یہ ٹویٹ نہیں آساں

یہ ٹویٹ نہیں آساں
 یہ ٹویٹ نہیں آساں

  

کسی تعویذ کی طرح کوئی ٹویٹ بھی الٹ پڑ سکتا ہے۔ وقت اور حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے وزیراعظم ہاؤس کا نوٹیفکیشن مسترد کرنے کا اعلان کر کے معاملے کو نیا رنگ دے دیا ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے جوابی طور پر سرکاری معاملات میں ٹویٹ کرنے کے عمل کو ہی زہر قاتل قرار دے ڈالا۔ چودھری نثار کا غصہ مگر کم نہ ہو سکا۔ اگلے ہی روز آرڈیننس فیکٹری واہ میں خطاب کرتے ہوئے سکیورٹی ایجنسیوں پر برس پڑے۔ خودکش دھماکے کے خطرے کے پیش نظر وہاں اجتماع کی منسوخی کے مشورے کو رد کرتے ہوئے کہہ دیا کہ پیشگی اطلاعات ملنے کے باوجود تحفظ فراہم نہ کیا جا سکے تو سکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں۔ فوجی ترجمان کے پانامہ انکوائری رپورٹ پر زوردار ٹویٹ کے بعد حکومت مخالفین کی تو گویا باچھیں کھل گئیں۔ چودھری نثار کا جواب آیا تو بعض بدمزہ ہو گئے، کئی ایک نے مگر یہ عذر تراشا کہ طلال چودھری، دانیال عزیز اینڈ کمپنی کہاں غائب ہو گئی۔بعض لوگوں کا دھندہ ہی کسی اور کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر ڈرم پیٹنے والے بندروں کا کردار ادا کرنا ہے ۔ٹاک شو کے نام پر مختلف چینلوں پر بیٹھ کر ہا ہا کار مچاتے رہتے ہیں‘ اس ٹویٹ کے بعد بھی کئی ایک اینکر اور اینکرنیاں اپنے تئیں حکومت اور فوج کو مزید اشتعال دلانے کی کوشش میں لگ گئیں مگر حاصل کچھ نہ ہو سکا ۔وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن پر اسی رات عمل درآمد کر دیا گیا۔ اگلے روز یہ بیان بھی جاری کیا گیا کہ فوج کے تحفظات دور کرنے کے لئے مزید کارروائی کی جائے گی۔ سیدھی سی بات ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی سطح کے فوجی آفیسر کے بیان کا جواب چودھری نثار کے قد کاٹھ والے کسی وزیر نے ہی دینا تھا۔ یہ تو ہونا ہی نہیں تھا کہ سیاسی مخالفین کی مٹی پلید کرنے والی لیگی ٹیم کو ایسا کوئی ٹاسک سونپا جاتا۔ اس ٹویٹ کے حوالے سے اصل معاملہ تو یہ ہوا کہ سوشل میڈیا اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی شدید ردعمل آیا اور تو اور کئی ایک سابق فوجی افسران نے بھی ٹویٹ میں استعمال کی جانے والی زبان کو نامناسب قرار دے ڈالا۔ پچھلے کئی برسوں سے خصوصاً مشرف دور کے دوران یہ رجحان زور پکڑتا جا رہا ہے کہ جب کبھی کسی غیر آئینی اقدام کے خدشات سراٹھانے لگیں تو معاشرے کے کئی طبقات کی جانب سے مطالبات کیے جاتے ہیں کہ جسٹس حمود الرحمن کمیشن رپورٹ سے لے کر ایبٹ آباد کمیشن تک کی مکمل رپورٹس شائع کی جائیں۔ اس تنازع میں بھی ایک بار پھر یہی نکات ابھر کر سامنے آئے۔

بعض حلقے تو یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ پراکسی جنگ کے ذریعے مطلوبہ ہدف حاصل ہوتا نظر نہیں آتا‘ شاید اسی لئے اصل فریق کھل کر آمنے سامنے آنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں مگر اس سے بھی کیا حاصل ہو گا۔ یہ طے ہے کہ ملک کسی غیر آئینی اقدام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ڈان لیکس کا سارا چکر بھی حکومت کو دباؤ میں لانے کے لئے چلایا گیا۔ اس کا بڑا مقصد اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو ملازمت میں توسیع دلوانا تھا۔ ان لیکس کے حوالے سے بعض دوسرے نام بھی سامنے آ رہے ہیں،کہا گیا ہے کہ مذکورہ خبر شائع ہونے سے قومی سلامتی کو براہ راست زک پہنچی۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے اس رپورٹ کی فوری تردید کر دی گئی تھی اس کے باوجود جائزہ لیا جائے تو نکات صرف 2 ہی تھے۔ پاکستان کی عالمی تنہائی کا ذکر کرتے ہوئے اس وقت کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے میٹنگ کے شرکاء کو بریفنگ دی تھی کہ جب وہ جیش محمد کے مولانا مسعود اظہر کے معاملے پر مدد لینے چین گئے تو جواب ملا اس مرتبہ بھی اقوام متحدہ میں آپ کا ساتھ دیں گے مگر یہ بتایا جائے کہ بار بار ایسا کرنے کی کوئی منطق ہے کیا؟ یقیناًسفارتی حوالے سے یہ سخت سوال تھا۔ ساتھ ہی مشورہ بھی دیا گیا کہ پاکستان اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے۔ دوسرا نکتہ بعض کالعدم تنظیموں کے ارکان کو فراہم کئے جانے والے تحفظ کے متعلق تھا۔ سول سائیڈ سے یہاں تک کہا گیا کہ پولیس ایسے افراد کو گرفتار کرے تو بعض اداروں کے اہلکار آ کر انہیں چھڑا لیتے ہیں۔ معاملات سے باخبر لوگوں کے علاوہ عوام کی بڑی تعداد کو بھی علم ہے کہ یہ نکات زمینی حقائق سے میل کھاتے ہیں یا نہیں۔ بلا شبہ یہ اجلاس کی اندرونی کہانی ڈان اخبار کے پاس نہیں جانا چاہیے تھی۔ لیکن اگر ایسا ہو بھی گیا تو آخر یہ کتنی بڑی سکیورٹی بریچ ( Secuirty Breach )ہے؟ فوجی ادوار میں کیا کچھ نہیں ہوا؟مشرف دور میں آئین کو روندنا‘ مسلح افواج کی ہائی کمان کو اعتماد میں لئے بغیر پورا ملک امریکی فورسز کے لئے کھول دینا۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں سے دستبرداری، ایل او سی پر بھارت کو باڑ کی تنصیب کا موقع فراہم کرنا درحقیقت ملکی سکیورٹی کو تار تار کرنے کے مترادف تھے۔ کسی سویلین کی گواہی پسند نہ ہو تو لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز کی کتاب ’’یہ خاموشی کہاں تک‘‘ ہی پڑھ لیں۔ کوئی کمیشن بنانے کی ضرورت ہے نہ ہی جے آئی ٹی،اور یہ ہوتی ہے اصل سکیورٹی بریچ ( secuirty breach )۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ احساس شدید تر ہوتا جا رہا ہے کہ ’’مٹی پاؤ‘‘ کا پنجابی محاورہ فرسودہ ہو چکا۔ اب تو ’’ٹنٹنا‘‘ (فساد کی جڑ) ہی ختم کرنا ہو گا۔ اس کے لئے سب سے ضروری بلکہ ناگزیر بات یہ ہے کہ سب کا یکساں اور بے رحمانہ احتساب ہو۔ ورنہ بک بک، جھک جھک چلتی رہے گی۔ کیا عجب تماشا ہے کہ جب سے وزیراعظم اور ان کے خاندان پر پانامہ کیس چلنا شروع ہوا۔ لیگی وزراء تواتر سے الزامات دہراتے رہے کہ اس تمام کھیل کے پیچھے وہی قوتیں ہیں جو 2014ء میں دھرنے پارلیمنٹ ہاؤس سمیت ریاستی عمارتوں پر حملے کروا کے پوری دنیا میں ملک کا تمسخر اڑانے کا سبب بنی تھیں۔ صرف اسی ایک معاملے کی درست انداز میں انکوائری ہو جاتی تو اب تک کئی معاملات طے ہو جاتے۔ مگر ہمیں تو ملک کو رکھنا ہی غیر یقینی اور کنفیوژن کی فضا میں ہے اور کچھ نہیں تو اس بات کی تحقیقات ہی کرا لی جائے کہ میڈیا میں موجود صاحبان ایجنڈا کو ’’اندر کی خبریں‘‘ کون دیتا ہے۔ وہ بھی دستاویزات سمیت ۔یہ الگ بات ہے کہ کاغذ کچھ اور کہہ رہا ہوتا ہے تو استعمال ہونے والی زبان اسے کیا سے کیا بنا کر پیش کر رہی ہوتی ہے۔ سول ملٹری کشمکش میں دو نمبر لوگوں کی موجیں لگی ہوئی ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ان کی بھاری اکثریت ’’جذبہ حب الوطنی‘‘ نہیں بلکہ سانوں نوٹ وکھا ساڈا موڈ بنے ہے۔ سیاسی جماعتیں ہیں کہ اس تمام دھماچوکڑی میں اپنا اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب ہی ایک دوسرے کے درپے ہیں ۔عمران خان توخیر باقاعدہ وزارت عظمیٰ کے حصول کے مشن پر ہیں اور ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں کہ شریف خاندان کو غیر آئینی طریقے سے نکال کر سیاسی عمل سے مکمل طور پر آؤٹ نہ کیا گیا تو تحریک انصاف کا کوئی چانس نہیں۔ انہیں یہ بھی غلط فہمی ہے کہ بعض طاقتور حلقے ان کے ساتھ ہیں۔ دوست بننے اور دوست کو استعمال کرنے کا فرق انہیں 65 سال کی عمر میں بھی معلوم نہیں ہو سکا اور شاید ہو گا بھی نہیں،ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصے بعد پھر یہ کہتے پائے جائیں ’’ہیں یہ کیا ہو گیا‘‘ پیپلز پارٹی کے آصف زرداری مگر تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی چالیں نہایت کامیابی سے چل رہے ہیں۔

الیکشن 2018ء سے ایک سال پہلے ہی سندھ کی حد تک غالب اکثریت حاصل کرنے کی منصوبہ بندی مکمل ہونے کو ہے۔ جماعت اسلامی بھی پانامہ لیکس کے فیصلے کے بعد نئے سرے سے انگڑائیاں لے رہی ہے۔ اگرچہ اس کے اپنے کئی ارکان کو یہ خدشہ ہے کہ عمران یا اسٹیبلشمنٹ کے زیادہ قریب ہوئے تو انہیں بھی استعمال کر کے فارغ کر دیا جائے گا۔ فیس بک کے دانشوروں سمیت کئی احباب عرصہ دراز سے یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ اگر لیڈر ایماندار ہو تو کسی کو غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدامات کی جرأت نہیں ہو سکتی۔ عرض یہ ہے کہ یہ بھی خام خیالی ہے کہ دودھ میں دھلی اسٹیبلشمنٹ صرف کرپٹ سیاستدانوں کو نشانہ بناتی ہے۔ جنرل ایوب کے دور میں جن سیاستدانوں پر پابندی لگائی گئی ان میں سے ایک پر بھی کرپشن کا الزام نہ تھا۔ یہی طریقہ کار آج بھی رائج ہے۔ معاملہ پسند ناپسند اور طاقتور طبقات کو سوٹ کرنے کی حد تک ہی ہے۔ ذرا سوچئے اگر کبھی جماعت اسلامی کے اقتدار میں آنے کے امکانات پیدا ہو جائیں تو کیا ہو گا؟ شاید مصر کے مرسی والے معاملے کو دہرایا جائے گا یا پھر الجزائر میں اسلامک فرنٹ کے ساتھ جو ہوا تھا وہی تماشا یہاں بھی لگے گا۔ ہمارے آخری فوجی آمر جنرل مشرف ایماندار افراد کو پاس بھی پھٹکنے نہیں دیتے تھے۔ اب جب کہ پاک فوج کے افسروں کو پانامہ کیس کے حوالے سے جے آئی ٹی کا حصہ بھی بننا ہے ایسا تناؤ کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب ہی بنے گا۔ بیانات کے جواب اس انداز میں آتے رہے تو اداروں کے وقار کا تحفظ کیسے کیا جا سکے گا۔ نہیں معلوم کہ آگے کیا ہو گا مگر کبھی کبھی شک ہوتا ہے کہ اقتدار کے کھیل میں شریک اصل کھلاڑی میچ کا وقت پورا کرنے کے لئے ایک دوسرے کو فٹ بال اور ہاکی کی طرز پر لمبے لمبے پاس دے رہے ہیں۔ تماشائی بلاوجہ تالیاں پیٹ رہے کہ گول ہوا کہ ہوا۔ کیا واقعی ایسا ہے؟

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مفرور مشرف کو بھی گاہے گاہے ملکی سیاست میں بذریعہ بیان بازی ٹانگ اڑانے کا موقع مل جاتا ہے۔ ڈان لیکس پر بھی کچھ اسی طرح کا بیان جاری کیا کہ قومی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے اصل ذمہ داروں کو لازمی پکڑا جائے ۔سابق آمر کے اندر کا خوف اگلے ہی دن باہر آ گیا نئے بیان میں گہری مایوسی ظاہر کرتے ہی اسٹیبلشمنٹ سمیت اقتدار کے تمام شراکت داروں کو خبردار کر ڈالا کہ 2018ء کے انتخابات بھی ن لیگ ہی جیتے گی‘ ان باتوں پر کیا تبصرہ کریں۔ مشرف کے اقتدار پر ناجائز قبضے کے دوران ہی ’’چاچا وردی لاندا کیوں نئیں‘‘۔۔۔ کا نغمہ مقبول ہو گیا تھا اور وہ گئے بھی خاصی ’’عزت افزائی‘‘ کے بعد‘ کمال ہے کہ سنگین آئینی،اخلاقی، مالی اور فوجداری مقدمات میں ملوث شخص قوم پر اب تک اپنے مشورے مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔پنجابی میں ایسے ہی مواقع کے لئے محاورہ بنا ہے ’’لو دسو کہندا کون پیا اے‘‘ (لیں بتائیں کہہ کون رہا ہے)۔

مزید :

کالم -