سیاست گری خور ہے ، دوسری جماعتوں کے اہم ارکان کو توڑنے کی کوشش ؟

سیاست گری خور ہے ، دوسری جماعتوں کے اہم ارکان کو توڑنے کی کوشش ؟

  

جمہوریت کا اصول اور رہنمائی کا مسلمہ حصول بنیادی طور پر قوم کے مستقبل پرمنطبق ہونا چاہیے لیکن یہ کیسی جمہوریت ہے اور کیسی رہنمائی ہے کہ خیبر سے لے کر کراچی تک کسی بھی سیاسی جماعت،گروہ یا رہنماء کو یہ خبر بھی نہیں کہ اس وقت ملک کے گردونواح میں کیا بیت رہی ہے اور ان تبدیلیوں میں وطن عزیز اور اس میں رہنے والوں کا مستقبل کیا ہوگا۔ہاں البتہ ان کی نظر اگلے انتخابات پر گہری ہے کبھی قبل از وقت اور کبھی بروقت انتخابات کا واویلا اورپھر اس میں اپنے جیتنے والے گھوڑے اتارنے کیلئے ان کی خریدوفروخت کا آغاز،یہ ہیں ہماری قومی،صوبائی،لسانی، مذہبی اور قوم پرست لیڈر شپ کا حال،جو اس وقت چور دروازوں سے دوسری سیاسی جماعت کے وننگ ہارسز کو توڑنے میں مصروف ہیں جو بنیادی طور پر سٹیٹ کے اندر سٹیٹ کہلاتے ہیں اور ان کے حلقوں کے اندھے،لولے،لنگڑے، ذہنی بیمار اور غربت کے مارے،علاج سے عاری،خوف ان پر بھاری،جو ان کو ہرحال میں اسمبلی میں پہنچانے کا عزم کرلیتے ہیں۔اس مرتبہ بھی ماضی کی طرح ہی ہورہا ہے جوں جوں انتخابات قریب آرہے ہیں سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی بھی اسی طرح ہورہی ہے اور یہ تبدیلی معاف کرنا کسی ووٹر یا منشور کیلئے نہیں بلکہ اس مقصد کیلئے ہوتی ہے جو انہوں نے حاصل کرنا ہوتا ہے یعنی اقتدار،میں شامل رہنا،حالات جیسے بھی ہوں،جمہوریت ان کیلئے ضروری نہیں ہے۔آمر کے ساتھ بھی اسی توانائی کے ساتھ سیروشکر ہوکر بیٹھتے ہیں جس طرح آمر کے گھر میں پل کر جوان ہونے والوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔اب ان کیلئے بھلاجمہوریت کس چڑیا کا نام ہے۔ڈان لیکس ہو یا پھر پانامہ لیکس اس کام میں تمام ایک ہی ’’لباس‘‘میں ہیں البتہ مطالبات اور بیانات ذرا مختلف ہوتے ہیں ۔

اب تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود حسین قریشی کا بیان ہی ملاحظہ کرلیں کہ وہ حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ڈان لیکس کی مکمل رپورٹ سامنے لائی جائے کیونکہ حکومت اس میں اصل شواہد چھپا رہی ہے،یہی اصل وجہ ہے کہ فوج نے حکومت کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے اور اس کے بعد تو وزیراعظم میاں نواز شریف کے وزیراعظم رہنے کا کوئی جواز بھی باقی نہیں رہا،انہوں نے بھارتی کاروباری شخصیت جندال کے پروٹوکول پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کشمیریوں پر ظلم و ستم کررہا ہے لیکن ہم انہیں پروٹوکول دے رہے ہیں۔انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کی موجودگی میں پانامہ تحقیقات کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔قطری خط کی کہانی بھی مسترد ہوچکی ہے حکومتی پالیسیوں سے ملک تباہی کی طرف جارہا ہے پاورلومز کی صنعت تباہ ہوچکی ہے کاشتکاروں کو گندم کے ریٹ نہیں مل رہے ، جو حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے اس لئے میاں نوازشریف استعفیٰ دیں اور جمہوریت کو بچالیں ورنہ کچھ بھی ہوسکتا ہے۔

اب مخدوم شاہ محمود قریشی کے کہنے پر یہ ہوگا کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن دوسری طرف مخدوم جاوید ہاشمی اس کے برعکس کہتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ حالات جو بھی ہوں جمہوری اداروں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے البتہ احتساب مکمل طور پر شفاف اور غیرجانبدار ہونا چاہیے مخدوم جاوید ہاشمی نے میاں نواز شریف کو یہ مشورہ بھی دیا کہ انہیں جے آئی ٹی میں پیش ہونا چاہیے انہوں نے عمران خان کی طرف سے ن لیگ کی طرف سے 10ارب روپے کی پیش کش کے الزام کی بھی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے کہا اب ان کی بات کوئی سنتا اور عمل کرتا ہے کہ نہیں ؟یہ تو آنے والا وقت ہی بتاپائے گا ادھر سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اب بھی عدالت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ پانامہ لیکس/سکینڈل کا فیصلہ مبہم کی بجائے واضح دیا جائے جس طرح ان کے ساتھ ہوا تھا۔انہوں نے ڈان لیکس کے معاملے کی بھی پیچیدگی اور اس کا ذمہ دار وزیراعظم میاں نوازشریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار احمد کو قرار دیا جبکہ خارجہ امور پر وزیراعظم کے مشیر طارق فاطمی کو قربانی کا بکرا بنانے پر شدید تنقید کی اور کہا کہ یہی وجہ ہے کہ حکومت کے وزراء مایوس ہوکر استعفے دے رہے ہیں اگر یہی عالم رہا تو ملک پھر صرف شریف برادران ہی چلائیں گے جبکہ باقی وزراء استعفیٰ دے دیں گے۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی کاروباری شخصیت جندال کے وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ تعلقات اور مراسم کا بھی قوم کو بتایا جائے۔انہوں نے اعادہ کیا کہ وہ عدالت عظمیٰ سے انہیں نااہل قرار دلوانا ایک سازش اور ناانصافی تھی اس لئے اپنی سزا کے خلاف عدالت میں جارہے ہیں۔انہوں نے اپنی پارٹی اوررہنماؤں کو باخبرقرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آنے والا وقت پیپلزپارٹی کا ہے۔اب سید یوسف رضا گیلانی کی یہ بات کب پوری ہوتی ہے،اس کیلئے آئندہ انتخابات تک انتظار کرنا ہوگا۔کیونکہ اب وہ یہ دعویٰ بھی کررہے ہیں کہ ہم فرینڈلی اپوزیشن کا لیبل صاف کرکے حکومت کے خلاف سڑکوں پر آرہے ہیں۔ہماری سیاست پہلے بھی عوام کیلئے تھی اور اب بھی عوام کی سیاست کررہے ہیں اس وقت میری تمام توجہ اپنی سزا کو ختم کرانا ہے انتخابات میں حصہ لینا یا نہ لینا اس کا فیصلہ پیپلزپارٹی کی قیادت کرے گی،اب پیپلزپارٹی اس پر کیا فیصلہ کرے گی یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

مزدوروں کا عالمی دن دنیا بھر کی طرح ہمارے ہاں بھی اسی طرح منایا گیا ‘ لیکن یہ بہت چند لوگوں کو معلوم ہوگا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جو کبھی مزدوروں کی اجرتوں کے حوالے سے بین الاقوامی قوانین کے ساتھ چلتا تھا اس مرتبہ اس کا گراف انتہائی نچلی سطح تک چلا گیا اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن( آئی ایل او)کی قرار دادوں کے برعکس ملک میں لیبر کا ٹھیکیداری نظام رائج کردیا گیا ہے جس سے ہر قسم کے مزدور کا استحصال ہو رہا ہے او ر اس وقت عالم یہ ہے کہ صنعتی و دیگر ملازمین کی تنخواہیں ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہیں ۔ ملک میں محنت کشوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں جس سے بین الاقوامی سطح خصوصاً یورپین یونین کے ممالک میں ڈیوٹی فری امپورٹ بند ہونے کے خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ واضح رہے کہ قبل ازیں بھی انہی الزامات کیساتھ ’جی ایس پی ‘ کیلئے بھی پاکستان کے دروازے بند کر دئیے گئے تھے ۔ دوسری طرف وفاقی و صوبائی حکومتوں کی طرف سے مزدوروں کی کم سے کم اجرت کے اعلانات بھی اعلان ہی رہ گئے ہیں ‘ پرائیویٹ تو ہے ہی حکومتی اداروں میں بھی ٹھیکیداری سسٹم کے تحت کام چلایا جا رہا ہے ‘ اگر یہی حالات رہے تو مزدور قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کیوجہ سے جی ایس پی کاخاتمہ ہونے کی صورت میں یورپین یونین کے 28 ممالک کوپاکستانی مصنوعات کی ڈیوٹی فری ایکسپورٹ سے ہاتھ دھونا پڑیں گے اور پاکستان اربوں ڈالر کی مارکیٹ سے محروم ہو جائیگا ۔

ادھر ملک میں فیکٹریاں ‘ کارخانے اور ادارے مزدوروں کیلئے بیگار کیمپ بن چکے ہیں خصوصاً جنوبی پنجاب میں تو اس کا بہت برا حال ہے یہاں مزدور کوزیادہ سے زیادہ 10ہزار روپے تک تنخواہ دی جارہی ہے جبکہ اس خطے میں انڈسٹریلائزیشن کیوجہ سے زراعت کا نقصان تو ہو ہی رہا ہے اب ماحولیاتی آلودگی سے جو بیماریاں پھیل رہی ہیں اس سے علاقے کی غربت تیزی سے بڑھ رہی ہے علاج معالجہ اور ہسپتالوں اور ادویات کی عدم دستیابی سے عوام کو ذہنی کے ساتھ جسمانی مریض بنا دیا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں آئے دن ایسے واقعات پیش آرہے ہیں کہ غریب اپنی غربت سے تنگ آکر بچوں اور خاندان کی زندگی ہی ختم کر دیتے ہیں ‘ اس طرح کا ایک واقعہ گزشتہ دنوں لیہ کے علاقے چوک اعظم کے چک نمبر 341 ٹی ڈی اے میں پیش آیا جہاں محمد طارق اسماعیل نے اپنے ہاتھوں سے بچوں کو قتل کردیااور خود بھی خودکشی کر لی ۔ وجہ جو بھی ہو لیکن اس میں زیادہ اور اہم مسئلہ ہے غربت اور پھر ان بچوں کے اخراجات پورے نہ کر سکنا لیکن سرکاری مشینری کی اس وقوعہ پر مجرمانہ غفلت اس بات کا پتہ دے رہی ہے کہ آنے والے وقتوں میں بھی خدانخواستہ ایسے واقعات میں نہ صرف حکومتی مشینری بلکہ ریاستی ادارے بھی پانامہ اور ڈان لیکس میں الجھے رہے ہیں کیونکہ یہ ان کیلئے زیادہ اہم ہے انسان نہیں ۔

مزید :

ایڈیشن 1 -