفعتاً ایک آواز سنا ئی دی سر اٹھا کر دیکھا تو سا منے کھلے گلاب کے پھولوں کی کیا ری سے اس پار ایک صاحب جوسفید لٹھے کے کُرتا پا جا مے میں ملبوس تھے بڑے نستعلیق انداز اور نرمی سے انہیں اپنی طرف بُلا رہے تھے۔ عثمان غنی نہا یت مو دب اور با اخلاق نوجوان تھے کمال انکسارسے ان کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور اپنا تعارف کروایا۔

معلوم ہوا آنکھ میں آئی ڈراپس ڈالنے ہیں لہٰذا ان کے کمرے میں جانا ہوا ،سفید براق لباس میں ملبوس شخصیت کے پیچھے پیچھے ان کے کمر ے میں داخل ہوئے، کمرہ ہاسٹل کے دیگر کمروں کی طرح نہیں تھا،ایک باوقار خواب گاہ کا پتہ دے رہا تھا۔پہلا احساس جس نے انہیں چھوا وہ سحر کر دینے والی خوشبو تھی جو ہَوا کے ایک جھونکے کے ساتھ انہیں معطر کر گئی۔یہیں سے ایک نئی دنیا کا دروازہ کھل گیا جو ہر لحاظ سے باہر کی دنیا سے مختلف تھی، ہر شے ایک انوکھے اندازسے اپنی جگہ پر رکھی ہوئی تھی اور صاحب ِ کمرہ کی نفاست کا پتہ دے رہی تھی، نوجوان کو محسوس تک نہ ہوا کب انٹرویو شروع ہوا کب آ نکھوں میں عرقِ گلاب ڈالا کب اجازت طلب کی اور کیسے باہر نکل آیا۔ صحن میں سورج کی کرنیں عجوہ کھجور کے پتوں سے کہیں دور دوسری طرف جا چکی تھیں، ملاقات ذہن پر اپنا نقش چھوڑ چکی تھی،عثمان خود صاحبِ مطالعہ انسان تھے ان کا یہ خیال پختہ ہو گیا کہ اس کمرے اور مکین کی شخصیت کا ایک اپنا جادو ہے جو زمان و مکاں سے ماورا ہے۔ شام مجھ سے ملاقات ہوئی تو سارا قصہ سنایا اور کہا کہ یار کوئی بڑی شخصیت ہمارے سامنے رہتی ہے اور میرا خیال ہے شاید یہ سی ایس ایس کے بورڈ ممبر بھی ہیں اور بہت صاحبِ علم لگتے ہیں، ان دنوں مجھ پر روزگار،تعلیم اور دِل کا دروازہ بند تھا ان سے ملنے کا اشتیاق ہُوا ۔اپنے صحافیانہ بے باک انداز کا سہارا لیتے ہوئے اگلے دن ہم بھی ان کے سامنے جا کھڑے ہوئے،بڑی خندہ پیشانی سے پیش آئے، معلوم ہُوا ڈاکٹر جہانگیر تمیمی صاحب ہیں انہیں شاید میری داخلی کیفیت کا خوب اندازہ ہو گیا تھا مجھے بھی اپنے کمرے میںآ نے کی دعوت دے دی۔

تمیمی صاحب کی گفتگو سے راز کھُلا کہ اہتمام کے وہ قائل نہیں اتفاق میں اللہ اور اہتمام میں شیطان کار فرما ہوتا ہے، اس کے بعد دریافت ہی دریافت تھی سوزو گداز میں ڈوبی گفتگو کے موتی تھے او ہمارا خالی دامنِ دِل تھا جو بھرنے کا نام نہ لیتا تھا، خاموشی تھی دِل سوزی تھی سرمستی و رعنائی تھی۔جونہی محسوس ہوا ملاقات محض ایک یونیورسٹی ٹیچر سے نہیں،بلکہ ایک صاحبِ معرفت استاد سے میسر آئی ہے تو ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنا دِل ان کی نذر کیا۔ اُنہیں اصرار تھا کہ سوال کیا کریں اس سے علم کا دروازہ کھلتا ہے اور معلوم سے نجات کو درحقیت علم کہتے تھے، میں نفس امارہ اور دنیاوی ا غراض کا آدمی تھا تمیمی صاحب بشر سے انسان کی منزل طے کر کے مقام عبد پر فائز تھے، ہمارے دِل کی حالت اضطراب میں تھی وہ سراپا حضوری کے مقام پر فائز تھے،ہم عالمِ جبروت میں بھٹک رہے تھے اور ان کا مقامِ بندگی عالم لاہوت کی منزلوں سے آشنا تھا۔ہمارا دِل بھی ان سے ملاقات کے بعد معلوم کے کھونٹے کی رسی تڑا کر بھاگا اور اپنے ہی من میں ڈوب کر سراغ زندگی پانے کے سفر پر نکل کھڑا ہوا، سوچا اب اجازت لی جائے تو دِل کی بات ان کے لبوں پر آ گئی کہا پہلی بار ہمارے غریب خانے آ ئے ہو کچھ کھا کر جاؤ ہماری طرف سے حضوری اور طلب شروع ہو چکی تھی لہٰذا اثبات میں سر ہلایا، تمیمی صا حب نے خود کھانا لگایا مٹن اور کدو کا شوربہ تھا جو مَیں نے پہلی مرتبہ ان کے ہاں کھایا، یہیں سے مجھے ان کے اسرار توکل سے واقفیت ہوئی،کھانے پینے کا بظاہر کوئی انتظام نہیں تھا،مگر ہمیشہ ان کی میز پر لذیز کھانے کو سجے پایا،خود پرہیز کرتے تھے ہاسٹل کے میس سے اپنے خریدے ہوئے جو اور چنے کے آٹے سے روٹی بنواتے تھے اور کھانا کھاتے ہوئے اکثر یہ سننے کو بھی ملتا تھا کہ میاں ہم تو ذائقوں کے اسیر نہیں ہیں۔کھانے کے بعد چائے کے کپ کی دعوت دی، مَیں ہاتھ بٹانے کو احتراما کھڑا ہو تو سختی سے روک دیا اور باتوں ہی باتوں میں اسے اپنے زمانے کے روحانی مشروب سے تشبیہہ دی،ٹی بیگز کی چائے کے جرعے لے کر دوبارہ فقر، فکر، فلسفہ اورالٰہیات کے ساتھ ساتھ اقبال کے فلسف ۂ خودی کی رو میں مجھے بھی ساتھ بہا لے گئے۔مَیں جب رات گئے ان سے رخصت ہوا تو رند خدا مست کی مستی کا کچھ رنگ مجھ پر بھی چڑھ گیا،ان کی نگاہ کی شوخی کے بعد دِل کی حالت بدل چکی تھی اب اتفاقی ملاقاتوں کا ایک سلسہ چل نکلا، یہاں دِل میں خیال آتا وہاں سے بلاوا آ جاتا، یوں پہروں ملاقاتیں جاری رہتیں، عقیدت اب خدمت کے قرینے تک پہنچ گئی تو پہلے پہل سودا سلف لانے کی اجازت ملی(دیئے گئے پیسوں کے علاوہ ایک دھیلا بھی خرچ کر نے کی اجازت نہ تھی) پھر بات برتن دھونے تک پہنچی،اب میں چائے بھی بنا لیتا تھا، اپنے ہاتھ سے تمیمی صاحب کے لیے کھانا بھی ہاسٹل میں ان کی فرمائش (خواہش تو ہماری تھی) پر بنا لیتا تھا ۔ہمارے ایک دوست حسنین جاوید کہتے تھے احمد صاحب نے اس معاملے میں مجھے گمراہ کیا ہے، مگر ذائقہ ہے کمبخت کے ہاتھ میں۔ان کا کمرہ ان کی خانقاہ تھا مجھے ان کی محفل سے ایک طرح کا روحانی تجربہ اور مشاہدہ حاصل ہوا، جناب صاحبِ حال تھے اس لئے دِل میں جو خیال آ تا تھا وہ بات ان کے لبوں پر آ جاتی تھی، ان سے ملاقات میں معلوم سے نجات کے لمحے میسر آتے تھے اور خود گویا ہوتے۔

فیضِ نظر کے لیے ضبط سخن چا ہئے

حرفِ پریشاں نہ کہہ اہلِ نظر کے حضور

معاملات کی بہتری کے موضوع پر زیادہ بات کرتے تھے، بہت لوگ ملنے آتے مگر صرف سائل یا طالب علم کو اپنے تک رسائی دیتے،غرض اور طلب کے بندوں کے لمس میں سانس لینا ان کے لئے محال تھا۔ ایسے لوگوں کو وہ اپنے دروازہ پر سماعت کر کے واپس بھیج دیتے،یونیورسٹی ٹیچرز کے انتخابات کے موقع پر کوئی بھولے سے ووٹ مانگنے آ تا تو دروازہ پر خوب عزت افزائی فرماتے،ایسے کئی اصحاب کو ٹیچرزکی بجائے ’’چیٹرز‘‘ کا لقب دیتے اور جامعہ میں ان کی تعیناتی کو ظلم سے تعبیر کرتے،کچھ لوگ محض ان کا روحانی مقام و مرتبہ پرکھنے آتے تھے تو ملاقات کے بعد کہتے کہ فلاں صاحب محض ’’ہیلو ہیلو ٹیسٹنگ‘‘ کے لیے آئے تھے۔میڈیا کے بہت سے احباب میری مو جو دگی میں ان سے ملنے آ تے تو تمیمی صا حب کہتے مجھے بیچنے کا کتنا کمیشن لیتے ہو؟ ڈاکٹر تمیمی صا حب مختلف مو ضوعات پر تبصرہ اور جملہ با زی اس کمال سے کر تے تھے کہ طبیعت پھڑک اٹھتی تھی، عمدہ شعری ذوق تھا، میں نے پو چھا سر جی! میر، غالب ، اقبال اور فیض میں سے بڑا شا عر کون ہے، بو لے ان کی شا عری میں صرف لفظ ’’ جنوں ‘‘ پراشعار کو پڑھ لیں خود بخود سوال کا جواب مل جا ئے گا۔یہ سرا سر اس ذات پاکؐ کی عطا ہے کہ ان کی محفل سے فیض بہت ملا۔ مَیں نے کبھی تمیمی صاحب کے سامنے نہ تو حرفِ پریشاں کہا نہ ہی دستِ طلب دراز کیا،مگر زندگی کے آ خری دم تک وہ میرے معاملات میں شریک رہے،درودِ پاک کے ورد کا تحفۂ خاص مجھے ان کی خانقاہ سے ملا، صحت کی خرابی کے دنوں میں پاؤں دبانے کی سعادت ملی، ایک مشاورت جس پر مجھے ہمیشہ فخر رہے گا وہ ڈاکٹرتمیمی صاحب نے مجھ سے کی، ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر دوبارہ ادارہ برائے مطالعات جنوبی ایشیا کو جوائن کرنا تھا تب ان کی نظر انتخاب مجھ پر ٹھہری۔موسیٰ اور خضر کی طرح ایک دن اچانک میرا بھی ان کے ساتھ سفر بظاہر تمام ہوا،مگر انہوں نے ہمیشہ مجھے اپنی یاد میں رکھا۔ڈاکٹر صاحب کا علمی سطح پر بہت نمایاں کام ہے خصوصاً فقر اور اقبال کے فلسف ۂ خودی پر کتاب ’’اقبال صاحب حال‘‘ لکھی،زوال سے اقبال تک، جنوبی ایشیا میں مسلم موسیقی، پاک بھارت کشیدگی اور بابا گرو نانک جی کی شخصیت جیسے موضوعات پر خوب لکھا۔ ان کے وصال پر مَیں نے اپنے دوستوں سے عرض کیا پہلے تمیمی صاحب یونیورسٹی کینال کی بائیں جانب رہتے تھے اب ان کا مقام دائیں جانب ہے اور نہر کی طرح ان کا فیض بھی رواں دواں رہے گا۔بلا شبہ جامعہ پنجاب کو ایک صاحب علم و معر فت کی قبر عطا ہوئی ہے!

ہو اگر خود نگر و خود گر و خود گیر خودی

یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے

(اقبال)

مزید :

کالم -