’’دو مئی۔تین مئی ‘‘

’’دو مئی۔تین مئی ‘‘
 ’’دو مئی۔تین مئی ‘‘

  

دو مئی کی بات ہورہی تھی جب پیپلزپارٹی کے دور میں امریکی کمانڈوز نے ایبٹ آباد کے قریب ایک آپریشن میں دنیا کے سب سے مطلوب شخص اسامہ بن لادن کو پکڑنے کا دعویٰ کیا۔ میں نہیں جانتا کہ یہ دعویٰ کس حد تک درست تھا۔ بہت سارے باخبر دوستوں کو لگتا ہے کہ نوے کی دہائی میں گردوں کے مرض میں مبتلا ہونے والا اسامہ بن لادن دو مئی 2011 سے بہت پہلے طویل علالت کے بعد اپنے اکٹھے کئے ہوئے نفع و نقصان کے ساتھ اپنے رب کے سامنے حاضر ہو چکا تھا۔ میری اسامہ بن لادن سے اس کی مبینہ ہلاکت سے بارہ ، تیرہ برس پہلے سینئر صحافی دوستوں کے ہمراہ طالبان کی حکومت والے افغانستان کے البدر کیمپ ٹو میں ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے غیر رسمی حصے میں پرتکلف قہوے پر بے تکلفانہ گپ شپ میں ، میں نے اسامہ بن لادن سے پوچھا، ’ ایک مومن کو بہت صحت مند ،ہٹا کٹا دکھائی دینا چاہئے مگر آپ بہت کمزور اور منحنی سے لگ رہے ہیں، جواب ملا، ’ میں اب بھی دوڑتے ہوئے گھوڑے کی ننگی پشت پر سوار ہو سکتا ہوں، ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، یہ میدان سامنے ہے دونوں مقابلہ کر کے دیکھ لیتے ہیں کون زیادہ صحتمند اور طاقت ور ہے‘۔ میں نے بحث کے ساتھ ساتھ مقابلہ بھی نہیں کیا مگر بہرحال اسامہ بن لادن کاوزن کافی کم ہو چکا تھا۔ ہم پاکستانی اسامہ بن لادن کی حمایت نہ بھی کریں تب بھی دو مئی کو ہونے والی امریکی مداخلت کو افسوس ناک اور شرم ناک تصور کرتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو سمجھانے کے لئے کہہ سکتے ہیں کہ امریکیوں نے اسامہ بن لادن کودنیا کے سامنے زندہ پیش نہیں کیا لہذا ان کا دعویٰ مشکوک ٹھہرا کہ انہوں نے اسامہ بن لادن کو پاکستان کی حدود سے واقعی پکڑا تھا۔ میں یہ تو کہہ دیتا ہوں مگر میرے پاس ایسی کوئی بودی دلیل بھی نہیں جو میں امریکی مداخلت نہ ہونے کے بارے میں دے سکوں۔ امریکی انتظامیہ نے اگر الیکشن جیتنے کے لئے کوئی ڈرامہ بھی رچایا تھا تو اس میں پاکستانی جغرافیائی حدود کی پامالی ایک زندہ اور ناقابل تردید حقیقت تھی۔

دو اور تین مئی کے درمیان کی رات ایک محب وطن پاکستانی کے لئے کتنی تکلیف دہ ہوسکتی ہے جسے اپنے سامنے لکھی جانے والی تاریخ سے غیر معمولی دلچسپی ہو۔ اس تاریخ سے جو درسی کتب نہیں بلکہ دنیا بھر کے اخبارات وجرائد میں لکھی جاتی ہے۔ تین مئی انیس صد ننانونے وہ تاریخ تھی جب کارگل میں جنگ کے بارے مصدقہ اطلاعات منظر عام پر آئی تھیں۔ جنرل پرویز مشرف جو اس سے پہلے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی اسی برس بیس فروری کو بس کے ذریعے پاکستان آمد کے موقعے پر اپنی غیر حاضری سے ایک پیغام دے چکے تھے بلکہ پاک فوج کے ترجمان جریدے میں بھارتی وزیراعظم کی آمد سے متعلق ایک بھی لفظ کا موجود نہ ہونا سیاسی حکومت کی خطے میں امن کے لئے کی جانے والی کوششوں بارے بھی بہت کچھ بیان کر رہا تھا۔ کہتے ہیں کہ پرویز مشرف جب آرمی چیف بھی نہیں بنے تھے تب سے ہی کارگل فتح کرنے کا پروگرام بنائے بیٹھے تھے۔انہوں نے مبینہ طور پر سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو بھی اس بارے میں ایک بریفنگ دینے کی کوشش کی تھی مگر انہوں نے اس کا متن بھانپتے ہی اسے سننے سے انکا رکر دیا تھاپرویز مشرف کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اٹل بہاری واجپائی کی آمد سے پندرہ روز قبل وزیراعظم نواز شریف کو تفصیلات سے مکمل طور پر آگاہ کر دیا تھا اور انہیں اس آپریشن کے سلسلے میں حکومت کی حمایت حاصل تھی مگر وزیر اعظم نوازشریف کے آن دی ریکارڈ بیانات کے ساتھ ساتھ واقعاتی شہادتیں بھی پرویز مشر ف کے اس دعوے کی نفی کرتی ہیں۔ یہ یقینی طور پر پرویز مشرف کا اپنا منصوبہ تھا جس میں بڑی تعداد میں معصوم پاکستانی فوجیوں کو ایک ایسے علاقے میں بھارتیوں کے محاصرے میں دے دیا گیا تھا جہاں سے بچ نکلنا ناممکن تھا۔ میں سیاست کے ایک طالب علم کے طور پر کہہ سکتا ہوں کہ جو نواز شریف بھارتی وزیراعظم کو بس میں آتے ہوئے خوش آمدید کہہ رہا ہو اس کے لئے ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ اس کے ساتھ ایک جنگ کی منصوبہ بندی کر رہا ہو۔ یہ جن صاحب کی منصوبہ بندی تھی وہ اپنے روئیے سے اس کاواضح پیغام دے چکے تھے۔کارگل کا مس ایڈونچر عملی طور پر اسی برس اکیس فروری کو ہونے والے اعلان لاہور کو دفن کردیتا ہے جس میں تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر آمادگی ظاہر کی جاتی ہے۔

مئی، جون اور جولائی پاکستان کے لئے بہت مشکل تھے، یہ درست ہے کہ پہلے دس سے پندرہ دن تک اچھی اطلاعات ملتی رہی تھیں مگر پرویز مشرف کا یہ اندازہ بھی غلط ثابت ہوا کہ بھارت کوئی غیر معمولی مزاحمت نہیں کر پائے گا۔ اگر آج بھی کوئی جذباتی ہو کے یہ کہتا ہے کہ پاکستان فوجی مداخلت کی بنیاد پر بھارت سے کشمیر چھین سکتا تھا یا دوسری طرف بھارت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر میلی نظر ڈال سکتا ہے وہ نہ صرف خود احمق ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کسی احمقوں کی جنت میں رہتا ہو۔ کارگل کی جنگ کو عمومی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا حصہ وہ ہے جب پاکستان کارگل پر قبضہ کر لیتا ہے اور بھارتیوں کو مار بھگاتا ہے ۔ اخبارات کامطالعہ بتاتا ہے کہ تین مئی سے جون کے آغاز تک مجموعی طور پر پاکستان ہی فاتح رہتا ہے ، مئی کے آخر سے جون کے وسط تک گھمسان کی جنگ جاری رہتی ہے اور پندرہ جون کو امریکی صدر بل کلنٹن کا فون موصول ہوتا ہے او رامریکہ کارگل کو بھارت کا حصہ تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت کو حکم جاری کرتا ہے کہ وہ اپنی افواج واپس نکال لے۔ مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جون کے آخر میں بھارتی فوج تین اطراف سے پیش قدمی کرتی ہے اورچار جولائی کے دن ٹائیگر ہلز پر دوبارہ قبضہ کر لیتی ہے اور اگلے ہی روز دراس کا کنٹرول بھی سنبھال لیتی ہے۔ یہاں پاکستانی فوج کو مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وزیراعظم نواز شریف ، بعض پختہ روایات کے مطابق اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی درخواست پر ، امریکہ کے صدر بل کلنٹن سے ان کی تعطیلات کے باوجود ملتے ہیں اور اس تنازعے کا آبرومندانہ حل تلاش کرتے ہیں۔ پاکستان اپنی فوج کی واپسی کا فیصلہ کر لیتا ہے اور اگلے چند دنوں میں بھارت بٹالک کی اہم پوسٹس اور پہاڑیوں کا دوبارہ قبضہ سنبھال لیتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ پرویز مشرف اور اس کے ساتھیوں کی نظر میں اس مس ایڈونچر کے ذریعے پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں کامیاب ہواہو مگر اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ اس ہائی لائیٹ ہونے والی جارحانہ پوزیشن میں وہ بہت سارے مقامات پر عالمی برادری کے سامنے دفاعی انداز میں کھڑا بھی نظر آتا ہے۔ہم بھارت کے بہت سار ے فوجی مارنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں مگر ٹائیگر ہلز پر بھارت کے قبضے کے بعد ہمارے لئے اپنے گھیرے میں آجانے والے فوجیوں کی سلامتی کے ساتھ واپسی کی راہ ہموار کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔

مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ کوئی فوج اپنی قوم سے کٹ کر کوئی جنگ نہیں جیت سکتی۔ پاکستان کی منتخب حکومت کی حیثیت اس وقت پاکستان کی فوج کے سربراہ کے تشکیل دئیے ہوئے آپریشن میں ایک تماشائی سے زیادہ کی نہیں تھی۔ یہ فاصلہ پیپلزپارٹی کے دور میں بھی بہت زیادہ تھا۔ افسوس کامقام ہے کہ ہمارے سیاستدانوں اور ہماری فوج کے سیکورٹی پیراڈائم ہمیشہ ایک دوسرے سے کافی مختلف رہے ہیں اور مجھے یہ کہنے میں بھی عار نہیں کہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کے بہت سارے منصوبوں کی حمایت محض سیاسی حکومتوں کو زچ کرنے کے لئے کرتی ہیں۔ یہ با ت مسلم لیگ نون تک ہی محدود نہیں ، ایسے واقعات پیپلزپارٹی کے دور میں بھی نظر آتے ہیں۔ مجھے اپنی سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ دونوں سے ہی عرض کرنا ہے کہ فوج ہو یا سیاستدان، ہم سب ایک ہی قوم ہیں، ہم سب نے اسی جغرافیائی حد میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا ہے جو کسی صورت بھی سات لاکھ چھیانوے ہزار پچانوے کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہے۔ تین مئی کو شروع ہونے والے مس ایڈونچر کا اختتام چھبیس جولائی کو ہوتا ہے جب بھارت کا وزیراعظم اپنے آپریشن وجے کی کامیابی کا اعلان کر دیتا ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کہ کیا ہم کارگل کے راستے پورا کشمیر فتح کرنے کی اہلیت رکھتے تھے اور اگر ایسا ہوجاتا تو شائد میںآج دو اور تین مئی کی درمیانی شام بیٹھا اپنا یہ دکھ نہ لکھ رہا ہوتا مگر تاریخ اور سیاست کا ایک طالب علم وہی کچھ بیان سکتا ہے جو اس نے دیکھا ہو، جانا ہو، پڑھا ہو۔

مزید :

کالم -