”کوئی ڈاکو آئے تو اسے یہ بتا دیناکہ۔۔۔“ کراچی کی مختلف کمپنیوں کا ڈاکوﺅں کیساتھ ”تاریخی“ معاہدہ، شہر قائد میں ایسا کام ہو گیا کہ سیکیورٹی ایجنسیز کی بھی پریشانی کی حد نہ رہے گی

”کوئی ڈاکو آئے تو اسے یہ بتا دیناکہ۔۔۔“ کراچی کی مختلف کمپنیوں کا ڈاکوﺅں ...
”کوئی ڈاکو آئے تو اسے یہ بتا دیناکہ۔۔۔“ کراچی کی مختلف کمپنیوں کا ڈاکوﺅں کیساتھ ”تاریخی“ معاہدہ، شہر قائد میں ایسا کام ہو گیا کہ سیکیورٹی ایجنسیز کی بھی پریشانی کی حد نہ رہے گی

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) شہر قائد کے باسیوں کی زندگی میں بھتہ خوری ایک شرمناک پہلو ہے اور ایسا لگتا ہے کہ کراچی کے رہنے والے کبھی بھی اس سے جان نہیں چھڑا پائیں گے۔

ٹروکالر کی نئی ایپلیکیشن متعارف، گوگل ڈو کیساتھ انضمام کا بھی اعلان

رینجرز کے آپریشن سے پہلے بھتہ خوری عروج پر تھی اور کئی سیاسی جماعتوں کے کارندے بھتہ خوروں کو تحفظ فراہم کر تے تھے لیکن اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ ’خودمختار‘ جرائم پیشہ افراد نے شہر کے مختلف علاقوں سے بھتہ اکٹھا کرنے کیلئے اپنے گروہ بنا لئے ہیں تاکہ سٹریٹ کرائمز کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

سیکیورٹی ادارے کراچی کی گلیوں میں ہونے والے جرائم کی لعنت پر قابو پانے میں بڑی حد تک ناکام ہو گئے ہیں تاہم اب جرائم پیشہ مافیا خود ہی ”مہربان“ بن گیا ہے اور تحفظ کا نیا”سسٹم“ متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت آپ کسی بھی جگہ پر لٹنے سے بچ سکتے ہیں۔

انکشاف ہوا ہے کہ کراچی کے مختلف علاقوں بالخصوص سلطان آباد، کیماڑی، کلفٹن، کھارادر، میٹھا در اور فیڈرل بی ایریا میں ٹریڈرز اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا جرائم پیشہ افراد کیساتھ ”تحفظ“ کیلئے ایک معاہدہ طے پایا ہے۔

معاہدہ کرنے والی کمپنیاں ڈسٹری بیوشن کے مقصد کیلئے استعمال ہونے والی اپنی ہر گاڑی کے بعد جرائم پیشہ افراد کو مقررہ رقم فراہم کر رہی ہیں اور اس کے بدلے میں مذکورہ کمپنیوں کے ڈرائیورز سمیت عملے کے تمام افراد کو”امن“ اور اس طرح کے مختلف کوڈ ورڈز فراہم کئے گئے ہیں۔

کسی ڈاکو کی جانب سے عملے کے افراد سے رقم لوٹنے کی کوشش پر اسے کوڈ ورڈ بتایا جائے گا جس کے درست ہونے کی صورت میں اسے ”باعزت“ طریقے سے جانے کی اجازت دیدی جائے گی۔ اس طرح کی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں سے ایک کے اعلیٰ افسر نے بتایا کہ ”عملے کے افراد کو ڈکیتی کے دوران اپنا کوڈ ورڈ بتانا ہے، پھر کوئی انہیں چھوئے گا بھی نہیں۔“

انہوں نے مزید کا کہ اگر کمپنی میں کام کرنے والے کسی شخص کو کوڈ ورڈ بتانے کے باوجود بھی لوٹ لیا جاتا ہے تو وہ اس علاقے میں جرائم پیشہ مافیا کے سربراہ کے ذریعے اپنی رقم اور دیگر قیمتی اشیاءواپس حاصل کر سکے گا۔

ٹریڈرز کے مطابق مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے سربراہان نے ہر گاڑی کیلئے مختلف رقم مقرر کی ہے جو 500 روپے سے لے کر 5000 روپے تک ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والی زیاد ہ تر ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نے جرائم پیشہ گروہوں کی جانب سے رابطہ کئے جانے پر تحفظ حاصل کرنے کیلئے معاہدہ کر لیا ہے۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

سلطان آباد کی ایک کمپنی میں کام کرنے والے شخص اکبر نے نجی ٹی خبر رساں ادارے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”میں ایک پرائیویٹ ڈسٹری بیوشن کمپنی میں کام کرتا ہوں۔ ہماری گاڑی تقریباً 20 لاکھ روپے کیش کے ساتھ ہفتے میں تین مرتبہ کیماڑی کے علاقے میں سلطان آباد میں سفر کرتی ہے۔ ہمارے ساتھ کوئی مرتبہ واردات ہو چکی ہے اور پولیس ہمیں تحفظ دینے اور اس طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے اپنا کردار ادا نہیں کرتی، اس لئے ہم نے ان جرائم پیشہ افراد کیساتھ معاہدہ کیا جنہوں نے ”تحفظ“ دینے کیلئے ہم سے رابطہ کیا۔“

مزید :

کراچی -