باردانہ اجرا میں بے ضابطگیاں، ٹال مٹول، فی بوری 3سے 4کلو کٹوتی

باردانہ اجرا میں بے ضابطگیاں، ٹال مٹول، فی بوری 3سے 4کلو کٹوتی

  

ملتان،خانیوال،ٹبہ سلطان پور،شاہ جمال،بستی اللہ بخش،کوٹ سلطان،منڈی یزمان(سپیشل رپورٹر، نمائندگان)باردانہ اجرا میں ٹال مٹول چہیتوں کو نوازے جانے فی بوری3سے4کلو کٹوتی اور دیگر بے ضابطگیوں کے باعث گندم خریداری کا بحران شدت اختیار کرگیا کسان اپنا باردانہ آڑھتیوں،بیوپاریوں اور مڈل مینوں کو فروخت کرنے لگے اس سلسلے میں ملتان سے سپیشل رپورٹر کے مطابق حکومت پنجاب کی ناقص گند م خریداری پالیسی کے باعث محکمہ خوراک کے خریداری مراکز پر تعینات عملے کی لوٹ مار کابازار گرم ہوگیاہے ان پڑھ کسانوں کو خریداری عمل شروع ہونے کے باوجود اپنی موضع کی بار ی کا انتظار کروایا جارہا ہے اس ضمن میں گندم خریداری مرکز لاڑ میں 25 سے زائد مواضعات کوشامل کردیا گیاہے جس کی وجہ سے ابھی تک ہزاروں کسانوں کو ابھی تک باردانہ کی ایک قسط جاری نہیں ہوسکی ہے اسی طرح گندم کے نرخوں کابحران پید اکردیا گیاہے گندم ساڑھے 11سوروپے سے لے کر 12سوروپے فی من تک خریدکی جارہی ہے جس سے کسانوں کوفی من ڈیڑھ سوروپے فی من خسارہ دیا جارہا ہے اس کے ساتھ ساتھ گندم خریداری مراکز پر فی بوری تین سے چار کلو کٹوتی بھی کھلے عام کی جارہی ہے بلوں کی ادائیگی میں کمیشن بھی الگ سے وصول کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے کسانوں کوگندم خریداری سنٹروں پر 11سوروپے فی من گندم پڑرہی ہے اس حوالے سے سنٹرکوآرڈینیٹرز کاکہنا ہے کہ محکمہ خوراک اور مال کی غلط حکمت عملی کی وجہ سے کرپشن کابازار گرم ہوگیا ہے ان کا کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ وہ تو فراہم کردہ فہرستوں اور ٹارگٹ کے مطابق باردانہ فراہم کررہے ہیں مگر رش زیادہ ہونے کے باعث کاشتکار وں کو بار دانہ کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔تاہم دوسری جانب گند م کے کا شتکار وں نے خریداری مراکز پر ہونے والی تذلیل کے پیش نظر گند م خریداری مراکز کا رخ کر نا چھوڑ دیا ہے اور وہ اپنا باردانہ آڑھتیوں بیوپاریوں کو فروخت کرنے پر ترجیع دے رہے ہیں ۔خانیوال سے بیورو نیوز کے مطابق گندم سنٹر اڈا نیازی چوک پر تعینات فوڈ انسپکٹر ملک آصف اور کوآر ڈینیٹر عمران طارق نے کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ کر کرپشن کے بے تاج بادشاہ بن گئے ۔ علاقہ کے غریب کسانوں کو باردانہ دینے کی بجائے بیوپاریوں کو خوش کرنے لگے اور انہیں باردانہ فراہم کرنے لگے ۔ٹبہ سلطان پور سے نمائندہ پاکستان کے مطابق پاسکو مراز پر پاسکو حکام نے گندم کی سرکاری ریٹ پر خریداری نہ کر نے کے نئے نئے بہانے تلاش کرنے لگے پاسکو حکام نے باردانہ کی فراہمی اور بینک ڈراف حاصل کر نے کے لیے گندم کے کاشتکاروں کو آبیانہ اور زرعی ٹیکس اداگئی کی رسیدیں فراہمی کر نا لازمی قرار دے دیا آبیانہ اور رسیدیں نہ دینے والوں باردانہ اور بینک ڈراف نہیں دئیے جائیں گے کاشتکاروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مستاجروں کے لیے زمین مالکان کی جانب سے اسٹام پیپر اور شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی فراہم کرنے کی شرط عائد کی تھی جس کے بعد اب نئی شرائط بھی لگادی گئی ہے کاشتکاروں نے کہا کہ یہ صرف او ر صرف کاشتکاروں سے گندم نہ خریدنے کا ایک بہانہ ہے اب تک پاسکو حکام اور حکو مت کی جانب سے گندم کے کاشتکاروں کو باردانہ حاصل کرنے کوئی سہولت نہیں دی جس کے باعث کاشتکار مجبوراََ بیوپاریوں کو فی من11سو روپے گندم فروخت کرنے پر مجبور ہیں ۔شاہ جمال سے نمائندہ پاکستان کے مطابق کسان کی نشان دہی پر ڈائریکٹر انٹی کرپشن ڈیرہ غازیخان ڈویژن کا فوڈ سنٹر شاہجمال پر چھاپہ، کاشتکاروں کے نام ایشو کیا گیاہزاروں کی تعداد میں باردانہ، رقبہ میں گنا کاشت تحقیقات جاری ۔ موضع دانڑیں کے کا شت کار سید جمیل شاہ نے ڈ ائریکٹر انٹی کرپشن ڈی جی خان ڈویژن کو دی گئی درخواست میں موء قف اختیار کیا کہ فوڈ سنٹر شاہجمال میں گندم کی کاشت کم اور بار دانہ زیادہ تعداد میں کاشتکاروں کی ببجائے مڈل مین میں تقسیم کیا جا رہا ہے جس پر ڈائریکٹر انٹی کرپشن امجدشعیب خان ترین نے سی او مظفر گڑھ صفدر محمود ماہڑہ،ٹیکنیکل آ فیسریاسر ملک،اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل فیصل الیاس اور ہمراہ مکمل ٹیم چھاپہ مارا ان کے ابتدائی بیان کے مطابق کہ خسرہ گرداوری میں بڑے پیمانے پر غلط اندراج کر کے غیر کاشتکاروں کو باردانہ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ شاہجمال اور متعلقہ قانون گوئی میں کاشتہ گندم سے کئی گنا زیادہ گندم کاشتہ رقبہ ظاہر کر کے مڈل مین کو بار دانہ فراہم کیا جا رہا ہے انہوں نے مزید بتایا کہ حیات محمد نامی شخص سعودی عرب میں مقیم اور تاج محمد نامی شخص ہسپتال میں داخل جبکہ ان کے ظاہر کیئے گئے رقبہ میں گندم کی بجائے گنا کاشت ہے رؤ ف نامی شخص نے جعلی اسٹامپ پیپر پر باردانہ وصول کر چکا ہے امجد شعیب ترین کے سوال پر پٹواری رانا کاظم نے اعتراف کیا کہ خسرہ گرداوری کا اندراج تک نہ کیا گیا ہے ،جس پر انہون بڑی مقدار میں بے قاعدگیوں کے خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا آ غاز کر دیا ہے ۔بستی اللہ بخش سے نامہ نگار کے مطابق پاسکو سنٹررکن والی کرپشن کا سنٹر بن چکا ہے ۔ بار دانہ کی آڑ میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری ۔ پاسکو سنٹر انچارج رکن والی کے انچارج ملک مشتاق نے بڑی دولت کمانے کی ٹھان لی اور حکومت کو کرپشن کا ٹیکہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ کسانوں اور چھوٹے کاشتکاروں کا سنٹر انچارج ملک مشتاق خیخلاف شدید احتجاج ۔ پاسکو سنٹر رکن والی لوٹ مار کا مرکز بنا ہوا ہیاور غیر مستحق لوگوں کو کرپشن کی آڑ میں بار دانہ دیا جا رہا ہے ۔ پاسکو سنٹر انچارج ملک مشتاق کا مؤقف کاشتکاروں کیمطابق سنٹر انچارج ملک مشتاق ایک بد عنوان اور کرپٹ ہے جو بار دانہ کی آڑ میں بلیک منی لاکھوں روپے کالا دھن وصول کر چکا ہے ۔ بار دانہ صرف بنڈا اسحاق اور کلر والی کے زمینداروں کو دیا گیا ہے ۔ جس میں حکومتی پالیسیوں میں کسان دوست ختم کر کے لوٹ کا ریکارڈ توڑ چکا ہے ۔ کوٹ سلطان سے نامہ نگار کے مطابق پاسکو مرکز خریداری پہاڑ پور میں بے ضابطگیوں کا انکشاف ،کاشتکاروں کا شدید احتجاج ،کاشتکاروں ابرار احمد ،محمد اسمعیل ،سلیمان احمد ،غلام رسول ،اللہ بخش ،سعید اللہ ،محمد اقبال ،رمضان احمد ،اللہ وسایا ،محمد اسد اللہ اور خلیل احمد نے بتایا کہ پرچیز انسپکٹر محمد عمران نے آڑھتیوں سے ایکا کر رکھا ہے جنہیں کاشتکار ظاہر کر کے انہیں باردانہ فراہم کیا جارہا ہے جبکہ حقیقی کاشتکاروں کو زلیل و خوار کیا جا رہا ہے۔منڈی یزمان سے نامہ نگار کے مطابق خر یدار ی مرا کز پر لمبی لمبی قطا رو ں اور با ر دا نے کے حصو ل میں در پیش مشکلات سے پریشا ن کسا نو ں نے اپنی گندم کھلی ما رکیٹ میں فروخت کر نا شرو ع کر دی ہے سر کا ری خرید ار ی مراکز پر گند م کی امدادی قیمت 1300رو پے فی من مقرر کی گئی ہے ۔جب کہ کسا نو ں کو مجبورا اس کے بر عکس کھلی ما رکیٹ میں 1150رو پے فی من کے حسا ب سے گندم فروخت کر نا پڑ رہی ہے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -