ضلع کونسل چارسدہ ، حکومتیاور اپوزیشن ارکان کا ناقص بلدیاتی نظام کیخلاف واک آؤٹ

ضلع کونسل چارسدہ ، حکومتیاور اپوزیشن ارکان کا ناقص بلدیاتی نظام کیخلاف واک ...

  

چارسدہ(بیورو رپورٹ) ضلع کونسل چارسدہ کا ہنگامہ خیز اجلاس ۔اپو زیشن اور حکومتی ارکان کا ریاستی اداروں اور ناقص بلدیاتی نظام کے خلاف واک آوٹ ۔ مصالحتی کمیٹی کی اپیل کے باوجود اپو زیشن نے اجلاس سے بائیکاٹ ختم نہ کیا تو سپیکر نے 18ممبران سے اجلاس کی کاروا ئی دوبارہ شروع کی ۔ریاستی ادارے منتخب بلدیاتی نمائندوں کا مذاق اڑا رہے ہیں جس کی وجہ سے گلی کوچوں میں ممبران کا مذاق اُڑا یا جا رہا ہے ۔ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر گزشتہ تین مہینے سے اجلاس طلب نہیں کیا گیا مگر ضلع ناظم ، ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرکے اپنے لئے ڈے نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کر رہے ہیں۔ اپو زیشن لیڈر قاسم علی خان محمدزئی ۔ تفصیلات کے مطابق ضلع کونسل چارسدہ کا اجلاس زیر صدارت کنوینر حاجی مصور شاہ منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن پاک کے بعد سپیکر نے ایجنڈے پر کار وائی شروع کی تو ا پو زیشن لیڈر قاسم علی خان محمد زئی نے پہلے تقریر کر تے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو سالوں سے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو کھلونا بنا کر مذاق اڑایا جا رہا ہے ۔ ریاستی ادارے منتخب نمائندوں کو گھاس نہیں ڈالتے اور جائز کاموں میں بھی روڑے اٹکا ئے جا ر ہے ہیں۔ صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام کے حوالے سے خوشنماء اور بلند بانگ دعوے کرکے اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کا اعلان کیا مگر آج بلدیاتی نمائندے چپڑاسی تک تبدیل نہیں کر سکتے ۔ گزشتہ بجٹ کے پیسے ابھی تک ممبران کو نہیں ملے جس کی وجہ سے کوئی ترقیاتی کام ہو رہا ہے اور نہ بلدیاتی نمائندوں کو تنخواہیں مل رہی ہے ۔ پولیس اور دیگر ریاستی ادارے منتخب نمائندوں کو بے عزت کر رہے ہیں مگر کوئی پو چھنے والا نہیں۔ ضلع کونسل کے تمام اراکین جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردی کے خلا ف پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور پولیس کی قر بانیوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے مگر ڈی پی او سمیت پولیس افسران بلدیاتی نمائندوں کو کھلونے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔ انہوں نے بجلی لوڈ شیڈنگ پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ عوام بغاوت پر اتر آئے ہیں اور ایسا نہ ہو کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو چھوڑ کر پولیس عوام کے ساتھ بر سر پیکار ہو جائے ۔ اپوزیشن لیڈ ر قاسم علی خان نے تقریر ختم کر تے ہی موجودہ بلدیاتی نظام اور ریاستی اداروں کے رویوں کے خلاف اجلاس سے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو حکومتی اور اپو زیشن تمام ممبران اسمبلی ہال سے چلے گئے ۔ بعد ازاں مصالحتی کمیٹی نے اپو زیشن کو بائیکاٹ ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے جس کے بعد سپیکر نے 75رکنی ایوان کی کاروائی 18ممبران سے شروع کی ۔ دوبارہ اجلاس شروع ہو ا تو قومی وطن پارٹی کے پارلیمانی لیڈر پیر رحمان اللہ اور جماعت اسلامی کے مکرم خان نے کونسل سے واک آوٹ کرنیوالے اراکین کو کو آڑھے ہاتھو ں لیا۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر پر ذاتی مفاد کے حصول کے لئے اجلاس سے واک آوٹ کے الزامات لگا دیئے۔کونسل کا اجلاس عوام کی فلاح و بہبود اور عوامی مسائل کے حل کے لئے طلب کیا جاتا ہے لیکن یہاں پر بعض اراکین اجلاس کو ذاتی مفاد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ قاسم علی محمدزئی نے دو سال قبل کونسل کے پہلے اجلاس میں بھی اپوزیشن اراکین کو ذاتی مفاد کے لئے استعما ل کرکے واک آوٹ کی روش احتیار کی تھی او ر جب ضلع ناظم نے ان کو حصوصی فنڈ جاری کئے تو و ہ دوبارہ اجلاس میں بیٹھ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو صحیح معنوں میں اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کرنا چاہئے اور آئندہ کے لئے کسی بھی جماعت کے اراکین کونسل سے واک آوٹ کرنے سے قبل عوامی مفادات کو ترجیح دیا کریں۔ اجلاس سے دوسرے اراکین نے بھی خطا ب کیا جنہوں نے ضلعی نائب ناظم کی جانب سے تین ماہ کے وقفے سے اجلاس بلانے کی مذمت کی اور کہا کہ ضلعی چارسدہ میں لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرکے ڈپٹی کمشنر ، ضلع ناظم اور ڈی پی او کی درمیان دن رات کرکٹ ٹورنامنٹ کھیلا جا سکتا ہے لیکن جب عوام کی فلاح کے لئے کونسل کا اجلاس طلب کیا جا تا ہے تو امن و امان کو بہانہ بنا کر عوامی مینڈیٹ کی توہین کی جاتی ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -