عالم اسلام کا اتحاد

عالم اسلام کا اتحاد
 عالم اسلام کا اتحاد

  

عالم اسلام کو آج پہلے سے کہیں زیادہ افسوسناک مسائل کا سامنا ہے ،جبکہ اکثر غیر اسلامی ممالک کو نسبتاً امن، سلامتی اور استحکام حاصل ہے جس کے نتیجے میں وہ ترقی کے راستے پر گامزن اور زیادہ سے زیادہ فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے کوشاں ہیں۔ اسلامی ممالک اپنی طاقت اور صلاحیتیں جھگڑوں اور تباہ کن جنگوں پر خرچ کر رہے ہیں۔۔۔اس وقت عراق، شام، افغانستان اور یمن اسلامی دنیا کے لازمی حصے کے طور پر ہلاکت خیز خانہ جنگی کا شکار ہیں۔ ایسا کوئی دن نہیں گزرتا جب ان ممالک کے پیکر جانی و مالی نقصان کے ناقابل برداشت واروں سے محفوظ ہوں۔ کسی دور میں فلسطین کا مسئلہ عالم اسلام کا اہم ترین مسئلہ شمار ہوتا تھا ،لیکن ان ممالک میں تباہ کن خانہ جنگیوں کی وجہ سے یہ اہم مسئلہ پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اگر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان لڑائی، جو اسلامی دنیا کا مشترکہ مسئلہ ہے، اسلامی اور غیر اسلامی ملکوں، یعنی غاصب صہیونی حکومت کے درمیان ہے تو یمن، عراق، شام اور افغانستان میں جاری خانہ جنگی خود مسلمانوں کے درمیان ہونے جا رہی ہیں۔۔۔ دہشت گردی کے ناسور نے دنیا کے دیگر علاقوں کی نسبت سب سے زیادہ عالم اسلام کو متاثر کیا ہے۔ داعش جیسے کئی دوسرے انتہا پسند گروہوں نے، جن کا اسلام سے متعلق مطالعہ مکمل طور پر غلط ہے، اسلام کا امن پسندانہ چہرہ بری طرح مسخ کر دیا ہے اور اسلامی ممالک کو بڑی مصیبتوں میں ڈال دیا ہے۔ ایسے گروہ جو غیر ملکی ایجنٹوں کی پیداوار ہیں، اب ان کے مفادات کو پورا کرنے کے لئے ایک ہتھیار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ بلاشبہ اسلامی ممالک کے درمیان لڑائی جھگڑوں کا پیدا ہونا داخلی عوامل سے زیادہ غیر ملکی عوامل کی بدولت ہے۔ حقیقت میں یہ کہنا بے جا نہیں کہ عالم اسلام میں کشیدگی کی اصلی وجہ سپر طاقتوں کے مفادات ہیں۔

خطے میں لگی آگ اور کشیدگی کی جڑیں بھی استعماری طاقتوں کے رویے ،دخل اندازی اور غلط پالیسیوں میں پیوست ہیں۔ ایسی غلطیاں جو بذات خود عالمی استعمار کی توسیع پسندی اور مشرق وسطیٰ جیسے حساس اور تزویراتی اہمیت کے حامل علاقے کی درست پہچان نہ ہونے اور غاصب صہیونی مملکت کی بے دریغ حمایت کی وجہ سے سرزد ہوئی ہیں۔اس تاریخی اور ثقافتی خطے میں بڑی طاقتوں کے تسلط پسندانہ اثر و رسوخ اور تعلقات کی تاریخ غیر مدبرانہ اور کسی حد تک بدنیتی پر مبنی رویوں سے بھری پڑی ہے جو تکفیری دہشت گردی اور انتہا پسندی کا اصل سرچشمہ ثابت ہوئے ہیں، جیساکہ داعش، القاعدہ، جبھہ النصرہ اور ان جیسے دوسرے دہشت گرد اور انتہا پسند گروہوں کا قیام مذکورہ پالیسیوں اور رویوں کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔کچھ مغربی ممالک نے اسلحہ اور دوسرے جدید جنگی آلات اس خطے کی مخصوص حکومتوں کو برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملک کے طور پر، کشیدگی، بحران ،لڑائی کو بڑھاوا دینے ،بعض دوسرے ممالک پر سیکیورٹی دباؤ، سیاسی گھٹن میں اضافے میں بھرپور اور واضح کردار ادا کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ ایسی پالیسیاں جن کے المناک نتائج آج اس خطے کے تمام اہم حصوں میں واضح طور پر قابل مشاہدہ ہیں اور تمام دنیا کا فیصلہ بھی یہی ہے۔یہ بھی پوری طرح واضح ہے کہ آج کے حالات عالم اسلام میں دوری اور تفرقے کی اصل وجہ اور اس پر کنٹرول کرنے کی حکمت عملی اور اسلامی ممالک کے اتحاد کے لئے مناسب ہیں۔ اس پس منظر میں ایران اور پاکستان عالم اسلام کے دو طاقتور ممالک کے طور پر امت مسلمہ کے مسائل کو حل کرنے اور عالم اسلام کی ترقی کے لئے اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ دونوں ممالک خطے کے پائیدار معاشی استحکام اور ترقی میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم‘ علاقائی تعاون تنظیم (اکو) ترقی پذیر ممالک کے دی 8 گروپ جیسے اہم علاقائی اور بین الاقوامی اداروں کا وجود میسر ہے۔ اسلامی ممالک کو قریب لانے کے لئے تمام دوسرے ضروری وسائل بھی دونوں ممالک کے پاس موجود ہیں۔خطے میں کسی بھی قسم کے عدم استحکام سے علاقائی ،خصوصی طور پر ایران اور پاکستان کے سیکیورٹی اور معاشی حالات پر اثرات مرتب کرتے ہیں، لہٰذا دونوں ممالک کو خطے میں امن و استحکام کی تقویت پر توجہ کرنی چاہئے، تاکہ امن و امان کی بحالی کے ذریعے معاشرتی اور اقتصادی مسائل کو حل کیا جا سکے، غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت کو کم اور خطے کے ممالک کے مفادات کو پورا کیا جا سکے۔ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون علاقائی یکجہتی میں اضافے کی راہ ہموار کرے گا۔ پاکستان کے لوگوں کی انرجی کی ناگزیر ضرورت اور تیل و گیس کے بھرپور ذخائر کی ایران میں موجودگی نہ صرف دونوں ممالک کی اقتصادی نشوونما میں مددگار ہو سکتی ہے، بلکہ خطے میں ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے اور پُرجوش قریبی تعلقات کے قیام کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔

بارڈر پر امن و امان کا قیام اور انتہا پسندی و تشدد کے خلاف جنگ، دونوں ممالک کے درمیان تعمیری تعلقات میں ایک بنیادی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل بارڈر تعلقات کی مضبوطی کا ذریعہ اور تعلقات میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافے کا ہتھیار بھی بن سکتا ہے، نہ صرف ان دو ملکوں کے درمیان، بلکہ خطے کے تمام ممالک کے درمیان انتہا پسندی کے روز افزوں رجحانات کی اصل وجہ دوسری کسی بھی چیز سے زیادہ، اسلامی ممالک کے رہنماؤں کا تخلیقی اور ترقی پذیر معاشرے کے قیام میں ناکامی اور دوسروں کی بے جا مالی اور فکری مداخلت کو ہی قرار دیا جاتا ہے۔اس کے خلاف جدوجہد بھی طاقت اور تسلط کے استعمال سے پہلے، ثقافتی کوششوں، تقریب بین المذاہب سنی شیعہ یا دوسرے مذاہب کے پیروکاروں سمیت تمام امت مسلمہ کے اتحاد اور ترقی یافتہ معاشروں کے قیام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔موجودہ دور میں ضروری ہے کہ دونوں ممالک، ایران اور پاکستان اپنے روایتی قدیمی دوستانہ تعلقات کے تجربات کی بنیاد پر دو طرفہ اور کئی طرفہ تعاون کی نئی عمارت مشترکہ مفادات کی بنیاد پر تعمیر کریں۔ دونوں ممالک کا تعاون علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر بھی مفید ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور ایران مغرب و مشرق کے درمیان رابطہ راہداری پر واقع ہونے کے ناطے دنیا میں ثقافتی اور اقتصادی ترقی میں اپنا حصہ بڑھا سکتے ہیں۔

دونوں ممالک کی مختلف شعبوں میں تعلقات میں اضافے کی صلاحیتیں موجودہ اقتصادی تعاون کے حجم سے کہیں زیادہ ہیں۔ ایران کی چین پاکستان اقتصادی کوریدور میں شمولیت علاقائی سطح پر اقتصادی تعاون کے رجحانات میں تیز تر اضافے کا باعث بنے گی ،جس سے نہ صرف خطے کے ممالک کی ضرورتیں اور مفادات پورے ہوں گے، بلکہ خطے میں سلامتی کی صورت حال بھی تسلی بخش ہو گی۔

مزید :

کالم -