وزیراعلی پرویز خٹک کا دورہ چین، چینی کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالر کےمعاہدے

وزیراعلی پرویز خٹک کا دورہ چین، چینی کمپنیوں کے ساتھ اربوں ڈالر کےمعاہدے

  

خیبر پختون خوا گذشتہ ہفتے ہر لحاظ سے متحرک اور سیاسی جلسوں سمیت مختلف معاملات میں سر گرم رہا وزیر اعلیٰ خیبر پرویز خٹک کا دورہ چین اور وہاں اربوں ڈالر کے منصوبوں کے معاہدوں پر دستخط عبد الولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال کے وحشیانہ قتل کیس میں اہم پیشرفت آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ خیبر ایجنسی یوم مئی کی تقریبات اور پیپلز پارٹی کے چئیرمین آصف علی زرداری کے نزول سمیت مختلف سیاسی پارٹیوں کے جلسے اور الزام تراشیاں عروج پررہیں ،وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اپنے بڑے وفد کے ہمراہ چین گئے جہاں انہیں غیر معمولی پذیرائی ملی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے چین کی مختلف کمپینوں کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کئے ان تمام منصوبوں کا تعلق خالصتاً صوبہ خیبر پختون خوا کے ساتھ ہے ۔چین سے واپسی پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اپنے دورے کو توقعات سے بڑھ کر کامیاب قرار دیا جوسچ بھی ہے ۔میڈیا سے بات چیت کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چین کے حکام نے ان سے گدھے کا سیمپل مانگا تو ہم نے امیر مقام کو ان کے سامنے پیش کیا جسے دیکھ کر چینی کمپینوں نے اس گدھے کومسترد کر دیا اور کہا کہ ہمیں سمارٹ گدھوں کی ضرورت ہے وزیراعلیٰ کو یہ بات کہنے کی ضرورت شاید اس لئے پیش آئی کہ مسلم لیگ کے غیر منتخب مشیر برائے وزیراعظم انجینئر امیر مقام سرکاری اخراجات پرروزانہ صوبے کے کسی نہ کسی حصے میں جلسہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ان جلسوں میں وہ اپنی تمام تر توانائی تحریک انصاف عمران خان اور صوبے کی حکومت پر تنقید میں صرف کرتے ہیں اگرچہ صوبائی حکومت کے ترجمان مشتاق غنی ترکی بہ ترکی ان الزامات کا جواب دیتے رہتے ہیں مگر اس مرتبہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھی اپنے حصے کا جواب ایک میزائیل کی طرح داغ دیا وزیراعلیٰ کے اس بیان پر خیبر پختون خوا کے لیگی سخت سیخ پاہوئے مگر کسی کے پاس جواب دینے کے لئے کچھ نہیں تھا ۔

یہ حقیقت ہے کہ کے پی کے میں مسلم لیگ ن کو امیر مقام ہی اپنے جلسوں کے ذریعے زندہ رکھے ہوئے ہیں آئے روز بڑے بڑے جلسوں میں عمران خان پر تنقید کرکے نواز شریف پر الزام تراشی اور تنقید کا قرضہ اتارنے کی کوشش کرتے ہیں امیر مقام اپنے ہر جلسے میں کروڑوں روپے کے منصوبوں کا بھی اعلان کرتے ہیں جس پرزیر دست تالیاں بجائی جاتی ہیں مگر کروڑوں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی امیر مقام کسی بڑی سیاسی شخصیت کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔

گذشتہ ہفتے سابق صدرآصف علی زرداری بھی بڑی دھوم دھام کے ساتھ خیبر پختون خوا میں وارد ہوئے انہوں نے پہلے روز مردان اور دوسرے دن ملاکنڈ درگئی میں جلسے کئے یہ دونوں مقامات کسی زمانے میں پیپلز پارٹی کا گڑھ ہوا کرتے تھے جو اب تحریک انصاف اور اے این پی کے پاس چلے گئے ہیں پیپلز پارٹی مردان کے جلسے میں کارکنوں نے غیر معمولی تعداد میں شرکت کی جس کے پیش نظر آصف علی زداری کے جلسے کو ایک کامیاب جلسہ قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ مردان کے جلسے میں صوبے بھر سے گاڑیاں بھر بھر کر مردان میں لوگوں کو لایا گیا اسی طرح درگئی مالاکنڈکے جلسے میں بھی آس پاس کے اضلاع سے کارکنوں کو لایا گیا ان جلسوں میں بھی دھواں دھار تقرریں کی گئیں اور صوبائی حکومت سمیت عمران خان پر الزامات لگانے کی کوشش کی جاتی رہی مگر کوئی چونکا دینے والی بات سامنے نہ آسکی جس کے بعد زرداری نے عمران خان کو یہ کہہ کر 2نمبر خان قرار دیا کہ عمران خان کو پشتو نہیں آتی اور خود کو خان کہلواتا پھرتا ہے،آصف علی زرداری یہ بات کہتے ہوئے بھول گئے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو بلاول بھٹو آصفہ اور بختاورکو بھی سندھی نہیں آتی مگر انہوں نے ہمیشہ سندھ کارڈ استعمال کرتے ہوئے ووٹ حاصل کئے بہر حال آصف زرداری کے جلسوں میں کارکنوں کاجوش و خروش تھا مگر کارکنوں کا تمام جوش و جذبہ جلسے کے اختتام پرہی ختم ہو گیا جسکی خاص وجہ یہ بھی تھی کہ پیپلز پارٹی کے کارکن بلاول بھٹو پر آس لگائے بیٹھے تھے جبکہ کے پی کے کے جلسوں میں نہ صرف بلاول بھٹو کو آؤٹ رکھا گیا بلکہ یہ بات بھی عام ہو گئی کہ آصف زرداری اگلا وزیر اعظم بھی خود بننا چاہتے ہیں جبکہ بد قسمتی سے کارکنوں کی ایک بھاری اکثریت زرداری کی پالیسیوں اوران پرلگنے والے الزامات پر سخت مایوسی کا شکار ہیں چنانچہ رات گئی بات گئی کے مصداق جلسے کے اختتا م کے ساتھ ہی کارکنوں کا جذبہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا۔

اس دوران جماعت اسلامی مسلم لیگ اور شیر پاؤ گروپ کے جلسے بھی ہوتے رہے اس سارے سیاسی منظر نامے میں اے این پی کی سیاست انتہائی مدھم نظر آئی جے یو آئی کی طرح اے این پی نے بھی نواز شریف کی حمایت کا اعلان کیا کہا کہ پانامہ کے معاملے پر وہ نواز شریف سے استعفے کے حق میں نہیں ہیں اے این پی کی اسی پالیسی نے اپنے کارکنوں کو اسی طرح مایوس کیا جیسا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن چلے آ رہے ہیں مرکزی قائدین کی مفاد پرستانہ پالیسوں کے باعث جو صورتحال پیدا ہورہی ہے اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ تحریک انصاف کو ملے گا اور یہ بھی امکان ہے کہ تحریک انصاف آئندہ الیکشن میں بھی قابل ذکرنشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔

مشال خان قتل کیس میں گولی مارنے پر اصل قتل پکڑا گیا جس کا تعلق ایک مذہبی تنظیم سے بتایا گیا ہے قاتل نے اپنے بیان میں گستاخانہ کلمات کا الزام عائد کیا مگر کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا قاتل کے اعترافی بیان کے چند گھنٹوں بعد مذہبی گروپ سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے مشال کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا مگر اس کے فورا بعد مقتول کے آبائی گاؤں صوابی میں ایک بہت بڑا جرگہ منعقد ہوا جسمیں مشال خان کو انصاف دلانے کا مطالبہ کرتے ہوء ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں مشال خان قتل کیس کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلانے کا مطالبہ پیش کیا گیا ۔جرگہ کے شرکاء نے مقتول مشال کے والد کے ایثار اور حب الوطنی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ولی خان یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کو مشال خان کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ کیا قرارداد میں خاص بات یہ بھی تھی کہ عبدالولی یونیورسٹی کے اندر کرپشن کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا جرگہ کے مطابق یہی وہ کرپشن ہے جسے بے نقاب کرنے پر مشال خان کے وحیشانہ قتل کی سازش تیار کی گئی قرار داد میں یونیورسٹی انتظامیہ مقامی پولیس اور دیگر ملوث ملازمین کو فوری برطرف کرکے مقدمے میں شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا جرگہ کے یہ مطالبات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے جب چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ خیبر ایجنسی کا دورہ کررہے تھے جنرل قمر جاوید نے پاک افغان سرحد پر تعینات فوجی جوانوں کے ساتھ ملاقات کی اور ان کی حوصلہ افزائی کی جنرل باجوہ نے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے اور مستقل بنیادوں پر امن قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -