یمنی تنازعے کے حل کیلئے ثالث کا کردار ادا کرسکتے ہیں: جرمن چانسلر

یمنی تنازعے کے حل کیلئے ثالث کا کردار ادا کرسکتے ہیں: جرمن چانسلر

  

ابوظہبی(این این آئی)جرمن چانسلر نے کہاہے کہ یمنی تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سربراہی میں ہونے والے نئے مذاکرات میں جرمنی ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق جرمن چانسلر میرکل نے اپنے ایک روزہ دورہء متحدہ عرب امارات کے دوران ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زید النہیان سے ملاقات کی، جس دوران دوطرفہ تجارتی روابط میں اضافے اور سلامتی امور پر گفتگو کی گئی۔جرمن سربراہ حکومت کی خلیج کی اس عرب ریاست کے دارالحکومت میں شہزادہ محمد بن زید النہیان کے ساتھ ملاقات میں دوطرفہ اقتصادی اور سیاسی تعلقات کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں پائے جانے والے خونریز تنازعات اور بحرانوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس ملاقات میں چانسلر میرکل اور ابوظہبی کے ولی عہد نے شام کی خانہ جنگی، لیبیا کے خونریز داخلی تنازعے اور یمنی جنگ کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ اس حوالے سے جرمن سربراہ حکومت نے یہ بھی کہا کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر یمن میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے نئی کوششیں کریں گی۔میرکل نے ایک روزہ دورے پر متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی پہنچی تھیں، یہ بھی کہا کہ یمنی تنازعے کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سربراہی میں ہونے والے نئے مذاکرات میں جرمنی ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ خلیجی تعاون کی کونسل کے رکن ملکوں میں سے متحدہ عرب امارات جرمنی کا اہم ترین تجارتی ساتھی ہے اور دونوں ممالک کے مابین تجارت کا سالانہ حجم 14.7 بلین یورو یا قریب 16 بلین امریکی ڈالر کے برابر بنتا ہے۔ جرمن حکومتی ذرائع کے مطابق جرمنی نے یو اے ای میں قریب 2.4 بلین یورو کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے اور میرکل اور شہزادہ محمد بن زید النہیان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ان باہمی اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔پرنس محمد بن زید النہیان کے ساتھ ملاقات سے پہلے جرمن سربراہ حکومت نے یہ امید بھی ظاہر کی تھی کہ یورپی یونین اور خلیجی تعاون کی کونسل (جی سی سی) کے رکن چھ عرب ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارت کے سمجھوتے کو اب بالآخر حتمی شکل اختیار کر لینا چاہیے۔جرمن کاروباری شخصیات کے ایک وفد کے ساتھ چانسلر میرکل سعودی عرب سے ابوظہبی پہنچی تھیں، جہاں جدہ میں سعودی قیادت کے ساتھ اپنی ملاقاتوں میں میرکل اور سعودی عرب کے شاہ سلمان نے متعدد ایسے معاہدوں پر دستخط بھی کیے تھے، جن کا مقصد برلن اور ریاض کے مابین صنعت، معیشت اور سکیورٹی کے شعبوں میں باہمی روابط میں اضافہ کرنا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -