کنری تھانے میں پولیس اہلکاروں کو گالیاں دینے پر نشے میں دھت پی ٹی آئی رہنما زید تالپور کی گرفتاری ورہائی، مقدمہ درج، حسن تالپور زیرحراست

کنری تھانے میں پولیس اہلکاروں کو گالیاں دینے پر نشے میں دھت پی ٹی آئی رہنما ...
کنری تھانے میں پولیس اہلکاروں کو گالیاں دینے پر نشے میں دھت پی ٹی آئی رہنما زید تالپور کی گرفتاری ورہائی، مقدمہ درج، حسن تالپور زیرحراست

  

عمر کوٹ  (ویب ڈیسک ) کنری تھانے میں گھس کر پولیس افسران و اہلکاروں کو گالیاں دینے اور تھانیدار کو نیچے بیٹھنے کے احکامات دینے والے  پی ٹی آئی رہنما زید تالپور کو نشے سے مسرور حالت میں گرفتار کرکے حوالات میں بند کر دیا گیا تاہم ڈیڑھ گھنٹے بعد اہم سیاسی شخصیت کی مداخلت پر انہیں رہا کر دیا گیا تھا ،تازہ ترین اطلاعات کے مطابق زید تالپور کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگنے والے ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کو معطل کردیا گیا جبکہ زید تالپور سمیت پانچ افراد کیخلاف مقدمہ درج کرکے زید تالپور کے صاحبزادے حسن تالپور کو گرفتار کرکے حوالات میں بند کردیا گیا، ایس ایس پی عمر کوٹ نے بتایاکہ ملزمان کو گرفتار کرکے اس کیس کو مثال بنائیں گے ۔ 

تفصیلات کے مطابق  تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے زید تالپور پیپلز پارٹی کے ایم این اے نواب یوسف تالپور کے بھتیجے ہیں جو نشے میں دھت ہوکر اپنے ساتھیوں سمیت تھانہ کنری پہنچ گئے اور ایس ایچ او کی کرسی پر براجمان ہوکر گالم گلوچ شروع کردی اور ایس ایچ او ہاتھ جھوڑتا رہ گیا، زید تالپور نے ایس ایچ او کو حکم دیا کہ سامنے نیچے بیٹھ جائے ۔ ایس ایچ او کنری تصور حسین جٹ نے بتایا کہ نواب زید تالپور نشے میں دھت تھے انہوں نے تھانے میں آکر مجھ سمیت تما م پولیس افسران کو گالیاں دیں۔

دوسری جانب زید تالپور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پی ٹی آئی کارکن کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے معلومات لینے گیا تھا ، پیپلزپارٹی کی بااثر شخصیت کے کہنے پر گرفتار کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ویڈیو دیکھئے 

دوسری طرف زید تالپور کے سامنے کمزوری دکھانے پر ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کنری کو معطل کردیا گیا اور ایس ایس پی عمر کوٹ نے بتایاکہ دونوں افراد کو حقائق چھپانے پر معطل کیاگیا۔ زید تالپور کیساتھ دیگر افراد بھی موجود تھے جن کیخلاف مقدمہ درج کرلیاگیا اور زید تالپور کا بیٹا حسن تالپور پولیس کی حراست میں ہے ۔ یادرہے کہ اس سے قبل ڈی ایس پی کنری کا موقف تھا کہ ایس ایچ او نے معاملے کو بخوبی سلجھایا کیونکہ اگر زید تالپور سے معافی مانگنے کی بجائے اسی کی زبان میں جواب دیا جاتا تو پھر ایس ایچ او اور زید تالپور میں فرق باقی نہ رہتا۔

مزید :

عمرکوٹ -