سیاسی جماعتوں نے ملک کے ’’معاشی حب‘‘ کراچی کو سیاسی سرگرمیاں کا مرکز بنا لیا!

سیاسی جماعتوں نے ملک کے ’’معاشی حب‘‘ کراچی کو سیاسی سرگرمیاں کا مرکز بنا ...

  

 کراچی کا سیاسی موسم بدلا ہے، تو سب ہی سیاسی جماعتیں سرگرم ہو رہی ہیں، حتیٰ کہ وہ بھی جنہوں نے اس شہر کو بے امان کیا، جن پرجناب سعور عثمانی کا یہ شعر صادق آتا ہے۔

بین کرتی ہوئی خلقت یہ بیاں کرتی ہے

بے گناہوں میں ہوئے جاتے ہیں شامل قاتل

تاہم اچھی بات یہ ہے کہ قومی سیاست کی دعوے دار جماعتیں پاکستان کے ’’معاشی حب‘‘ کو ایشوز بیس سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنارہی ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر جناب سراج الحق کے انداز سیاست اور انداز تخاطب سے اختلاف کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں، اختلاف کرنے والوں میں قابل ذکر تعداد ان کی بھی ہے۔ جو جماعت کے بانی سید مودودی کی فکر کے اسیر ہیں، تاہم اس سب کے باوجود جماعت اسلامی ہی وہ واحد جماعت رہی ہے۔ جس نے الطاف حسین کی لسانی اور نسلی عصبیت کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے سینہ سپر ہو کر مردانہ وار مقابلہ کیا اور بھاری جانی نقصان تو برداشت کیا، مصلحت کوشی کے بجائے الطاف حسین کی پاکستان دشمنی پر مبنی سیاست کا خم ٹھونک کر میدان میں مقابلہ کیا۔ جماعت اسلامی کراچی کے جواں سال امیر انجینئرحافظ نعیم الرحمن کے الیکٹرک کے خلاف شہریوں کی شکایات کا مقدمہ لیکر میدان میں کھڑے ہوئے۔اتوار کے روز گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے سے مرکزی امیر جناب سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت جناب ممنون حسین سے کے الیکٹرک کے خلاف شہریوں کی شکایات کا ازالہ کرانے کا مطالبہ کیا ہے، جس پر وفاقی حکومت کو سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینی چاہئے۔ صدرمملکت خود بھی ایڈیٹرز کے ساتھ کراچی میں اپنی ملاقات میں اس کا عندیہ دے چکے ہیں کہ اگر ان کے سامنے مستند حقائق پیش کئے جائیں، تو وہ ضرور اس کا ازالہ کرانے میں اپنا رول ادا کریں گے۔ گورنر سندھ جناب زبیر عمرکو بھی گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا ختم کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ خود کے الیکٹرک کمپنی کو بھی چاہئے کہ وہ پر امن احتجاج کو نظر انداز کرنے کی پالیسی کو تبدیل کرے۔ پیر کے دن جماعت اسلامی کے دھرنے میں خواتین کا اتنی بڑی تعداد میں شامل ہونا معمولی بات نہیں، جسے نظر انداز کیا جائے۔ جماعت اسلامی نے اپنے احتجاج کو خلق خدا کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے روڈ بلاک کرنے اور ٹریفک کے نظام میں خلل ڈالنے سے احتراز کرنے کی پالیسی اختیار کرکے ایک نہایت مستحسن اقدام کیا ہے۔ جو تعریف کی مستحق ہے۔ سید مودودیؒ کی فکر کی اساس اور تعلیمات کا محور ہی یہ ہے کہ ہر حال میں قانون کی پاسداری کی جائے اور کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے۔ جو خلق خدا کی مشکلات میں کمی کے بجائے اضافے کا باعث بنے۔

(آخری اطلاع کے مطابق گورنر جناب زبیر عمر کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کردیا گیا) اتوار0 3اپریل اور پیر یکم مئی کو تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان نے کراچی میں مصروف دن گزارے۔ اتوار کو کراچی میں ایک ریلی سے خطاب کیا ۔ جسے ’’حقوقِ ‘‘کراچی ریلی کا نام دیا گیا۔ اس میں پارٹی کے کارکنوں اور جناب عمران خان کی جارحانہ سیاست کے حامیوں کی خاصی بڑی تعداد نے شرکت کی، ریلی کا وقت تو دوپہر کا دیا گیا ، مگر بد قسمتی ہے ہماری سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین نے کارکنوں اور حامیوں کو گھنٹوں سڑکوں پر خوار کرانے کو اپنا بنیادی حق بنا رکھا ہے۔ جس پر ساری سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین کو نظر ثانی کی ضرورت ہے، ایک زمانہ تھا کہ منتظمین جلسے کا جو پروگرام ترتیب دیتے تھے، جلسہ تھوڑی سی تاخیر سے بھی شروع ہوتا، تو جواب دہی شروع ہو جاتی تھی، اب بارہ بارہ گھنٹے انتظار کرانا معمول بن گیا ہے پیر کے دن جناب عمران خان نے کراچی کے تاجروں اور کراچی کی ایک اہم میمن برادری کے سرکردہ لوگوں سے لانڈھی میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا، لانڈھی کا جلسہ اتوار کی ریلی کے مقابلے میں حاضری کے اعتبار سے زیادہ بڑا تھا۔ جناب عمران خان نے اپنی پارٹی کے سندھ کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کی رہائش گاہ پر پارٹی اجلاس کی صدارت بھی کی اور سندھ کے تنظیمی امور پر مشاورت کی۔ دیگر مصروفیات میں ایک اہم مصروفیت سندھ کے سابق گورنر اور سابق وزیر اعلیٰ ممتاز بھٹو سے ان کی رہائش گاہ پر جاکر ان سے تحریک انصاف میں شامل ہونے کی دعوت دینا تھی۔ ممتاز بھٹو نے عمران خان کی پارٹی میں شامل ہونے کے لئے اپنے ساتھیوں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرنے کا جواب دیا ہے اگر وہ شامل ہوتے ہیں، تو عمران خان کو اپنی توپوں کا رخ نواز شریف سے زیادہ جناب آصف علی زرداری کی طرف موڑنا ہوگا ممتاز بھٹو نے نواز شریف کو چھوڑا ہی اس لئے ہے کہ وہ ان کی خواہش کے مطابق زرداری کا قافیہ تنگ کرنے پر آمادہ نہیں تھے، ممتاز بھٹو کے شامل ہونے کے بعد عمران خان کو سندھ میں ایک دبنگ بڑے قد کاٹھ کا سیاسی لیڈر ضرور میسر آجائے گا، مگر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس سے اندرون سندھ تحریک انصاف کو کوئی بڑا بریک تھروملے گا، اس کے لئے سندھ کے شہروں اور دیہاتوں کے گلی کوچوں کی مٹی اور دھول چاٹنا پڑے گی، تب اندرون سندھ پیپلز پارٹی اور شہری علاقوں میں ایم کیو ایم کے لئے تحریک انصاف چیلنج بن پائے گی، مگر سوال دوسرا ہے عمران خان ایسے امید وار کہاں سے لائیں گے۔ جو دستورکی دفعہ 62-63کی تعریف کے مطابق صادق و امین ہوں، جناب عمران خان کو تو ابھی لیاقت جتوئی کے صادق و امین ہونے کے سوالات کا سامنا ہے اس کے باوجود قومی سیاست کی دعوے دار جماعتوں کا سندھ کا رخ کرنا دیر آید درست آید کے مصداق ہے، جس کا خیر مقدم ہونا چاہئے سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کی بدولت یہی سیاسی عمل تسلسل برقراررکھ سکتا ہے۔

اتوار کے روز کراچی میں مسلم لیگ (ن) نے بھی ضلع ویسٹ میں کارکنوں کی ایک بڑی ریلی نکالی جس سے مقامی رہنماؤں کے علاوہ سندھ مسلم لیگ (ن) کے صدر بابو سرفراز جتوئی ایڈوکیٹ اور سینیٹر نہال ہاشمی نے خطاب کیا اور الطاف حسین کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والے انیس قائم خانی اور مصطفی کمال نے کراچی پریس کلب کے باہر اٹھارہ روز دھرنا دینے کے بعد وسط مئی میں ایک بڑا شو آف پاور کرنے کا اعلان کیا ہے، اس کے لئے وہ کراچی کے مختلف علاقوں میں کارنرمیٹنگیں کررہے ہیں اور کراچی کے مسائل کے حل کے لئے مختلف طبقات کی سپورٹ حاصل کرنے کے لئے ملاقاتیں کررہے ہیں، پاک سرزمین پارٹی نے اپنے شو آف پاور کو ملین مارچ کا نام دیا ہے ۔ انتظار کیجئے اور دعوے اور حقیقت میں کتنی مطابقت ہوگی سب دیکھ لیں گے، سندھ میں حکمران جماعت پیپلز پارٹی کراچی کی سڑکوں پر ریلیاں نکال رہی ہے اور عمران خان کے گونوازگو کے نعرہ کو اپنا چکی ہے،مگر پیپلز پارٹی کراچی اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں میں گونواز گو کے نعروں سے اپنے لئے کوئی جگہ پیدا نہیں کرپائے گی اس کے لئے تو اسے سندھ میں بھی دیگر صوبوں کی طرح قومی جماعت کے طور پر ایکٹ بھی کرنا پڑے گا اور وسائل کی تقسیم میں انصاف کے مسلمہ اصولوں کی پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کا قتل عام بند کرکے اہل لوگوں کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق شہری سندھ کے باسیوں کو ان کا حق دینے پر آمادہ ہونا پڑے گا۔ محض گونواز گو کے نعرے سے تو سندھ میں تحریک انصاف کو بھی کسی بڑے بریک تھرو کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔ کیونکہ سندھ کے باسی تو زیادہ سندھ حکومت کی مبینہ کرپشن کا عذاب بھگت رہے ہیں، اس سے نجات ملے گی، تو وہ کسی اور کی کرپشن کی طرف دھیان دینے کے قابل ہوں گے ۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بھی سندھ میں اپنی جماعت کو منظم کرنے کے لئے سندھ کے دورہ پر ہیں۔ وہ سندھ کی قوم پرست جماعتوں کے قائدین کو ساتھ ملا کرآنے والے الیکشن میں حصہ لینے کے موڈ میں ہیں، اس سلسلے میں انہوں نے سید جلال محمود شاہ، ایاز لطیف پلیجو اور کئی دیگر رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں او ر دھابیجی میں ایک پبلک میٹنگ سے بھی خطاب کیا ہے، گزشتہ ہفتے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی کراچی میں دو دن بڑے مصروف گزارے انہوں نے نادرا سینٹر کا افتتاح بھی کیا اور رینجرز سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اجلاس میں سندھ میں امن وامان کی صورت حال کا جائزہ لیا اور مشاورت کی۔ چودھری نثار علی خان نے میڈیا کو بتایا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ کراچی کے پانچ لاکھ شناختی کارڈ بلاک ہیں۔ ان کے مطابق ملک بھرمیں ساڑھے تین لاکھ شناختی کارڈ بلاک کئے گئے تھے، جن میں سے بڑی تعداد جانچ پڑتال کے بعد بحال کردی گئی ہے، ایک لاکھ سے زائد ابھی ایسے شناختی کارڈ بلاک ہیں۔ جن کا جائزہ لیا جارہا ہے چودھری نثار علی خاں کی میڈیا سے بات چیت اس اعتبار سے بڑی مفید اور کارآمد رہی کہ انہوں نے ان کی وزارت کے حوالہ سے کئے جانے والے سوالات کے جوابات صاف ستھرے انداز میں ماتھے پر بل لائے بغیر دیئے، جس سے ان کی شخصیت کے بارے میں پائے جانے والا منفی تاثر ختم نہیں تو کم ضرور ہوگا۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -