نیویارک، ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں کتنی محفوظ ہیں؟

نیویارک، ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں کتنی محفوظ ہیں؟
نیویارک، ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں کتنی محفوظ ہیں؟

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)حتیٰ کہ ڈرائیورز کے بغیر چلنے والی گاڑیاں تاحال عام نہیں ہوئیں، تاہم پھر بھی ایسی گاڑیاں دنیا میں ا?چکی ہیں، اور لوگ ان سے فائدہ بھی حاصل کر رہے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں کتنی محفوظ ہیں؟ڈرائیورز کے بغیر چلنے والی گاڑیوں کو سیلف ڈرائیونگ یا خود کار گاڑیاں بھی کہا جاتا ہے۔امریکی ادارے ڈوئیٹی نے سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں کے حوالے سے بیلجیم، برازیل، کینیڈا، چین، فرانس، جرمنی، انڈیا، اٹلی، جاپان، میکسیکو، جنوبی افریقا، جنوبی کوریا، امریکا اور برطانیہ میں سروے کیا۔میکسیکو کے بھی 58 فیصد افراد کو ان گاڑیوں پر یقین نہیں، جب کہ جنوبی افریقا کے 59 فیصد، جنوبی کوریا کے 81 فیصد، بیلجیم کے 69 فیصد اور اتنے ہی کینیڈا کے افراد بھی سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔جاپان کے بھی 79 افراد یہ سمجھتے ہیں کہ سیلف ڈرائیونگ گاڑیاں غیر محفوظ ہیں، جب کہ اٹلی کے بھی 66 فیصد افراد کا خیال ایسا ہی ہے۔سب سے زیادہ جنوبی کوریا و جاپان کی 84 فیصد خواتین کو لگتا ہے کہ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں غیر محفوظ ہیں،جب کہ برطانیہ اس حوالے سے تیسرے نمبر پر ہے، جہاں کہ 81 فیصد خواتین ان گاڑیوں کو قابل بھروسہ نہیں سمجھتیں۔، امریکا کی 76 فیصد خواتین سمجھتی ہیں کہ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی گاڑیاں غیر محفوظ ہیں، جب کہ اٹلی کی 72 فیصد، بھارت کی 67 فیصد جنوبی افریقا کی 64 فیصد، میکسیکو کی 62 فیصد اور جرمنی کی 79 فیصد خواتین بھی سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں پر یقین نہیں کرتیں۔کینیڈا کی 75 فیصد، فرانس کی 72 فیصد، چین کی 64 فیصد، برازیل کی 58 فیصد اور بیلجیم کی 75 فیصد خواتین سیلف ڈرائیونگ گاڑیوں کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -