جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنیوالوں سے کوئی رعایت نہیں کی جائیگی : خواجہ عمران نذیر

جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنیوالوں سے کوئی رعایت نہیں کی جائیگی : خواجہ ...

  

لاہور(جاوید اقبال ‘شہزاد ملک ) صوبائی وزیر برائے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر خواجہ عمران نذیر نے ’’روز نامہ پاکستان کے مقبول عام پر وگرام گیسٹ آن لائن ‘‘ میں صوبہ بھر کے ضلعی مراکز صحت میں رکھے گئے سولہ سو سے زائد سیکورٹی گارڈز کو ملازمت سے برطرف کرنے کی شکایات کا نوٹس لے لیا اور ٹیلی فونک شکایات پر فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر آئی آر ایم سی ایچ پر وگرام کے دو بڑے سربراہان سمیت پوری ٹیم کو موقع پر طلب کر لیا اور انہیں حکم دیا کہ سولہ سو تو دور کی بات سولہ سیکورٹی گارڈوں کو بھی ملازمت سے کسی قیمت پر نکالا نہیں جائے گا۔ پنجاب حکومت کی یہ پالیسی ہی نہیں کہ کسی کو بے روز گار کیا جائے۔ سیکورٹی گارڈز خاطر جمع رکھیں ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی نہیں ہونے دی جائے گی۔ اس سلسلے میں متعلقہ شعبوں کے انچارجوں کوبھی اپنے دفتر طلب کر لیاہے ان سے بریفیگ لیکر رکاوٹوں کو دور کرکے آپ کی نوکریوں کا تحفظ کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’روز نامہ پاکستان کے مقبول عام پر وگرام گیسٹ آن لائن ‘‘ میں پنجاب بھر کے مختلف اضلاع بہاولپور‘سرگودھا‘ بھکر‘ سیالکوٹ‘لاہور ‘خانیوال‘قصور‘ساہیوال‘فیصل آباد‘اور مظفر گڑھ سے آنے والی سیکورٹی گارڈز کی ٹیلی فون کالز کا جواب دیتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب تو 16بندوں کو بھی نوکریوں سے نکالنے کا ارادہ نہیں رکھتی اور آپ تو پھر1600ہیں میرے علم میں یہ بات ابھی روز نامہ پاکستان کے توسط سے آئی ہے اور میں نے اس کا فوری نوٹس لے لیا ہے اور اس سلسلے میں ان متعلقہ شعبوں کے سربراہان کو طلب کر لیا ہے تاکہ ضروری تفصیلات حاصل کرکے موقع پر ہی احکامات جاری کروں گا لیکن آپ کو اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ کسی کو بھی اس کی نوکری سے نہیں نکالا جائے گا ۔ البتہ اگر کوئی قانونی رکاوٹیں درپیش ہیں تو اس کے حل کے لئے قانونی طریقہ ہی اختیار کیا جائے گا ۔مجھے اس بات کی خوشی ہوئی ہے کہ مجھ سے میرے محکمے کے متعلق ہی سوال کئے گئے ہیں۔ دعوے سے کہتا ہوں کہ پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ و تحصیل لیول کے ہسپتالوں کی حالت بہتر کردی اور انہیں ضروری فنڈز بھی فراہم کر دئیے گئے ہیں اب ہنگامی کاموں کے لئے انہیں ہماری طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے اس فنڈز کا آڈٹ بھی کروایا جائے گا اور ان سے ضروری اشیاء بھی خریدی جارہی ہیں ۔ صوبائی وزیر نے کالرز کے سوالات کے کھل کر جواب دئیے۔ مختلف فارماسسٹوں کی شکایات پر خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ تمام ڈسٹرکٹ و تحصیل ہسپتالوں میں ان کا جائز مقام دیا جائے گا فارماسسٹ ڈسپنسر کلرک نہیں ان کا کردار ڈاکٹرز کے برابر ہے۔ بھکر اور بہاولپورسے ڈاکٹر عظمیٰ ارشاد ‘ڈاکٹر اومان اقبال بلوچ کے سوالات کے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ دنیا میں فارماسسٹ کا جو کردار اور مقام ہے ہم پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے مراکز صحت میں اس کے برابر مقام دیں گے اس کے لئے فارمیسی کا الگ سے شعبہ قائم کیا گیا ہے جس کا سربراہ ایک ایڈیشنل سیکرٹری کو لگایا گیا ہے ۔بعد ازاں روز نامہ پاکستان کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ محکمہ صحت کو دو حصوں میں تقسیم کرنا وزیر اعلیٰ پنجاب کا ایک اچھا فیصلہ ہے جس سے بہت بہتری آ رہی ہے ڈسٹرکٹ و تحصیل ہسپتالوں میں معیاری کمپنیوں کی وہ ادویات فراہم کی گئی ہیں جو میں ‘وزیراعلیٰ اور اشرافیہ بھی استعمال کرتی ہے ۔ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو عالمی معیار کے مطابق بنایا گیا ہے۔ لاہور کی ڈی ٹی ایل کسی بھی وجہ سے عالمی معیار سے کم نہیں ہے ۔ایک سوال کے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ ڈسٹرکٹ و تحصیل ہسپتالوں میں ہیلتھ کونسلیں قائم کی گئی ہیں ان کو با اختیار بنایا جارہا ہے ہر کونسل کو 50لاکھ کا فنڈز دیا گیا ہے جو کہ تعمیر ومرمت اور خراب مشینری کو درست کرنے کے لئے ایک منٹ ضائع کئے بغیر خرچ کیا جا سکتا ہے ۔ بنیادی مراکز صحت سے لیکر ڈسٹرکٹ ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نرسوں اور پیرا میڈیکس کی کمی کو پورا کیا گیا ہے ۔ پنجاب کے ترمیمی ڈرگ ایکٹ 2017میں بعض تبدیلیاں کی گئی ہیں کیمسٹ کے حوالے سے ایکٹ میں شامل کی گئی سزاؤں اور جرمانوں میں کمی کی گئی ہے تاہم جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنے والوں سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی یہ ایکٹ جون سے پہلے لاگو ہو جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں کو پرائیوٹ سیکٹر کے حوالے مکمل طور پر نہیں کیا جارہا انتظامی امور میں ہی شراکت داری کی گئی یہ مقابلے کا رجحان ہے جس سے ہسپتالوں میں بہتری آئے گی۔انہوں نے کہا کہ 2017-18کے لئے صحت کا بجٹ صوبے کی تاریخ کا ایک سب سے بڑا بجٹ ہو گا اس سے صحت کے شعبے میں انقلاب آ جائے گا۔

مزید :

صفحہ اول -